• Fri, 16 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

قرآن ہمارے لئے بھی نفع بخش بن سکتا ہے

Updated: January 16, 2026, 7:45 PM IST | Professor Najeebul Haq | Mumbai

جب ہم قرآن پرصدق دل سے ایمان لے آئیں گے اور اسے پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کو اپنی زندگی کی اوّلین ترجیحات میں رکھیں گے، تب ہی اس صراطِ مستقیم کو پا سکیں گے جس کو پانے کی ہم نماز میں روزانہ کم از کم ۳۲ ؍مرتبہ اللہ سے دعا مانگتے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

قرآن فہمی میں درپیش مشکلات: کسی بھی کام کو شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کا حکم دیا گیا مگر قرآن پڑھنے سے پہلے بسم اللہ کے ساتھ تعوذ پڑھنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ سورئہ نحل میں ارشاد ہے:
’’ پھر جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطانِ رجیم سے خدا کی پناہ مانگ لیا کرو۔‘‘(النحل :۹۸)
اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ شیطان کسی بھی شخص کو قرآن پڑھنے اور سیکھنے سے روکنے کا ہرممکن حربہ استعمال کرتا ہے مگر جب ہم اللہ کا کلام شروع کرنے سے پہلے اعوذ باللہ بھی پڑھ لیں تو شیطان کا یہ حملہ ناکام بنایا جا سکتا ہے۔شیطان کی کوشش ہمیشہ یہ رہتی ہے کہ وہ لوگوں کو نیک کاموں سے روکے خصوصاً قرأ تِ قرآن جیسے کام سے، جو کہ نیکیوں کا سرچشمہ ہے اسے وہ کب ٹھنڈے دل سے گوارا کرسکتا ہے۔ ضرور اس کی کوشش ہوگی کہ مومن کو اس سے باز رکھے۔ اور وہ یعنی بندۂ مومن سرچشمۂ ہدایت سے مستفید ہونے میں کامیاب نہ ہو، تو وہ ایسی آفات میں مبتلا کردے جو قرأ تِ قرآن کا حقیقی فائدہ حاصل ہونے سے مانع ہوں۔ (تفسیر عثمانی)۔ یاد رکھنا چاہئے کہ شیطان عموماً تین طریقوں سے انسان کو قرآن پڑھنے اور سیکھنے سے روکتا ہے:
(۱) قرآن پڑھنے اور سیکھنے کے لئے جب ہم بیٹھتے ہیں تو عین اسی وقت کوئی ایسا دنیاوی کام یاد دلاتا ہے جس کے کرنے کی اہمیت اور ضرورت کو اتنا زیادہ کردیتا ہے کہ انسان قرآن سیکھنے کو چھوڑ کر اس کام کے پیچھے لگ جاتا ہے۔
(۲) شیطان بعض اوقات دنیاوی کام کو بھی اس طرح دکھانے کی کوشش کرتا ہے کہ یہ بھی تو دین ہی کا ایک کام ہے اور پھر بندہ اس خوب صورت دام میں پھنس کر دین کا اصل کام، یعنی قرآن سیکھنے اور اس پر عمل کرنے سے دور ہوتا جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم دین کا کام کر رہے ہیں لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ہوتا۔ ہر شخص اپنے دل کو ٹٹول کر جائزہ لے سکتا ہے کہ میں یہ کام اللہ کی رضا کیلئے کر رہا ہوں یا دنیاوی مفاد کی خاطر۔ سورئہ کہف میں ایسے ہی کاموں کے بارے میں ارشاد ہوا ہے، ترجمہ: ’’ اے نبیؐ ان سے کہو، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں؟ وہ (لوگ) کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں۔ ‘‘ (الکہف :۱۰۳-۱۰۴)

یہ بھی پڑھئے: کیا جسم لرز اُٹھا؟ رونگٹے کھڑے ہوئے؟ چشم نم ہوئی؟

 سورئہ زخرف (آیت: ۳۶-۳۷)میں ارشاد ہواہے :
’’ جو شخص رحمٰن کے ذکر سے تغافل برتتا ہے ، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں اور وہ اس کا رفیق بن جاتا ہے۔ یہ شیاطین ایسے لوگوں کو راہ راست پر آنے سے روکتے ہیں، اور وہ اپنی جگہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک جا رہے ہیں۔‘‘
رحمٰن کے ذکر سے مراد اس کی یاد بھی ہے، اس کی طرف سے آئی ہوئی نصیحت بھی  ہے، اور یہ قرآن بھی ہے۔
(۳) شیطان کا تیسراحملہ یہ ہے کہ دین ہی کی راہ سے کوئی ایسے دوسرے کام سامنے لے آتا ہے اور ان کو ایسا خوش نُما بنادیتا ہے کہ ہم ان کاموں میں لگ کر قرآن سیکھنے کو اپنی ترجیحات میں نچلے درجے پر لے جاتے ہیں  اور یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ اللہ کا وہ واحد کلام ہے جو من و عن لفظاً لفظاً قیامت تک تمام انسانوں کی ہدایت کیلئے محفوظ کردیا گیا ہے اور جس میں اللہ ہم ہی سے مخاطب ہے۔ اس کو سمجھنے اور سیکھنے کی کوشش کئے بغیر ہم کیسے صراطِ مستقیم کو پاسکتے ہیں؟ وہی صراطِ مستقیم، جس کا ذکر قرآن مجید کی پہلی ہی سورہ (سورئہ فاتحہ) میں کیا گیا ہے اور ہم اپنی نمازوں میں روزانہ کم از کم ۳۲؍ مرتبہ اللہ سے اس راہِ ہدایت کا سوال کرتے ہیں اور جس کے جواب میں اللہ نے پورا قرآن اتارا ہے۔ اس میں اس راستے کو وضاحت سے کھول کھول کر روشن نشانیوں کے ساتھ بیان کر دیا ہے تاکہ ہم اس پر عمل کر کے اس صراط مستقیم کو پا لیں اور دنیا اور آخرت کی کامیابی حاصل کر لیں۔ جب ہم قرآن پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کو اپنی زندگی کی اوّلین ترجیحات میں رکھیں گے،  تب ہی اس صراطِ مستقیم کو پا سکیں گے جس کو پانے کی ہم نماز میں روزانہ کم از کم ۳۲ ؍مرتبہ اللہ سے دعا مانگتے ہیں۔ 
ہمارا کام اخلاص سے قرآن سیکھنے کی کوشش کرنا ہے تاکہ اپنی زندگی اس کی تعلیمات اور ہدایات کے مطابق گزار سکیں۔ یہ فکر تو ہمیں یقیناً ہونی چاہئے کہ ہم قرآن کتنا سیکھ پائے اور اس پر کتنا عمل کیا؟ لیکن ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ہماری ذمہ داری کوشش کرنا ہے نتیجہ  اللہ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ کس کو کتنا عطا فرماتا ہے۔ اجر کا تعلق نیت اور کوشش سے ہے،  نتائج سے نہیں۔
 حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قرآن کو مہارت کے ساتھ پڑھتا ہے تو وہ بڑی عزت والے فرشتوں اور نبیوں کے ساتھ ہوگا۔ جس کیلئے قرآن پڑھنا مشکل ہو اور پھربھی محنت کرتا رہا تو اس کیلئے دُہرا اجر ہوگا۔ ایک قرآن پڑھنے کا دوسرا اس پر محنت کرنے کا۔(سنن ابوداؤد)

یہ بھی پڑھئے: جب ماں کا شعور بیدار ہو تو وہ آنے والے زمانوں کی فکری لکیر کھینچ دیتی ہے

موجودہ صورتِ حال کا علاج: موجودہ حالات کا واحد علاج یہی ہے کہ ہم اللہ کی کتاب کی طرف پلٹ آئیں اور اس کو  سمجھ کر پڑھنا اپنے اوپر لازم کر لیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اللہ کے رسولؐ  کے اس فرمان کی زد میں آجائیں جس میں آپؐ   نے بعد میں آنے والے لوگوں کے حالات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ:’’ آخری زمانے میں یا اس امت میں ایسی قوم نکلے گی کہ وہ قرآن پڑھے گی لیکن قرآن اس کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا۔ ‘‘ (سنن ابنِ ماجہ) ایسی قوم کے لوگوں کو آپؐ  نے ’’ شرارالخلق‘‘ قرار دیا۔
اسیرِ مالٹا مولانا محمود حسن ؒنے لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی موجودہ پستی کے دو ہی سبب ہیں: ترکِ قرآن اور باہمی اختلاف۔  اس کا علاج صرف یہی ہے کہ قرآنی تعلیمات پر لوگوں کو جمع کیا جائے اور اس کی تعلیم عام کی جائے۔ گویا امت کے اختلاف کو ختم کرنے کا نسخہ بھی صرف قرآن ہی ہے۔ یہ بات شاید انہوں نے حارث بن عبداللہ اعورؓ کی درج ذیل حدیث کی بنیاد پہ کہی ہو جو انہوں نے امیرالمومنین حضرت علیؓ کے حوالے سے بیان کی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے پاس جبریل ؑ آئے اور کہنے لگے کہ اے محمدؐ!آپؐ کی امت آپؐ کے بعد اختلافات میں پڑ جائے گی۔ میں نے پوچھا کہ جبریل ؑ! اس سے بچاؤ کا راستہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: قرآن کریم۔ اسی کے ذریعے اللہ ہرظالم کو تہس نہس کریگا۔ جو اس سے مضبوطی کے ساتھ چمٹ جائیگا وہ نجات پا جائیگا اور جو اسے چھوڑ دے گا وہ ہلاک ہو جائیگا۔ یہ بات انہوں نے دو مرتبہ کہی۔ پھر فرمایا کہ یہ قرآن ایک فیصلہ کن کلام ہے۔ یہ کوئی ہنسی مذاق کی چیز نہیں ہے، زبانوں پر یہ پرانا نہیں ہوتا، اس کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے، اس میں پہلوں (پہلے کے لوگوں) کی خبریں ہیں،  درمیان کے فیصلے ہیں اور بعد میں پیش آنے والے حالات ہیں۔ (متفق علیہ )

یہ بھی پڑھئے: اختلاف میں علمی و اخلاقی توازن قائم رکھئے

آج ہم قرآن سنتے اور پڑھتے ہیں لیکن یہ ہماری زندگی میں تبدیلی کا باعث نہیں بن رہا ہے۔ رسولؐ اللہ کے زمانے میں عرب کے ان پڑھ بدو بھی جب قرآن سنتے تو ان کے جسم کانپنے لگتے اور آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے تھے۔ وہ اسے اپنی زندگی سے متعلق پاتے تھے اور اس پر عمل کرکے ایک نئی زندگی کا آغاز کرتے تھے۔ اسی قرآن کی برکت سے بکریاں اور اونٹ چرانے والے یہ لوگ انسانیت کے رہنما بن گئے۔ آج وہی قرآن لفظ بہ لفظ ہمارے درمیان موجود ہے۔ درجنوں  زبانوں میں بے شمار تفاسیر بھی لکھی گئی ہیں  اس کے باوجود ہم پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے، آخر کیوں؟ اس لئے کہ ان بدوؤں کے نزدیک قرآن ایک زندہ حقیقت تھی جس کو سن کر وہ فوراً اس پر عمل کرتے تھے۔لیکن آج ہم نے اس کو ثواب کی ایک کتاب سمجھ کر اپنی زندگی اور روح سے غیر متعلق کردیا ہے۔
 کیا قرآن آج بھی ہمارے لئے ویسا ہی نفع بخش اور زندگی کو تبدیل کرنے والی کتاب بن سکتا ہے؟ اس کا جواب یقیناً ہاں ہی میں ہے مگر اس کی شرط ہے۔ شرط یہ ہے کہ ہم قرآن کو اسی طرح پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں جس طرح دورِ اوّل میں اہلِ عرب اور صحابہ کرامؓ نے کیا۔ اس  کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم ابھی یہ فیصلہ کرلیں کہ ہمیں  قرآن مجید کوسمجھ کر پڑھنا ہے۔مزید وقت ضائع کئے بغیر یہ کام آج ہی شروع کر دیں۔ کل کا انتظار نہ کریں اس لئے کہ کل کا انتظار کرنا بھی شیطان کا ایک حربہ ہو سکتا ہے۔ ویسے یہ بھی یاد رکھیں کل کبھی نہیں آتا۔

یہ بھی پڑھئے: کیا ِ رسولِؐ رحمت کی اُمت اتنی بے خوف ہوسکتی ہے؟

قرآن پر ایمان لانا: سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم قرآن پر ایمان لے آئیں۔ یہ بات عجیب سی لگتی ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ ایمان کے دو حصے ہیں، زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق۔  ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ ہمیں قرآن مجید پہ کامل یقین ہے لیکن ہمارا طرزِعمل اس کے خلاف ہے۔نہ ہم اس کی تلاوت باقاعدگی سے کرتے ہیں اور نہ اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ اس کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔ گویا ہمارا ایمان کمزور ہے۔ ہم زبان سے تو اقرار کرتے ہیں کہ یہ اللہ ربُّ العزت کا کلام ہے لیکن یقین کی دولت سے محروم ہیں۔ ورنہ جسے یہ یقین ہوجائے تو اس کا تو اوڑھنا بچھونا ہی قرآن بن جاتا ہے۔(قرآن مجید کے حقوق)
قرآن: ترجیحِ اوّل: قرآن سیکھنے کے لئے ہمیں اس کام کو اپنی زندگی کی اوّلین ترجیحات میں رکھنا ہو گا۔ ہم دنیاوی تعلیم کیلئے زندگی کے کئی سال اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لگا دیتے ہیں۔ اپنے بچوں کے لئے بہترین اسکولوں اور کالجوں کا انتخاب کرتے ہیں۔اس پر اپنا مال اور وقت خرچ کرتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ ضروری ہے۔ لیکن ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم اپنے اور اپنے بچوں کے لئے قرآن کی تعلیم کا کیا بندوبست کر رہے ہیں ؟

یہ بھی پڑھئے: آپؐ کے بچپن ہی سے عرب کے قیافہ شناسوں کو یقین تھا کہ یہ کوئی غیر معمولی ہستی ہے

قرآن سے رہنمائی کا اصول: قرآنِ کریم کا مطالعہ کرتے وقت ہم کھلے ذہن اور دل سے اللہ کا حکم جاننے اوراسی کی آواز سننے کی کوشش کریں۔ اس میں اپنے خیالات تلاش کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہمیں اپنی ہی آواز کی بازگشت سنائی دے گی اور ہم اللہ کی آواز نہیں سن سکیں گے۔ اس کام کی ابتدا میں سب سے اہم بات اخلاص نیت ہے۔ ہمارا یہ پختہ ارادہ ہو کہ قرآن کو سمجھ کر اس کے ذریعے ہم اپنی زندگی کو تبدیل کریں گے۔ 
اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں قرآن مجید پڑھنے، اس کی تعلیمات کو سمجھنے، اس پہ عمل کرنے اور اس کو دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK