Inquilab Logo Happiest Places to Work

اپنے گناہوں کا بار تقدیر کے ذمہ لگانا ایک خطرناک فکری مغالطہ ہے

Updated: August 07, 2026, 4:21 PM IST | Alisha Sharif Mominati | Mumbai

اللہ تعالیٰ نے انسان کو نیکی اور بدی دونوں راستے دکھا دیئے ہیں۔ اب وہ جس راہ کا انتخاب کرے گا، اس کے مطابق اسے جزا یا سزا ملے گی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اسلام نے انسان کو عزت، شعور اور اختیار عطا کیا ہے۔ اسی اختیار کی بنیاد پر اسے دنیا میں آزمائش کے لئے بھیجا گیا اور اسی بنیاد پر آخرت میں اس سے اس کے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ ایمان کے بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ’’تقدیر پر ایمان‘‘ (کائنات کی ہر اچھی یا بری چیز، نفع اور نقصان اللہ تعالیٰ کے علم، حکمت اور مقرر کردہ اندازے کے مطابق) ہے۔ مگر افسوس کہ اس عظیم عقیدے کو بعض لوگوں نے غلط انداز میں سمجھ کر اپنی نافرمانیوں اور گناہوں کا سہارا بنا لیا ہے۔ جب انہیں اپنی غلطیوں کا احساس دلایا جاتا ہے تو فوراً کہتے ہیں: ’’اگر اللہ چاہتا تو ہم گناہ نہ کرتے، یہ سب تو قسمت میں لکھا تھا۔‘‘ بظاہر عقیدۂ تقدیر کا اظہار معلوم ہونے والا یہ جملہ دراصل اپنے نفس کو دھوکہ دینا اور اپنی ذمہ داری سے فرار کی کوشش ہے۔

یہ بھی پڑھئے: طرزِ عمل کا تعلق صرف الفاظ سے نہیں، بلکہ ان کی مقدار سے بھی ہوتا ہے

یہ ایک ایسا فکری مغالطہ ہے جس نے بہت سے لوگوں کو توبہ، اصلاح اور احتسابِ نفس سے دور کر دیا ہے۔ جب انسان اپنی ہر لغزش کو تقدیر کے کھاتے میں ڈال دیتا ہے تو پھر اسے اپنی اصلاح کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ یہ خطرناک سوچ ہے جس کی  واضح الفاظ میں تردید قرآن و سنت نے کی ہے۔ قرآنِ کریم ہمیں بتاتا ہے کہ یہ عذر آج کا نہیں بلکہ دورِ قدیم میں بھی تھا۔ پرانی قومیں یہی کہتی تھیں۔ مشرکینِ مکہ اپنے شرک اور گمراہی کو بھی تقدیر کا نام دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’’جلد ہی مشرک لوگ کہیں گے کہ اگر اﷲ چاہتا تو نہ (ہی) ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے آباء و اجداد، اور نہ کسی چیز کو (بلا سند) حرام قرار دیتے۔ ‘‘ (سورۃ الانعام:۱۴۸)

اللہ تعالیٰ نے ان کی اس دلیل کو قبول نہیں فرمایا بلکہ اسے جھوٹ اور گمراہی قرار دیا۔ اگر تقدیر گناہوں کا جائز بہانہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کے اس استدلال کو رد نہ فرماتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تقدیر کا سہارا لے کر اپنی نافرمانی کو درست ثابت کرنا دراصل شیطانی دھوکا ہے۔ اسلام انسان کو مجبور محض نہیں قرار دیتا بلکہ اسے ارادہ اور اختیار دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’’بے شک ہم نے اسے (حق و باطل میں تمیز کرنے کیلئے شعور و بصیرت کی) راہ بھی دکھا دی، (اب) خواہ وہ شکر گزار ہو جائے یا ناشکر گزار رہے۔‘‘ (سورہ الانسان:۳)۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ ’’پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔‘‘(سورۃ الکہف:۲۹)

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نیکی اور بدی دونوں راستے دکھا دیئے ہیں۔ اب وہ جس راستے کا انتخاب کرے گا، اس کے مطابق اسے جزا یا سزا ملے گی۔ اگر انسان مجبور ہوتا تو نہ احکام نازل ہوتے، نہ انبیاء مبعوث کیے جاتے اور نہ قیامت کے دن حساب و کتاب کا کوئی مفہوم باقی رہتا۔ اللہ کے رسولؐ   نے بھی انسان کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلایا۔ آپ ؐ نے فرمایا:

’’ہر انسان صبح اٹھتا ہے، پھر یا تو اپنے آپ کو (نیک اعمال کے ذریعے) آزاد کرتا ہے یا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دیتا ہے۔‘‘(صحیح مسلم)۔  یہ حدیث اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ ہر انسان اپنی زندگی کے فیصلے خود کرتا ہے اور انہی فیصلوں کے نتائج بھی اسے بھگتنا پڑتے ہیں۔

آج ہمارے معاشرے میں یہ سوچ عام ہوتی جا رہی ہے کہ اپنی کوتاہیوں کا الزام قسمت پر ڈال دیا جائے۔ ایک نوجوان نماز چھوڑ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ابھی ہدایت نہیں ملی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایک سے زائد بیوی کی شرعی اجازت اور مسلم پرسنل لاء میں بار بار دخل اندازی

ایک تاجر سودی معاملات میں مبتلا ہو کر کہتا ہے کہ قسمت ہی ایسی ہے۔ کوئی جھوٹ، دھوکہ، رشوت یا ظلم کرتا ہے اور پھر تقدیر کو اپنا وکیل بنا لیتا ہے۔ اگر یہی منطق درست مان لی جائے تو دنیا کا کوئی مجرم سزا کا مستحق نہ رہے، کیونکہ ہر شخص یہی کہہ دے گا کہ میں نے تو وہی کیا جو میری قسمت میں لکھا تھا۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص آپ کا مال چوری کرے، آپ کے ساتھ دھوکہ کرے یا آپ پر ظلم کرے اور پھر کہے کہ’’یہ تو میری تقدیر تھی‘‘، تو کیا آپ اس کا عذر قبول کریں گے؟ ہرگز نہیں۔ جب ہم اپنے حقوق کے معاملے میں یہ دلیل قبول نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ کے حقوق کے معاملے میں اسے کیسے قبول کر سکتے ہیں؟

یہاں یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ’’تقدیر پر ایمان‘‘ اور ’’تقدیر کو گناہوں کا بہانہ‘‘ بنانے میں بہت بڑا فرق ہے۔ تقدیر پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اس بات پر یقین رکھے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور کائنات میں اس کی مشیت کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کو ارادہ اور اختیار بھی عطا کیا ہے۔ اس کو فیصلہ کرنے کی طاقت دی گئی ہے چنانچہ  بندہ جو راستہ اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے ازلی علم میں اسے پہلے ہی جانتا ہے، مگر اس کا علم بندے کو مجبور نہیں کرتا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’طاقتور مومن اللہ کو کمزور مومن سے زیادہ محبوب ہے، اگرچہ دونوں میں خیر ہے۔ جو چیز تمہیں فائدہ دے اس کی حرص کرو، اللہ سے مدد مانگو اور عاجز نہ بنو۔ اگر کوئی مصیبت پہنچ جائے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ہو جاتا، بلکہ کہو: اللہ نے جو مقدر فرمایا وہی ہوا۔‘‘(صحیح مسلم)

اس حدیث میں نہایت لطیف فرق بیان کیا گیا ہے۔ مصیبت آنے کے بعد تقدیر پر راضی رہنا ایمان ہے، لیکن گناہ کرنے سے پہلے یا بعد میں تقدیر کو بہانہ بنانا گمراہی ہے۔

اسلام کا مزاج یہ ہے کہ انسان اپنی غلطی تسلیم کرے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لغزش ہوئی تو انہوں نے تقدیر کا بہانہ نہیں بنایا بلکہ فوراً اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کیا:

’’اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔‘‘

(سورۃ الاعراف: ۲۳)

یہی مومن کا راستہ ہے۔ وہ گناہ پر اصرار نہیں کرتا، نہ قسمت کو الزام دیتا ہے، بلکہ اپنی کوتاہی کا اعتراف کرتا ہے، نادم ہوتا ہے اور سچی توبہ کے ذریعے اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بعض لوگ تقدیر کا نام لے کر اپنی سستی، بے عملی اور کوتاہی پر پردہ ڈالتے ہیں اور گناہوں کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ یہی سوچ انفرادی اور اجتماعی زوال کا سبب بنتی ہے۔ جو قومیں اپنی ناکامیوں کا الزام صرف قسمت پر ڈال دیتی ہیں، وہ کبھی ترقی نہیں کرتیں۔ اسلام ہمیں عمل، جدوجہد، توبہ اور اصلاح کا درس دیتا ہے، نہ کہ ذمہ داری سے فرار کا۔

یہ بھی پڑھئے: عزت، ذلت، زندگی اور معافی کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تقدیر کے صحیح عقیدے کو سمجھیں، اپنے اعمال کا محاسبہ کریں، گناہوں کی ذمہ داری قبول کریں اور اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ کریں۔ ایک مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے بجائے ان کی اصلاح کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

آخر میں ہمیں یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ تقدیر ایمان کا حصہ ہے، مگر گناہوں کا جواز نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اختیار دیا ہے، اسی لئے ہمیں جواب دہ بھی بنایا ہے۔ کامیاب وہی شخص ہے جو اپنی لغزشوں کا اعتراف کرے، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور آئندہ کے لئے اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔ یہی دنیا کی عزت، آخرت کی کامیابی اور بندگی کا حقیقی تقاضا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں تقدیر کے صحیح عقیدے کو سمجھنے، اپنے نفس کا محاسبہ کرنے اور سچی توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK