Inquilab Logo Happiest Places to Work

عہدِ حاضر کی ایک با اثر خاتون جو مجھے متاثر کرتی ہے

Updated: August 24, 2023, 1:56 PM IST | Saaima Shaikh | Mumbai

گزشتہ ہفتے مذکورہ بالا عنوان دیتے ہوئے ہم نے ’’اوڑھنی‘‘ کی قارئین سے گزارش کی تھی کہ اِس موضوع پر اظہارِ خیال فرمائیں ۔ باعث مسرت ہے کہ ہمیں کئی خواتین کی تحریریں موصول ہوئیں ۔ ان میں سے چند حاضر خدمت ہیں-

There are many women around us whose personalities are inspiring.Photo. INN
ہمارے آس پاس ایسی کئی خواتین ہیں جن کی شخصیت متاثر کن ہوتی ہیں۔ تصویر:آئی این این

میں اپنی ساس سے متا ثر ہوں


ہم کسی نہ کسی بڑے اور عظیم لوگوں سے متاثر ہوتے ہیں اور اپنی زندگی میں ہمیشہ ان کی پیروی کرتے ہیں لیکن میرے لئے ایک بااثر خاتون میری ساس ہے جن کا نام سائرہ میمن ہے۔ جانتی ہوں کہ شاید یہ جملہ سننے میں بہت عجیب لگ رہا ہوگا لیکن میری زندگی پر ان کی شخصیت کا بہت گہرا اثر پڑا ہے۔ وہ مجھے اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ انہوں نے مجھے ہر حال میں صبر کرنا سکھایا ہے چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔ وہ ہمیشہ میری ہمت بن کر میرا ساتھ دیتی ہے۔ انہوں نے میری زندگی کو بہت متاثر کیا ہے جس وجہ سے میری زندگی میں ان کی بہت اہمیت ہے۔ خوش قسمت ہوں مَیں جو اللہ نے آپ کی شکل میں مجھے ایک پیاری ماں اور دوست جیسی نعمت سے نوازا ہے۔
فوزیہ پرویز شیخ (کھانڈیا اسٹریٹ، ممبئی)

ممتا بنرجی: بے باک لیڈر
ملک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ ہر طرف نفرت پھیلائی جا رہی ہے۔ خواتین کو سر عام بے عزت کیا جا رہا ہے۔ سرکاری مشنری کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ میڈیا سماج دشمن عناصر کے کرتوت کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے جو ہمارے سیکولر اور جمہوری ملک کے لئے نقصاندہ ہے۔ عہدِ حاضر میں بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کے کردار اور عمل سے بہت متاثر ہوں۔ یہ واحد خاتون ہے جو بے باکی، بلا خوف حاکم وقت کے خلاف تقریر کرتی ہے۔ ملک میں فرقہ پرستی، مفاد پرستی، اقربا پروری کے خلاف تنقید کرتی ہے۔ ملک میں امن، جمہوریت کے قیام کے لئے اقدامات کرتی ہے۔
مومن حبیبہ خاتون (رسول پورہ، مالیگاؤں)

سدھا مورتھی کو سراہنے کو جی چاہتا ہے


سدھا مورتھی ایک با اثر خاتون جو میری پسندیدہ شخصیت ہے۔ عہدِ حاضر میں مردوں نے جہاں نام کمایا ہے وہیں عورتوں نے بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ اُن میں سے ایک سدھا مورتھی ہیں ۔ اُن کی کتابیں شخصیت سازی اور کریئر سازی پر مبنی ہوتی ہیں جو بچوں اور نوجوانوں کی رہنمائی کرتی ہیں ۔ وہ سماج اور معاشرہ کی ترقی اور فلاح و بہبودی کے لئے امدادی ادارہ چلاتی ہیں نیز ضرورتمند وں کو مالی تعاون دیتی ہیں ۔ اپنی مصروف زندگی میں نہ صرف اپنے لئے بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے زمین ہموار کرنا اپنے آپ میں ایک کارنامہ ہے۔ اپنی ۷۲؍ سالہ زندگی میں وہ اتنی چاق و چوبند ہیں کہ بے ساختہ اُنہیں سرہانے کو جی چاہتا ہے۔ اُنہیں دیکھ کر مجھے خوشی ہوتی ہے ساتھ ہی یہ حوصلہ بھی ملتا ہے کہ کوشش، محنت اور لگن سے ہر اُس مقام پر پہنچا جا سکتا ہے جو عام آدمی کی سوچ سے بالا تر ہو۔
 عارفہ خالد شیخ (ناگپاڑہ، ممبئی)

ذکیہ غزل: شاعری کے ذریعے بیداری لا رہی ہیں 


ہر فرد کسی نہ کسی کے کارناموں سے متاثر ہو کر اُسے اپنا آئیڈیل مان لیتا ہے۔ اسی طرح میں بھی ایک ایسی با اثر خاتون سے متاثر ہوں جسے ساری دنیا ذکیہ غزل کے نام سے جانتی ہیں جو پاکستان کی ایک نامور شاعرہ ہے۔ سامعین ان کی بامعنی غزلوں کو ہمہ تن گوش ہو کر سنتے ہیں اور داد و تحسین سے خوب نوازتے ہیں ۔ چند مصرعے غور کریں : ملال دل میں کسی درد کا نہیں رکھنا/ کوئی برا جو کہے دل برا نہیں رکھنا، یہ دشمنی تو بہت فاصلے بڑھا دے گی/ ہمارے بعد کسی سے گلہ نہیں رکھنا! گویا کہ اپنے اشعار کے ذریعے جینے کا سلیقہ بھی سکھا رہی ہو۔ ان کی شاعری میں ہمیں تعمیری اور تخلیقی عنصر دکھائی دیتا ہے۔ شاعر اگر اپنے کلام سے سامعین کو بیدار کرنے کا کام بھی انجام دے تو سونے پر سہاگہ کہلاتا ہے۔ ایک جھلک دیکھئے: میں نے مانگی تھی اجالے کی فقط ایک کرن/ تم سے یہ کس نے کہا آگ لگا دی جائے!
سیدہ نوشاد (کلوا، تھانے)

سدھا مورتھی: میری نظر میں عہدِ حاضر کی بااثر خاتون


ہمہ جہت، ماہر تعلیم، انسان دوست بزنس وومن، بچوں کی کتابوں کی مصنفہ، انفوسس فاؤنڈیشن کی صدر جنہیں حکومت کی جانب سے پدم شری اور پدم بھوشن جیسے خطابات سے نوازا جا چکا ہے۔ سدھا مورتھی میری نظروں میں عہدِ حاضر کی ایک با اثر خاتون ہے جو مجھے متاثر کرتی ہے۔ کہا جاتا ہے ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ انفوسس کمپنی کی بنیاد میں انہوں نے اپنے زیور بیچ کر سرمایہ لگایا تھا۔ بچوں کو بہترین تعلیم سے آراستہ کیا۔ آپ کی دختر اکشتا برطانیہ کے وزیراعظم کی زوجہ ہے۔ روہن مو رتھی بھی مشهور کمپنی کے ما لک ہے۔ ان کا رہن سہن انتہائی سادہ ہے۔ وہ بچوں کی تربیت سے متعلق کئی اہم باتیں کہتی ہیں ۔ انہوں نے اپنی ذاتی زندگی اور تجربات کے بنیاد پر کئی کتابیں لکھی ہیں جن سے انسان کو کئی سبق حاصل ہوتے ہیں ۔
شگفتہ راغب شیخ (نیرول، نوی ممبئی)

سدھا نارائن مورتھی کی شخصیت کی سادگی نے مجھے متاثر کیا


عہدِ حاضر کی ایک با اثر خاتون جو مجھے متاثر کرتی ہے وہ پدم شری اعزاز پانے والی سدھا نارائن مورتھی ہیں ۔ ایک ہندوستانی قابلِ احترام استانی، انجینئر، مصنفہ اور انفوسس فاؤنڈیشن کی صدر ہیں ۔ ۱۹؍ اگست ۲۰۲۳ء کو اپنی زندگی کے ۷۳؍ سال مکمل کرنے والی یہ بھارتی ناری ٹیلی کو کی پہلی الیکٹریکل انجینئر خاتون تھیں ۔ انہوں نے انگریزی اور کنڑ زبانوں میں کئی کتابیں لکھیں ، جس میں ’ڈالر بہو‘ مجھے بہت پسند ہے۔ ’’ہر کامیاب آدمی کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے‘‘ یہ قول سدھا مورتھی پر صادق آتا ہے کیونکہ این آر نارائن مورتھی کو انفوسس شروع کرنے کے لئے پہلا فنڈ سدھا مورتھی نے اپنی روزمرہ کے اخراجات سے بچی ہوئی رقم سے دیا تھا۔ تعلیمی میدان ہو یا ازدواجی زندگی، اپنا کریئر ہو یا بطور والدین کے فرائض اس خاتون نے اسے بخوبی انجام دیا۔ ان کی شخصیت کی سادگی، وفا شعاری، روایت پسندانہ صلاحیت، ہنس مکھ مزاج، ملک کے غریب طبقے کے تئیں اپنائیت و خدمت کے جذبے اور ان کا انداز گفتگو نے مجھے متاثر کیا۔
نزہت عطا اللہ فرفرلے (پڑگھا، بھیونڈی)

رعنا ایوب؛ ایک بہادر خاتون


صنف نازک جو اگر جھک جائے تو انسان کو خدا بنا دیتی ہے اور اگر سر تان کر کھڑی ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے جھکا نہیں سکتی۔ آج خواتین کسی میدان میں پیچھے نہیں ہیں لیکن ایک خاتون جن کے ہمت و حوصلے کی مَیں داد دیتی ہوں وہ تہلکہ کی سابق تفتیشی صحافی رعنا ایوب ہیں ۔
 میرا ان سے تعارف ان کی کتاب گجرات فائلز پڑھنے کے بعد ہوا۔ اس کتاب کو پڑھ کر محسوس ہوا کہ دس ماہ اپنی شناخت چھپا کر رکھنا اور ملک کے ان نامور سیاسی لیڈروں کے خلاف مواد جمع کرنا، اسٹنگ آپریشن جیسا خطرناک کام انجام دینا واقعی میں اپنے آپ میں ایک بہت ہی باکمال امر ہے۔ ان کا کریئر کافی اتار چڑھاؤ سے پُر رہا ہے۔ ہزاروں تنازعات کے بعد بھی ان کی کتاب گجرات فائلز کو ایک ’بہادر کتاب‘ کا خطاب دیا گیا ہے۔ آج بھی وہ اس ضمن میں سرگرم ہیں ۔ ان کی یہ بہادری مجھے بہت متاثر کرتی ہے کہ کچھ بھی ہو جائے ہمیں سچ کہنے کی ہمت ہونا چاہئے۔
انصاری لمیس (بھیونڈی، تھانے)

اس خاتون کی ہمت کو میرا سلام


ممبئی کی لوکل ٹرین میں اپنے دونوں پیر کھونے والی ۸۹؍ فیصد معذور ڈاکٹر روشن جہاں کی ہمت نے مجھے بہت متاثر کیا۔ ڈاکٹر روشن جہاں کی ابتدائی و ثانوی تعلیم اُردو میڈیم سے ہوئی۔ گھر کی معاشی حالت انتہائی نازک تھی۔ ایسے حالات میں جب وہ دسویں جماعت میں تھی اس وقت وہ لوکل ٹرین کی زد میں آگئی۔ ڈاکٹر روشن جہاں نے ٹرین حادثہ میں اپنے دونوں پیر کھو دیئے لیکن ہمت نہیں ہاری۔ عام طور پر جب انسان کسی حادثے یا بڑی بیماری کا شکار ہوتا ہے تو وہ اپنی ہمت کھو بیٹھتا ہے۔ ان حالات میں ڈاکٹر روشن جہاں نے نیٹ کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا۔ معذوری کے سبب ایم بی بی ایس میں داخلہ نہ ملنے کی وجہ سے انہیں انصاف کے لئے عدالت کے دروازے کھٹکھٹانا پڑا۔ عدالت نے ڈاکٹر روشن کے لئے ایم بی بی ایس کی راہ ہموار کی اور آج وہ ایم بی بی ایس ہیں اور انہوں نے ایم ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔ ڈاکٹر روشن جہاں نے یہ ثابت کر دیا کہ نہ میڈیم، نہ ہی معذوری اور نہ ہی خاتون ہونا ترقی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں ۔
رضوانہ سمیر رنگریز (شولاپور، مہاراشٹر)

منیبہ مزاری نے اپنی معذوری کو اپنی طاقت بنا لیا


منیبہ مزاری وہ خاتون ہیں جن سے میں بہت متاثر ہوں ۔ زندگی کے حادثات جن لوگوں کے حوصلے پست کر دیتے ہیں ۔ جو چھوٹی چھوٹی پریشانیوں سے ہار جاتے ہیں ان تمام لوگوں کے لئے منیبہ مزاری ایک عمدہ مثال ہیں ۔ ایک حادثے میں وہ شدید زخمی ہوئیں ۔ ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جانے کے وجہ سے وہ معذور ہوگئیں ۔ کم و بیش دو سال اسپتال کے بیڈ پر رہیں لیکن انہوں نے اپنی معذوری کو کمزوری نہیں بلکہ اپنی طاقت بنا لیا۔ وہ وہیل چیئر پر بیٹھ کر اپنے تمام خواب پورے کررہی ہیں ۔ آج وہ ایک بہترین آرٹسٹ، زبردست موٹیویشنل اسپیکر، سوشل ورکر، ٹی وی اینکر، عمدہ گلوکارہ اور ادیبہ بھی ہیں ۔ اسی کے ساتھ ساتھ ان کا نام ۲۰۱۶ء میں فوربز میگزین میں بھی شامل تھا۔ پاکستان میں انہیں ’آئرن خاتون‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔
نکہت انجم ناظم الدین (جلگاؤں ، مہاراشٹر)
دروپدی مرمو؛ سبھی خواتین کے لئے ایک مثال


ہمارے ملک کی صدر دروپدی مرمو کی سادہ شخصیت مجھے بے حد متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے اپنے کریئر کاآغاز کلرک کی نوکری سے کیا تھا جس کی میعاد ۱۹۷۹ء سے ۱۹۸۳ء رہی۔ اس کے بعد بحیثیت استاد ۱۹۹۴ء سے ۱۹۹۷ء تک خدمات انجام دیں ۔ ۲۰۰۰ء سے ۲۰۰۹ء تک ضلعی وزیر کے عہدے پر فائز رہیں ۔ بحیثیت گورنر جھارکھنڈ میں خدمات انجام دی اور بالآخر ۲۵؍ جولائی ۲۰۲۲ء کو انہیں صدر کے عہدے پر فائز کیا گیا۔
 ایک سادہ اور آدیواسی خاتون ہونے کے باوجود انہوں نے سماج میں اپنا مقام بنایا جو کہ سبھی خواتین کے لئے ایک مثال ہے جس سے ہمیں آگے بڑھنے اور مستقل محنت کرنے کا جذبہ حاصل ہوتا ہے۔ ہمیں بھی چاہئے کہ سماج میں ہم اپنا مقام بنائیں اور قوم و ملت کی خدمت کے لئے آگے بڑھتے رہیں ۔
مومن رضوانہ محمد شاہد (ممبرا تھانہ)
ٹیسٹا سیتلواد؛ باہمت خاتون


بیشک آج کے دور میں غیر مسلموں کے ساتھ ساتھ ہماری اسلامی بہنوں نے بھی خوب ترقی کر لی ہے اور وطن عزیز کا نام روشن کیا ہے لیکن بنا جھجکے مَیں ایک ایسی خاتون کا نام لینا چاہوں گی جنہوں نے مذہب اور ذات پات کو پرے رکھ کر مظلوم کو انصاف دلوانے کی بھرپور کوشش کی۔ مَیں بات کر رہی ہوں سماجی کارکن ٹیسٹا سیتلواد کی۔ گجرات فسادات کی متاثرہ بلقیس بانو اور ذکیہ جعفری کو انصاف دلوانے کیلئے انہوں نے جس ہمت و استقامت سے کام لیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔ ایک گجراتی خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود مسلم خواتین کیلئے ان کے دل میں جو ہمدردی اور رحمدلی کا جذبہ ہے اس کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ انصاف کی اس لڑائی میں انہیں بہت سی تکالیف پیش آتی رہیں مگر وہ اولو العزمی سے اپنے مقصد پر آج بھی ڈٹی ہوئی ہیں ۔ مَیں ان کے جذبے کو سچے دل سے سراہتی ہوں ۔
رضوی نگار (اندھیری، ممبئی)
سدھا مورتھی کی باتوں نے مجھے بہت متاثر کیا


آج کے دور میں بہت سی ایسی خواتین ہیں جنہوں نے اپنی شخصیت کا پرچم ہر جگہ لہرایا ہے۔ ایسی ہی ایک با اثر خاتون ہیں سدھا مورتھی۔ جو ’ٹیلی کو‘ میں پہلی خاتون انجینئر رہی ہیں ۔ وہ ایک اُستانی، مصنف کے ساتھ ہی ساتھ انفوسس فاؤنڈیشن کی صدر بھی ہیں ۔ انفوسس فاؤنڈیشن کے ذریعے اُنہوں نے دیہی ترقّی کے لئے بہت کام کئے، حکومتی اداروں میں کمپیوٹر اور سائنس کی تقریباً ۷؍ ہزار لائبریری شروع کروائی اور ساتھ ہی کئی یتیم خانے بھی کھلوائے۔ ان کی خدمات کے لئے انہیں کئی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ ان کے لکھے ہوئے جو بھی اقتباسات یا تخلیقات ہیں وہ ان کی اپنی زندگی اور تجربات پر مبنی ہیں ۔ ویسے تو ان کی ہر تخلیق بہترین ہوتی ہے مگر جو اُنہوں نے والدین کیلئے کہا ہے کہ بچوں کو موبائل فون یا ویڈیو گیمز دینے کے بجائے ان کے اندر کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا کریں ۔ ان باتوں نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔
فرح حیدر (اندرا نگر، لکھنؤ)
جیسنڈا آرڈرن؛ خاتونِ آہن


نیوزی لینڈ کی سابق وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن عہد حاضر کی ایک ایسی با اثر خاتون ہیں جن کی شخصیت اور کارنامے مجھے بہت متاثر کرتے ہیں ۔ ان کے معروف کارناموں میں چند ایسے ہیں ، جن کی پذیرائی دنیا بھر میں ہوئی۔ اول اس وقت جب مارچ ۲۰۱۹ء میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی ایک مسجد میں گھس کر ایک جنونی نے کئی نمازیوں کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ جیسنڈا نے اسے فوراً مسلمانوں کے ساتھ ہی ملک (نیوزی لینڈ) پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیا اور سخت الفاظ میں اس کی مذمت کی۔ مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا پیغام دیا۔ دوم اس وقت جب مارچ ۲۰۲۰ء میں کووڈ کی شروعات ہوئی اور پوری دنیا میں کہرام مچ گیا۔ اس وقت بھی اس خاتونِ آہن نے ہمت اور حوصلے سے کام لیتے ہوئے میدان عمل میں اتر کر اپنے ملک کو دنیا کے ان چند ممالک کے ساتھ صف اول میں کھڑا کردیا، جہاں کووڈ کا تقریباً صفایا ہو گیا۔
ڈاکٹر شفاء افتخار انصاری (مالیگاؤں ، مہاراشٹر)
ہماری شاکرہ آپا
چلو نماز کی تیاری کرو، آج ہاسٹل میں کوئی طالبہ بیمار نہیں ہے میں پورے ہاسٹل میں دیکھ چکی ہوں .... چراغ لے کر ڈھونڈوں گی تب بھی مجھ سا نہیں پاؤ گی.... کمرہ نمبر ۳۳؍ نیچے آجاؤ.... یہ اور ان جیسے بے شمار جملے آج بھی میری سماعت میں محفوظ ہیں ۔ یہ جملے ہم سب کی مشفق مربیہ اور ڈانٹ کی آواز میں محبت کرنے والی وارڈن ہماری شاکرہ آپا کے ہیں ۔ جس دن سے کلیہ فاطمۃ الزہرا میں قدم رکھا، شاکرہ آپا کو ہاسٹل میں موجود پایا۔ بظاہر سخت نظر آنے والی یہ شخصیت اندر سے بہت نرم دل اور مشفق تھیں ۔ کچھ سال ہم ان کے روم کے اوپر والے روم میں رہے اور ہمارا بیچ انتہائی شرارتی تھا بس جہاں شرارت کی وہاں شاکرہ آپا کی آواز گونج اٹھتی تھی: کمرہ نمبر ۳۳؍ نیچے آجاؤ... اور پھر لائن سے ہمیں بطور سزا نیچے بٹھا دیتی تھیں مگر اس سزا کا بھی ایک الگ مزہ ہوتا تھا۔ جس وقت سے آپ نے کلیہ چھوڑا ہم نے بارہا آپ کی کمی محسوس کی۔ یقیناً ان کی یہ بات بھی سچ ثابت ہوئی کہ چراغ لے کر ڈھونڈوں گی تب بھی نہیں مجھ جیسا نہیں پاؤ گی۔ یہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے مجھے متاثر کیا ہے۔
سحر جوکھن پوری (جوکھن پور، بریلی)
مدر ٹریسا ؛ بے لوث خدمت کی مثال


عہدِ گزشتہ سے لے کر عہدِ حاضر تک مختلف ادوار اور مختلف میدان میں اپنی پہچان اور چھاپ چھوڑنے والی اَن گنت خواتین ہیں جو معاشرے کیلئے فلاح کے کاموں کی ایک طویل فہرست کے ساتھ تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کیلئے امر ہوگئی ہیں ۔ ایسی ہی چند باہمت اور مخلص خواتین جن سے مَیں متاثر ہوں اِن میں سرِفہرست مدر ٹریسا ہے۔ اس کا نام ہی بے لوث خدمت، محبت اور غمخواری کی روشن مثال ہے۔ یتیم و لاوارث بچے، بیمار بے آسرا ضعیف و معمر افراد، کوڑھ جذام جیسی بیماری میں مبتلا بدقسمت مریض جنہیں اپنے گھروں اور عزیزوں کی پناہ میسر نہ ہوئی اُن سب کے زخموں پر مرہم رکھنے کا جو کام عالمی سطح پر ایک کمزور سی خاتون نے انجام دیا ہے وہ نہ صرف لائق تحسین ہے بلکہ ہم سبھوں کیلئے قابل تقلید بھی ہے۔ کاش کہ نہ صرف مَیں بلکہ ہم سب اپنے محدود دائرے میں سہی، مخلوق خدا کیلئے آسانی اور فلاح کا کوئی چھوٹا سا کام ہی کر جائیں ۔ 
خالدہ فوڈکر ( ٹورنٹو، کینیڈا)
ڈاکٹر فرحت نسیم ہاشمی سے متاثر ہوں 


عہدِ حاضر کی کئی خواتین سے میں بے حد متاثر ہوئی لیکن جس خاتون نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ہیں ڈاکٹر فرحت نسیم ہاشمی۔ ان کا تعلق پاکستان سے ہے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ کئی ڈگریاں یافتہ ہیں ۔ گھر کے دینی ماحول نے ان کی تربیت میں بہترین معاونت عطا کی۔ موصوفه اور ان کے شوہر نے الہدیٰ انٹرنیشنل ویلفیئر فاؤنڈیشن کی بنیاد ڈالی جس کے سائے تلے فرحت ہاشمی خواتین و طالبات کو قرآن، احادیث، فقه، سیرت النبی اور تاریخ اسلام کا درس دیتی ہیں ۔ انہوں نے پاکستان کے علاوہ مختلف ممالک میں الہدیٰ انٹرنیشنل ویلفیئر فاؤنڈیشن کی شاخیں قائم کی ہیں ۔ ان ممالک میں اپنے اداروں کے ذریعے خواتین و طالبات کی تعلیم و تربیت کی کوششیں کرتی ہیں ۔ اگرچہ میں ان کی براہ راست شاگرد نہیں ہوں لیکن ان کی نجی زندگی اور عوامی زندگی سے بے حد متاثر ہوں ۔
ناز یاسمین سمن (پٹنه، بہار)

میرے استاد میرے رول ماڈل


ہر ایک کی زندگی میں کوئی نہ کوئی رول ماڈل ضرور ہوتا ہے۔ مطلب اس شخص کی بہت ساری باتیں دل میں اتر جاتی ہیں اور ہم ان کے جیسا ہی کام کرنے لگ جاتے ہیں ۔ ایسا کرتے کرتے ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ ہم بالکل ان کے جیسے بن جاتے ہیں ۔ اسی کو متاثر ہونا کہتے ہیں ۔ ویسے ہی میری زندگی میں بھی ایک میرے استاد جن کا نام شیما انصاری اور ان کی والدہ آسما انصار ی ہیں جن سے میں بہت متاثر تھی، ہوں اور رہوں گی، ان شاء اللہ۔ میں نے زندگی کی بہت ساری چیزیں ان سے سیکھی ہیں ۔
قریشی فردوس (باندرہ، ممبئی)
میری بڑی بہن پر مجھے فخر ہے


میری بڑی بہن صبا شاداب شیخ، ان سے میں بہت متاثر ہوں ۔ انہیں بچپن ہی سے کسی بھی مقابلے سے ڈر نہیں لگتا تھا۔ آپا کو بالکل بھی اسٹیج فیئر نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ سے اسٹیج پر جانے کے بعد بااعتماد اپنی بات کا اظہار کرتی ہے۔ وہ اپنی تحریر میں اشعار کا استعمال کرتی ہے جو اس تحریر کو چار چاند لگا دیتا ہے اور ان کا تلفظ بہت ہی عمدہ ہے۔ میں ہمیشہ سے چاہتی ہوں کہ میں بھی پورے اعتماد کے ساتھ میری بہن کی طرح بول سکوں لیکن مجھ سے کبھی بھی یہ نہیں ہو پاتا ہے۔ مجھے اپنی آپا پر فخر ہے۔
صدف الیاس شیخ (تلوجہ)
فرحت ہاشمی سے بہت کچھ سیکھا


ہر دور میں با اثر خواتین اس دنیا میں موجود رہی ہیں اور آج کے دور میں بھی کچھ خواتین ہیں جو کسی نہ کسی شعبے میں اپنے اثرات رکھتی ہیں ۔ ان ہی میں سے ایک خاتون ہیں جو عالم اسلام میں ڈا کٹر فرحت ہاشمی کے نام سے مشہور و معروف ہیں جن سے میں بے حد متاثر ہوں ۔ آپ کی تفسیر قرآن کی ویڈیوز جو یو ٹیوب پر موجود ہیں لاکھوں لوگ مستفید ہو رہے ہیں ۔ ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔
 اللہ تعالیٰ ان کی زبان میں مزید فصاحت و بلا غت عطا فرمائے۔
 ترنم (سنبھل، یوپی)
یاسمینہ میم کا نرم مزاج
ہمارے مدرسے کی کوآرڈی نیٹر یاسمینہ صاحبہ ہمارے لئے مشعل راہ ہیں ۔ اپنے بلند عہدے کے باوجود غرور و تکبر سے بالکل پاک تمام معلمات سے، چاہے وہ سینئر ہوں یا جونیئر بہترین اخلاق کے ساتھ ملنا، لہجے میں مٹھاس، نرمی کے ساتھ بات کرنا، سب کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنا یہ سب ان کی امتیازی صفات ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی سبھی معاملات کی نگرانی، انتظامات دیکھنا اور مدرسے کے ڈسپلن کی ذمہ داری بھی بحسن و خوبی انجام دیتی ہیں ۔ ان کا محبت بھرا سلوک اور سب کے ساتھ نرمی برتنا دیکھ کر مجھے وہ حدیث یاد آجاتی ہے کہ جس نے کسی پریشان حال پر آسانی کی تو اللہ اس پر آسانی کرے گا۔ اللہ ان کی خدمات کا بہترین صلہ عطا فرمائے (آمین)۔
سحر اسعد (بنارس، یوپی)
عفیفی کے جذبے کو سلام


فلسطینی دو شیزہ عفیفی مجھے بہت متاثر کرتی ہے۔ یہ وہ لڑکی ہے جس نے بچپن میں کھلونوں کے بجائے فلسطین کے پرچم کو ہاتھ میں تھاما اور بچپن سے جوانی تک کا سفر قبلہ اول کی بازیابی کے لئے وقف کر دیا۔ اسرائیلی فورسیز کے ظلم و جبر کا سامنا ہوا تو مسکرا کر اس کا مقابلہ کیا۔ یوں تو ہر فلسطینی دو شیزہ کی میں گرویدہ ہوں ، یہ وہ خواتین اور لڑکیاں ہیں جن کی تصویریں شاید ہی کسی میگزین اور اخبار کے سرورق پر نہ چھپتی ہوں لیکن ہر مسلمان کے دل میں ان کا وقار اور عظمت موجود ہے۔
صبا پروین محمد عقیل (شیواجی نگر، گوونڈی)
ملالہ کی زندگی مثال ہے
ملالہ یوسف زئی ایک با اثر خاتون ہیں جنہوں نے تعلیم کی اہمیت کو دنیا کے سامنے لایا۔ ملالہ یوسف زئی پاکستانی لڑکی ہیں جنہوں نے طالبان کے خلاف تعلیم اور لڑکیوں کے حقوق کیلئے جنگ لڑی۔ ملالہ یوسف زئی کی زندگی بہت دلچسپ ہے۔ وہ وادی سوات میں پیدا ہوئیں اور اپنی زندگی کی شروعات ہی سے تعلیم اور حقوق نسواں کے لئے لڑائی لڑتی رہی ہیں اور اس کے نتیجے میں طالبان کے حملوں کا شکار ہوئی لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی اور اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی آواز بلند کی اور امن کا نوبیل انعام بھی حاصل کیا۔ ملالہ یوسف زئی کی زندگی مثال ہے کہ ہمیں کسی بھی حالت میں ہمت نہیں هارنی چاہئے اور اپنے مقاصد کیلئے لڑنا چاہئے۔ 
صاعقہ آفرین (مئوناتھ بھنجن، یوپی)
میری ماں 


عصر حاضر میں جو خاتون مجھے متاثر کرتی ہے وہ میری ماں ہے۔ یہ ایک ایسی مہذب شخصیت ہے جس کا ذکر جس مقام پر آئے، الفاظ خود مہکتے ہوئے گلشن قلب میں با چشم پر آب آجایا کرتے ہیں ! میری ماں خاتون خانہ ہونے کے باوجود ایک قابل قدر معلمہ بھی ہے۔
 وہ اپنی ذاتی زندگی اور پیشہ ورانہ زندگی کو بڑے ہی پر اثر انداز میں متوازن رکھتی ہے۔ ہمارے خاندان کے ہر فرد کا خیال رکھنا اور رشتے کو خلوص اور بغیر کسی ذاتی مفاد کے نبھانا وغیرہ اطوار اور عادتیں مجھے متاثر کرتی ہے۔
انصاری قنوت وکیل احمد (بھیونڈی، تھانے)
والدہ سے بے حد متاثر ہوں 


میرے نزدیک عہد حاضر کی سب سےبا اثر خاتون جو مجھے متاثر کرتی ہے کوئی اور نہیں بلکہ میری والدہ ہیں ۔ میں نے اپنی والدہ کا ثانی نہیں دیکھا۔ وہ ایک نیک، صابرہ، محنتی اور شفقت سے بھرپور خاتون ہیں ۔ انہوں نے کبھی اپنی پریشانیوں سے درکنار ہونا نہیں سیکھا۔ ہمیشہ دوسروں کی مدد کے لئے پیش پیش رہنے والی ایک بہت ہی مہذب اور مخلص خاتون ہے، جو اپنے ہمسایوں کا بھی بھرپور خیال رکھتی ہے۔ شوہر کی زندگی میں بھی اور ان کے بعد بھی اپنے قریبی اور دور دراز کے رشتے داروں کا ان کے مشکل اوقات میں ہمیشہ ساتھ دیتی ہے۔
 ہمیں بھی دینی و دنیاوی تعلیم سے آراستہ کیا اور تمام تر مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے زندگی میں ہمیشہ آگے بڑھنے کی ترغیب دیں ۔
ڈاکٹر روحینہ کوثر سید (ناگپور، مہاراشٹر)
ثنا خان سے کافی متاثر ہوں 


ثنا خان عہد حاضر کی وہ خاتون ہیں جن سے میں کافی متاثر ہوں ۔ شو بز سے تعلق توڑ کر اسلام کی خوبیوں کو جانا اور ایسی پلٹی کہ آج کئی لوگوں کیلئے مشعل راہ بن گئی ہیں ۔ عارضی شہرت، نام نمود، بے پردگی، حرام کمائی، فحاشی اور بے راہ روی پر انہوں نے اطمینان قلب، ایمان کامل، جنت کے حصول کی کوشش کو ترجیح دی۔ اللہ ان کی نیت اور کوشش کو قبول کرے (آمین)۔ دور حاضر کے نوجوانوں میں فلم اسٹارز کی پیروی کرنا ایک فیشن بن چکا ہے۔ انہی کو وہ اپنا آئیڈیل مانتے ہیں ، انہی کی طرح بننے کے خواب دیکھتے ہیں ۔
 اس پر فتن ماحول میں ثنا خان اپنے اقدام سے ایک بہترین پیش رفت کی جو قابل تقلید ہے جس سےمسلم معاشرے کی اصلاح میں اضافہ ہو گا، ان شاء اللہ۔
رضوانہ رشید انصاری (تھانہ امبرناتھ)
ڈاکٹر عارفہ سیّدہ زہرا؛ ان کے نرم لہجے سے متاثر ہوں 


اللہ ربّ العزت نے ہمارے معاشرے میں کئی ایسے افراد پیدا کئے ہیں جن کی خوبیِ نے ہمیں متاثر کیا ہے۔ کسی کی باتیں ہمیں اچھی لگتی ہیں تو کسی کی صورت، کسی کا رہن سہن اور اس بنا پر ہم کسی کی صحبت میں رہنا پسند کرتے ہیں ۔ ایسی ہی ایک با اثر خاتون جن کی باتیں مجھے بےحد متاثر کرتی ہیں ، وہ ہے ڈاکٹر عارفہ سیّدہ زہرا۔
 یہ خود ماہر تعلیم اور اردو زبان کے علاوہ سات زبانوں کی جانتی ہیں ۔ ہیومن رائٹس کی چمپئن، حق اور سچ بات کہنے اور سننے کی ہمت رکھنے والی خا تون اور بہت زیادہ تعلیم یافتہ ہیں ۔ ان کے یوٹیوب پر کئی سبسکرائبرز ہیں ، سوشل میڈیا پر کافی مشہور شخصیت ہیں ۔ ان کے نرم لب و لہجہ میں کی گئی گفتگو کی وجہ سے مَیں ان کے لیکچرز سننا پسند کرتی ہوں ۔ 
شاہدہ وارثیہ (وسئی، پال گھر)
مَیں اپنی والدہ سے متاثر ہوں 


میری زندگی میں صرف ایک ہی خاتون ہیں جن سے میں متاثر ہوئی، وہ ہیں میری والدہ ذکیہ بانو۔ جو حیات نہیں ہیں مگر میرے دل میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ میرے اندر جو بھی جذبہ ہے وہ میری والدہ کی دین ہے۔ میری والدہ تمام عمر بیماری میں مبتلا رہیں ، باوجود اس کے ان میں سب کچھ کر گزرنے کی ہمت اور چاہت تھی۔
 وقت کی اہمیت اور پابندی میں نے ان سے سیکھی۔ محبت اور سلوک سے بھری میری والدہ چھوٹے بڑے ہر شخص سے ادب سے پیش آتی تھیں ۔ خود کتنی بھی پریشان ہوں دوسروں کی مدد کے لئے ہمیشہ آگے رہتی تھیں ۔ لوگوں کی خطاؤں کو درگزر کرنا، زندگی میں کچھ کر گزرنا یہ سب میں نے ان سے سیکھا ہے۔ میں نے اپنی ماں سے زیادہ قابل خواتین اب تک نہیں دیکھی۔
ہما انصاری (مولوی گنج، لکھنؤ)

’’عہدِ حاضر کی ایک بااثر خاتون....‘‘ اس موضوع پر ہمیں کئی تحریریں موصول ہوئی ہیں۔ اس کی دوسری قسط  پیر (۲۸؍ اگست ۲۰۲۳ء) کو ملاحظہ فرمائیں۔ 

اگلے ہفتے کا عنوان: موقع ملا تو خدمتِ خلق کا یہ کام ضرور کروں گی!

اظہار خیال کی خواہشمند خواتین اس موضوع پر دو پیراگراف پر مشتمل اپنی تحریر مع تصویر ارسال کریں۔ وہاٹس ایپ نمبر: 8850489134

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK