تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی اور سرکاری تعاون کے باعث الیکٹرانکس اور اے آئی سیکٹر ملک میں نوکریوں کا بڑا ذریعہ بنتے جا رہے ہیں۔ آنے والے برسوں میں کریئر سیکوریٹی اور ترقی کے لئے ان فیلڈز پر توجہ دینا نوجوانوں کے لئے ایک اسمارٹ قدم ثابت ہو سکتا ہے۔آئی ٹی وزارت اور نیتی آیوگ کی رپورٹس کے حوالے سےکچھ اہم باتیں۔
آرٹی فیشیل انٹیلی جنس(اے آئی )اور سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی ملک کے جاب مارکیٹ کی تصویر بدلنے والے ہیں۔ سرکاری رپورٹس اور نیتی آیوگ کے تازہ اندازوں کے مطابق۲۰۳۰ءتک ملک میں الیکٹرانکس اوراے آئی سیکٹر میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں نوجوانوں کیلئے نئی نوکریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ جہاں کچھ روایتی رول ختم ہوں گے، وہیں اے آئی ، چِپ مینوفیکچرنگ، آٹومیشن اور ایپلی کیشن ڈیولپمنٹ سے جڑے نئے اور ’ہائی پیڈ جابز‘ (پرکشش تنخواہوں والی ملازمتیں)تیزی سے سامنے آئیں گے۔ آئندہ پانچ سال اس سیکٹر میں کریئر بنانے کیلئے سب سے اہم مانے جا رہے ہیں۔ جانئے رپورٹ کیا کہتی ہے:
اے آئی کو ڈر نہیں موقع سمجھیں
یہ کہا جارہا ہے کہ اے آئی نوکریاں ختم کر دے گا، لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ الیکٹرانکس اور آئی ٹی کی وزارت کے سیکریٹری ایس کرشنن کے مطابق،۲۰۳۰ءتک اس سیکٹر میں تقریباً۴۰؍ لاکھ نئی نوکریاں پیدا ہوں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ پرانے زمانے کی کچھ کوڈنگ اور پروگرامنگ والی نوکریاں کم ہوں گی، لیکن ان کی جگہ ایپلیکیشن ڈیولپمنٹ، اے آئی بیسڈ سولیوشنز، ڈیزائن اور آپریشن جیسے نئے رولز تیزی سے ابھریں گے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’مصنوعی ذہانت (اے آئی) روزگار کے نئے مواقع پیدا کررہی ہے‘‘
نیتی آیوگ کی رپورٹ کیا کہتی ہے
نیتی آیوگ کی ایک اسٹڈی کے مطابق،۳۱۔۲۰۳۰ء تک اے آئی سیکٹر میں تقریباً۴۰؍ لاکھ نئی اے آئی فرسٹ نوکریاں بننے کا امکان ہے۔ تاہم رپورٹ یہ بھی مانتی ہے کہ تقریباً۱۵؍ سے۲۰؍ لاکھ روایتی نوکریاں ختم یا تبدیل ہو سکتی ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر تصویر مثبت ہے، کیونکہ نئی نوکریاں زیادہ اسکلڈ، زیادہ تنخواہ والی اور مستقبل سے جڑی ہوں گی۔
سیمی کنڈکٹر سیکٹر بنے گا گیم چینجر
سیمی کنڈکٹر یعنی چِپ مینوفیکچرنگ سیکٹر کو ہندوستان کا اگلا بڑا صنعتکار شعبہ مانا جا رہا ہے۔ یہ سیکٹر اگرچہ کافی حد تک آٹومیٹڈ ہے، لیکن اس کے آس پاس ٹیکنیشنز، انجینئرز، سپلائی چین، مینٹیننس اور سپورٹ سروسیز میں بڑی تعداد میں نوکریاں پیدا ہوتی ہیں۔ سرکاری اہلکاروں کے مطابق، الیکٹرانکس سیکٹر میں اس وقت تقریباً۱۵؍ لاکھ لوگ کام کر رہے ہیں اور اگلے پانچ سالوں میں یہ تعداد تیزی سے بڑھے گی۔
یہ بھی پڑھئے: ٹیسلا: ہندوستان کے ۸؍شہروں سے ’سیلز انٹرن‘ بھرتی، کالج طلبہ کیلئے بہترین موقع
۵؍ سال میں۴۵؍ لاکھ نئی بھرتیاں
MeitY کے اندازے کے مطابق، اگلے پانچ سال میں الیکٹرانکس انڈسٹری تقریباً۴۵؍ لاکھ لوگوں کو نوکری دے سکتی ہے۔ ان میں سے تقریباً۲۰؍ لاکھ لوگ پہلے سے اس سیکٹر میں کام کر رہے ہیں، جبکہ باقی نئی بھرتیاں ہوں گی۔ یہ واضح اشارہ ہے کہ آنے والا وقت الیکٹرانکس اور اے آئی سے جڑے نوجوانوں کے لیے ایک گولڈن ٹائم ثابت ہونے والا ہے۔
ای سی ایم ایس سے بڑھے گی لوکل مینوفیکچرنگ
مرکزی حکومت نے ۲۰۲۵ء میں ’الیکٹرانکس کمپوننٹ مینوفیکچرنگ اسکیم(ای سی ایم ایس)‘ لانچ کی ہے، جس کا مقصد ہندوستان میں ہی الیکٹرانکس کمپوننٹس تیار کرنا اور درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے۔ اس اسکیم سے ۳۱۔۲۰۳۰ء تک ۱ء۴؍ لاکھ سے زیادہ براہِ راست نوکریاں پیدا ہونے کی امید ہے۔ فی الحال اس سیگمنٹ میں تقریباً ۶۰؍ ہزار لوگ کام کر رہے ہیں اور حکومت ابتک۲۵؍ کمپنیوں کی درخواستیں منظور کر چکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: انڈرگریجویٹس -پوسٹ گریجویٹس کیلئے مرکزی وزارت کھیل کی جانب سے نئے انٹرن شپ پروگرام کا اعلان
ہندوستان بنے گا سیمی کنڈکٹر پاور ہاؤس
مرکزی وزیر اشونی ویشنو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ہندوستان ۲۰۳۲ء تک دنیا کے ٹاپ فور سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔ اے آئی ، الیکٹرک وہیکلز(ای وی) اور کنزیومر الیکٹرانکس کی بڑھتی مانگ کے باعث ہندوستان نے اس سیکٹر میں زبردست انٹری کی ہے۔ ٹاٹا الیکٹرانکس، مائیکرون، کینس ٹیکنالوجی جیسی بڑی کمپنیوں کے پلانٹس۲۰۲۶ء سے کمرشیل پروڈکشن شروع کر سکتے ہیں۔
یعنی اگر آپ کریئر پلان کر رہے ہیں تو اے آئی، الیکٹرانکس، سیمی کنڈکٹر، ڈیٹا، ایپلیکیشن ڈیولپمنٹ اور آٹومیشن جیسی اسکلز پر توجہ دینا بے حد فائدہ مند رہے گا۔ یہ سیکٹر صرف انجینئرز کے لئے نہیں بلکہ ڈپلوما ہولڈرز، ٹیکنیشنز اور اسکلڈ ورکرز کیلئے بھی بڑے مواقع لا رہا ہے۔