بنیادی طور پر بہار کے مدھوبنی ضلع سے تعلق رکھنے والی بیوٹی جھا اب ایم بی بی ایس کررہی ہے اور اپنے ڈاکٹر بننے کے خواب کوحقیقت میں بدلنے کیلئے دلجمعی کے ساتھ پڑھائی کررہی ہے۔
بیوٹی جھا نے اپنے والد کے موموز کے ٹھیلے پر کام بھی کیا اور پڑھائی بھی کی۔ تصویر: آئی این این
کسی ہدف کو پانے کا جنون ہو تو انسان دن رات محنت کرتا ہے ۔ وہ وسائل اور مسائل کی پروا کئے بنا اپنے ہدف کو پانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کی بہترین مثال دہلی کی یہ ہونہار دوشیزہ ہے۔ اس کا نام بیوٹی جھا ہے، جس نے بغیر کوچنگ کے داخلہ جاتی امتحان’نیٖٹ‘ کوالیفائی کیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بیوٹی جھا نے پڑھائی اور امتحان کی تیاری کے دوران اپنے والد کی موموز کی دکان پر کام بھی کیا اور گھریلو کاموں میں بھی معاونت کی ۔
بیوٹی جھا بنیادی طور پر بہارکے مدھوبنی ضلع سے تعلق رکھتی ہے۔ جب وہ ۶؍سال کی تھی تب اسکے والد نے روزی روزگار کی فکر میں مع فیملی بہار سے دہلی ہجرت کی ۔ یہاں آنے کے بعد انہوں نے ایک کارخانہ میں مزدوری کا کام کیا۔مالی بھی بنےاور دیگر چھوٹے موٹے کام بھی کئے ۔ وہ اپنے بچوں سے کہتے تھے کہ ’’چاہے میں چنے بیچوں، لیکن تم لوگوں کی پڑھائی نہیں رکنے دوں گا۔‘‘
بیوٹی جھا کے خاندان کے لئے بھی کورونا وائرس کی وباء ایک آزمائش ثابت ہوئی ۔ اس دوران بیوٹی کے والد کی نوکری چلی گئی ۔ بیوٹی گھر میں بڑی تھی، اس لئے اس نے مالی مشکلات کو کم کرنے کیلئے بچوں کو ٹیوشن پڑھانا شروع کردیا۔ حالانکہ اس وقت اس کی بھی تعلیم جاری تھی۔اس کے والد نے ٹھیلے پر موموز بیچنے کا کام شروع کردیا۔
اس وقت بیوٹی جھا گیارہویں جماعت میں پہنچ چکی تھی۔اس کا سپنا ڈاکٹر بننے کا تھا، اس لئے وہ پڑھائی میں لگی رہتی ۔ پھر جب اس نے دیکھا کہ والد کی دکان کیلئے والدہ موموز بناتی ہیں تو ان کے کام میں ہاتھ بٹانے لگی۔ والد کی مدد کے لئے وہ ٹھیلے کا کام بھی سنبھالنے لگی۔ اس طرح اس کے لئے پڑھائی مشکل ہوگئی لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے بارہویں کی تیاری کے ساتھ نیٹ کی بھی آن لائن پڑھائی ۔ بغیر کوچنگ کلاس کے اس نے سیلف اسٹڈی کی ۔ اس کی یہ محنت رنگ لائی اور ۲۰۲۳ءمیں اس نے نیٹ پاس کر لیا۔اس کی رینک ۴۸۰۹؍تھی۔ جس کی بنیاد پر اسےایم بی بی ایس کیلئے لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج میں داخلہ ملا۔ اب وہ پورے انہماک و جوش کے ساتھ ڈاکٹری کی پڑھائی کررہی ہے۔