Inquilab Logo Happiest Places to Work

پارٹی، نمائش اور فضول خرچی: بچنے کی ضرورت ہے

Updated: June 24, 2026, 1:36 PM IST | Sabiha Akram | Mumbai

تقریبات انسانی زندگی کا وہ اہم جزو ہے جس سے زندگی کے حسن و جذبات کو محسوس کیا جاتا ہے۔ پارٹی، محفل، جشن ایک ایسی سرگرمی ہوتی ہے جہاں ہم اپنے عزیزوں دوستوں اور قریبی لوگوں کے ساتھ اکٹھے ہوتے ہیں خوشیاں مناتے ہیں ایک دوسرے کو مارکباد دیتے ہیں۔

Instead Of Spending On A Birthday Party, This Money Can Be Used To Help Deserving Children.Photo:INN
سالگرہ پارٹی پر خرچ کرنے کے بجائے اس رقم سے مستحق بچوں کی مدد کی جاسکتی ہے۔ تصویر:آئی این این
تقریبات انسانی زندگی کا وہ اہم جزو ہے جس سے زندگی کے حسن و جذبات کو محسوس کیا جاتا ہے۔ پارٹی، محفل، جشن ایک ایسی سرگرمی ہوتی ہے جہاں ہم اپنے عزیزوں دوستوں اور قریبی لوگوں کے ساتھ اکٹھے ہوتے ہیں خوشیاں مناتے ہیں ایک دوسرے کو مارکباد دیتے ہیں۔ اپنے رفیق کی خوشیوں کو اپنی خوشی سمجھتے ہیں ان سب سے آپس میں محبت ایثار و اتفاق کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ بالکل اسی طرح ایک تقریب برتھ ڈے سیلیبریشن یا سالگرہ پارٹی ہے جس کا رجحان آج کل دیکھنے کو ملتا ہے۔
برتھ ڈے پارٹی کی بات کریں جس کا ٹرینڈ موجودہ دور میں سوسائٹی میں ایک نشے کی طرح چھایا ہوا ہے بچے جوان بوڑھے ہر کوئی اس جشن کے جلوہ میں گرفتار ہے۔ نو عمر بچے سے لے کر عمر رسیدہ شخص تک کے افراد کا یوم پیدائش منانا لوگوں کے لئے ہمارے لئے ایک جنون جیسا بن گیا ہے۔ یہ ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دوست احباب رشتے دار عزیز لوگ ایک ساتھ اکٹھے ہوتے ہیں تحائف دیئے جاتے ہیں، پٹاخے چھوڑے جاتے ہیں، بہت زیادہ روشنی کا انتظام کیا جاتا ہے، رات کو دن بنایا جاتا ہے، بہت تیز موسیقی کا استعمال ہوتا ہے جس کی دھن پر رقص کیا جاتا ہے، موم بتیاں بجھائی جاتی ہیں، بڑے پیمانے پر کیک کاٹے جاتے ہیں۔ موبائل فونز کے ذیعے سیلفی اور دیگر تصاویر اتاری جاتی ہیں جنہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپلوڈ کرکے واہ واہی بٹورنا کسی مقابلہ سے کم نہیں ہوتا ہے۔ آئیے درج ذیل چند عوامل پر نظر ڈالتے ہیں جو اس طرح کی پارٹیز کے بڑھاو ے کی وجوہات ہیں:
بچوں کی خوشی کو ترجیح دینا: والدین اس بات کو سوچے سمجھے بغیر کہ ہم جو کر رہے ہیں یا بچوں کو مستقبل میں کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں وہ صحیح ہے یا غلط.... یہ جانے اور سمجھے بغیر ہی صرف اُن کی خوشیوں کی خاطر بڑی بڑی تھیم پارٹیز کا اہتمام کرتے ہیں۔
حیثیت اور نمائش: اکثر لوگ اپنی کامیابی، دولت، رتبہ ظاہر کرنے اور دکھاوا کرنے کیلئے بھی اس طرح کی گرینڈ پارٹیز اور ایونٹ منعقد کرتے ہیں تاکہ ان کا دبدبہ سماجی رتبہ بنا رہے۔
سوشل میڈیا پر مقولیت: وہاٹس ایپ، انسٹا گرام، فیس بک جیسے دیگر سوشل اکاؤنٹس پر فوٹوز اور ویڈیوز شیئر کرنے اور مقبولیت حاصل کرنے کی دوڑ نے بھی اس طرح کی پارٹیز کو فروغ دیا ہے۔
موقع کو یادگار بنانا: اکثر لوگ کسی موقع کو یادگار بنانے کیلئے، اپنے عزیزوں اور دوستوں کے ساتھ اپنی خوشیاں بانٹنے، اُن بتائے ہوئے لمحوں کو ایک یاد بنانے کیلئے بھی ایسی تقریب کا انعقاد کرتے ہیں۔
دوستوں کا دباؤ: ہم عمر ساتھیوں کی جانب سے یہ دباؤ یا اثر ہوتا ہے جو وہ کر رہے ہیں یا جو سوچتے ہیں بولتے ہیں اس کی تائید کی جائے۔ یہ صحیح اور غلط دونوں طرح کا ہوسکتا ہے۔ اس دباؤ کے چلتے انسان کچھ اچھا بھی سیکھ سکتا ہے اور غلط عادتیں بھی اپنا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ بزنس مارکیٹنگ جس میں ایونٹ مینجمنٹ، گفٹ شاپس، ایونٹ پلانرز کی چکا چوند وغیرہ جیسے عوامل برتھ ڈے سیلیبریشن کے بڑھتے رجحان کے ذمےدار ہیں۔
سب سے اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کو آج یہ سمجھنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے کہ سالگرہ منانے کے متعلق ہمارے دین میں کیا کہا گیا ہے؟ قرآن اور حدیث کی روشنی میں اس تعلق سے کیا کہا گیا ہے؟ جس کا جواب ملے گا کہ سالگرہ منانے کی ممانعت ہے! اللہ کی جانب سے صرف اور صرف دو ہی تہوار (عیدالفطر اور عیدالاضحی) ہمیں دیئے گئے ہیں اور جنہیں منانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سالگرہ پر منائی جانے والی پارٹی یا تقریب پوری طرح سے اسلامک کلچر کے خلاف ہے۔ یہ مغربی ممالک کی رسموں کی اندھی تقلید ہے۔ کینڈل جلانا، کیک کاٹنا، وِش مانگنا.... یہ ساری باتیں قرآن اور حدیث کی روشنی میں کہیں سے بھی ثابت نہی ہوتیں۔ مَیں اپنی ذاتی رائے دینا چاہوں گی ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے بچوں کو جو آج ان سب چیزوں کے بہت زیادہ شوقین اور عادی بن چکے ہیں، انہیں کم عمری ہی سے سالگرہ کے دن نئے کپڑے پہننے، کیک کاٹنے جیسے کاموں کے بجائے اس دن روزہ رکھنے، غریبوں یتیموں کو حسب ِ استطاعت کھانا کھلانے، اُن کی مدد کرنے، اُن کی زندگی کے ایک سال کا وقفہ ختم ہونے کی اہمیت جیسی باتوں کو فروغ دیا جائے۔ اسکے علاوہ پارٹیز پر ہونے والے بےجا اخراجات جس میں بہت سارے کیک صرف شرارت کے نام پر برباد کر دیئے جاتے ہیں وہ کسی غریب اور مستحق کا ایک وقت کا کھانا ہوسکتا ہے۔ وہ ایک شام جس کی سجاوٹ کے لئے پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے ایک خطیر رقم خرچ کی جاتی ہے، ایک دوسرے سے بہتر اور بہترین کرنے کی مقابلہ آرائی ہوتی ہے، اُن پیسوں سے بیوہ عورتیں اور حاجت مندوں کی مدد کرنے جیسے جذبات کو بچوں میں پیدا کیا جائے اور انہیں یہ احساس کروایا جائے کہ دیکھا دیکھی اور دکھاوے کے نام پر ایسی چیزیں جو فیشن کے نام پر بھلے ہی عام ہو، رواج بن جائے، ہمیں وہ سارے کام بھی نہیں کرنا ہے جو فضول خرچ کا باعث ہو، جو غلط ہو، ناجائز ہو، بدعت ہو۔
صرف باتیں کرنے سے ان ساری بےجا رسومات کا خاتمہ ممکن نہیں.... ہمیں ان باتوں پر عمل کرنا ہوگا، اس کی شروعات ہمیں خود سے کرنی ہوگی۔ آئیے ایک مضبوط اور مکمل عہد کریں آنے والے وقت میں ہم اس طرح کی خرافات سے اجتناب برتیں گے، اس کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو بھی ان سب سے دور رکھ کر اُن کی دینی تعلیم پر خاص توجہ دیں گے جس کی روشنی میں زندگی میں وہ ہمیشہ ثابت قدم رہیں اور صحیح غلط میں تمیز کر سکیں، ان شاء اللہ!
(مضمون نگار خاتونِ خانہ ہیں اور 
لکھنے کا شوق رکھتی ہیں)

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK