Inquilab Logo Happiest Places to Work

شدید گرمی اور صحت: یہ تدابیر اپنائی جاسکتی ہیں

Updated: April 16, 2026, 3:25 PM IST | Simee Sadaf Mir Naved Akhtar | Mumbai

سورج کی تیز تپش، گرم ہوائیں اور بڑھتا ہوا درجۂ حرارت نہ صرف جسمانی تھکن کا باعث بنتا ہے بلکہ ذہنی دباؤ بھی پیدا کرتا ہے۔ ایسے کٹھن حالات میں خواتین کا کردار اور بھی نمایاں ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ نہ صرف اپنے آپ کو سنبھالتی ہیں بلکہ ان پر تمام اہل خانہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر وہ جان لیں کہ گرمی کے اثرات سے کس طرح محفوظ رہا جاسکتا ہے تو کیا کہنا!

During the summer season, food should be cooked early in the day. Photo: INN
گرمی کے موسم میں دن کے ابتدائی وقت میں کھانا بنا لینا چاہئے۔ تصویر: آئی این این

شدید گرمی کا موسم اپنے ساتھ بے شمار آزمائشیں لے کر آتا ہے۔ سورج کی تیز تپش، گرم ہوائیں اور بڑھتا ہوا درجۂ حرارت نہ صرف جسمانی تھکن کا باعث بنتا ہے بلکہ ذہنی دباؤ بھی پیدا کرتا ہے۔ ایسے کٹھن حالات میں خواتین کا کردار اور بھی نمایاں ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ نہ صرف اپنے آپ کو سنبھالتی ہیں بلکہ پورے گھرانے کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری بھی بخوبی نبھاتی ہیں۔

سب سے پہلے اگر گھریلو نظام کی بات کی جائے تو خواتین گرمی کے موسم میں ایک بہترین منتظم کا کردار ادا کرتی ہیں۔ وہ اپنے روزمرہ کے معمولات کو موسم کے مطابق ڈھال لیتی ہیں، جیسے کہ کھانا پکانے کے اوقات میں تبدیلی، زیادہ تر کام صبح سویرے یا شام کے وقت انجام دینا، تاکہ شدید گرمی سے بچا جا سکے۔ اس کے علاوہ وہ ایسے کھانوں کا انتخاب کرتی ہیں جو نہ صرف ہلکے ہوں بلکہ جسم کو ٹھنڈک بھی فراہم کریں، جیسے دہی، لسی، پھل اور سبزیاں۔ یہ ان کی دانائی اور گھر کے افراد کی صحت کے لئے فکر مندی کا ثبوت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سخت الفاظ اور تنقیدی لہجہ رشتوں میں دوریاں پیدا کرتا ہے

خواتین کی ایک اہم ذمہ داری بچوں اور بزرگوں کی خصوصی دیکھ بھال بھی ہے۔ گرمی کے موسم میں بچے جلدی بیمار ہو جاتے ہیں اور بزرگوں کی قوتِ برداشت بھی کم ہو جاتی ہے۔ ایسے میں خواتین ان کے لباس، خوراک اور آرام کا خاص خیال رکھتی ہیں۔ وہ بچوں کو دھوپ میں نکلنے سے روکتی ہیں، انہیں پانی اور دیگر مشروبات کا استعمال کرواتی ہیں، جبکہ بزرگوں کو ٹھنڈے ماحول میں رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہیں۔

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اس موسم میں دن بھر میں ۸؍ سے ۱۰؍ گلاس پانی پینا چاہئے۔ پیاس نہ محسوس ہونے پر بھی وقتاً فوقتاً پانی پینا چاہئے۔ اگر دن میں باہر جا رہے ہیں تو اپنے ساتھ ایک پانی کی بوتل ضرور رکھیں۔ پانی کی کمی پوری کرنے کے لئے ناریل پانی، لیموں پانی یا او آر ایس پینے کا مشورہ ماہرین دیتے ہیں۔ اس موسم میں لوکی، ترئی، کدو اور ہرے پتوں والی سبزیوں کو ترجیح دینا چاہئے۔ ساتھ ہی موسمی پھل کو خوراک کا لازمی حصہ بنائیں۔ دہی اور چھاچھ ہاضمہ کے لئے اچھا ہوتا ہے اس لئے ان کا استعمال یقینی بنائیں۔ تلی اور مسالے دار پکوانوں سے پرہیز کرنا چاہئے اس سے ہاضمہ بگڑ سکتا ہے۔ بہت زیادہ شکر والے مشروب سے پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ اس سے ڈی ہائیڈریشن کا خطرہ رہتا ہے۔ دن بھر میں ۲؍ سے ۳؍ کپ چائے یا کافی پینا چاہئے۔ ان کے زیادہ استعمال سے باڈی ڈی ہائیڈریٹ ہوتی ہے۔ کوشش کریں کہ رات کا کھانا ہلکا پھلکا ہو تاکہ ہاضمہ درست رہے اور پُرسکون نیند آئے۔

یہ بھی پڑھئے: بچّے ماں کی محبّت اور بھرپور توجہ چاہتے ہیں

حفظانِ صحت کے حوالے سے بھی خواتین کا کردار نہایت اہم ہے۔ گرمی کے موسم میں جراثیم تیزی سے پھیلتے ہیں اور معمولی سی لاپروائی بیماریوں کو دعوت دے سکتی ہے۔ خواتین باورچی خانہ کی صفائی، کھانے پینے کی اشیاء کو ڈھانپ کر رکھنا، صاف پانی کا استعمال یقینی بنانا اور گھر کے ماحول کو جراثیم سے پاک رکھنا اپنی ذمہ داری سمجھتی ہیں۔ یہ تمام اقدامات دراصل ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ خواتین کو پانی اور بجلی کے درست استعمال کا شعور بھی اجاگر کرنا چاہئے۔ شدید گرمی میں جہاں پانی کی کمی کا سامنا ہوتا ہے وہیں بجلی کی لوڈ شیڈنگ بھی عام ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں خواتین کو کفایت شعاری سے کام لینا چاہئے، پانی کو ضائع ہونے سے بچانا اور غیر ضروری برقی آلات کا استعمال کم کرنا ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت ہے۔ عام طور پر گرمی کے موسم میں اے سی اور کولر کا بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں گھر کو قدرتی طور پر ٹھنڈا رکھنے کی تدابیر اپنانی چاہئے۔ جیسے کہ انڈور پلانٹس لگائے جاسکتے ہیں۔ فرش پر پونچھا لگائیں، اس سے کمرہ ٹھنڈا رہتا ہے۔ کھڑکی پر گیلا پردہ لگائیں۔ ایگزاسٹ فین کا استعمال یقینی بنائیں تاکہ کمرے کی گرم ہوا باہر جائیں۔ دن میں کھڑکیوں پر پردہ لگائیں۔

یہ بھی پڑھئے: بنتا بگڑتا مزاج: اس کی وجوہات اور سدباب

خواتین کی ذاتی صحت بھی اس موسم میں خصوصی توجہ کی متقاضی ہوتی ہے۔ گرمی کے باعث تھکن، پانی کی کمی اور ہیٹ اسٹروک جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس لئے خواتین کو چاہئے کہ وہ زیادہ سے زیادہ پانی پئیں، آرام کو اہمیت دیں اور ہلکے، ڈھیلے اور سوتی کپڑے استعمال کریں۔ اس کے علاوہ وہ اپنے لئے بھی وقت نکالیں تاکہ ذہنی سکون برقرار رہے۔ اس دوران اپنی جلد کا خیال رکھیں۔ دھوپ میں نکلتے وقت سن اسکرین لگائیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK