Inquilab Logo Happiest Places to Work

آپ کا بچوں میں فرق کرنا، ان کیلئے نقصاندہ ہوسکتا ہے

Updated: October 30, 2023, 1:04 PM IST | Arisha Kokb | Muzaffarpur/ Bihar

عام رائے یہ ہے کہ چھوٹا بچہ ماں باپ کا زیادہ لاڈلا ہوتا ہے۔ بڑوں کا ماننا ہے کہ ان پر صرف ذمہ داریاں ہوتی ہیں اور چھوٹے بھائی بہنوں کی غلطیوں کی سزا بھی انہیں ہی بھگتنی پڑتی ہے۔ جبکہ منجھلوں کا کہنا ہے کہ وہ چھوٹے اور بڑوں کے درمیان چکی کی طرح پس رہے ہوتے ہیں۔ یہ مسئلہ ہماری توجہ چاہتا ہے۔

Big or small children, who matters? Don`t let this unnecessary question cross your mind. Photo: INN
بڑی یا چھوٹی اولاد، کون اہمیت رکھتی ہے؟ اس غیر ضروری سوال کو بچوں کے ذہن میں آنے نہ دیں۔ تصویر:آئی این این

ہمارے گھروں میں اکثر یہ بحث ہوتی ہے کہ ماں باپ کا زیادہ لاڈلا بچہ کون ہے؟ یا کس اولاد کو زیادہ اہمیت ملتی ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا ذکر کسی نہ کسی شکل میں ہر گھر میں ہوتا رہتا ہے۔ اسی سے متعلق دوسرا سوال یہ ہے کہ ماں باپ کو بڑا بچہ زیادہ عزیز ہوتا ہے یا چھوٹا؟ البتہ چھوٹوں کی ایک یہ شکایت ہوتی ہے کہ ہر کوئی ان پر حکم چلاتا ہے۔ بڑوں کے اپنے مسئلے مسائل ہوتے ہیں اور منجھلوں کی اپنی شکایتیں ہوتی ہیں۔
 لوگوں کی عام رائے یہ ہے کہ چھوٹا بچہ ماں باپ کا زیادہ لاڈلا ہوتا ہے۔ بڑوں کا ماننا ہے کہ ان پر صرف ذمہ داریاں ہوتی ہیں اور چھوٹے بھائی بہنوں کی غلطیوں کی سزا بھی انہیں ہی بھگتنی پڑتی ہے۔ جبکہ منجھلوں کا کہنا ہے کہ وہ چھوٹے اور بڑوں کے درمیان چکی کی طرح پس رہے ہوتے ہیں ۔ انہیں نہ تو چھوٹوں والا پیار ملتا ہے اور نہ ہی بڑوں والی اہمیت۔ لیکن چھوٹی اولاد کو سب سے زیادہ پیار اور توجہ ملتی ہے اس بات سے سبھی متفق ہیں ۔ لیکن اس بات میں کتنی صداقت ہے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرتا۔ ہم نے بس ایک چیز فرض کر لی ہے کہ جو گھر میں سب سے چھوٹا ہے وہ سب سے زیادہ لاڈلا ہے۔ اور جو سب سے بڑا ہے وہ سب سے زیادہ ذمہ دار۔ اور پھر زمانے بھر کی ہمدردیاں اس کے ساتھ ہوجاتی ہیں ۔ چھوٹوں کے ساتھ بھی بہت سے مسائل درپیش ہوتے ہیں جسے وہ اپنے بڑوں کے ساتھ مل کر حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور توجہ نہ ملنے کے باعث وہ اپنے دوستوں کے زیادہ قریب ہو جاتے ہیں ۔ اور کبھی کبھی تو غلط صحبت اختیار کر لیتے ہیں جس کا نتیجہ بہت خطرناک ہوتا ہے۔ پھر اسے بڑے بھائی بہنوں کی مثالیں دی جاتی ہیں ۔ ذرا انہیں دیکھو وہ کس قدر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں کبھی شکایت کا موقع نہیں دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ جس سے وہ بدظن ہو جاتے ہیں ۔ اور لوگ بھی اسے سمجھانے کے بجائے یہ کہتے ہیں کہ چھوٹے ہونے کی وجہ سے ماں باپ نے زیادہ ہی ناز اٹھایا جس کی وجہ سے وہ بگڑ گیا ہے۔ مجھے اس چیز سے بالکل انکار نہیں ہے کہ بڑے بھائی بہن اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کا خیال رکھتے ہیں والدین انہیں مثل اولاد سمجھتے ہیں ۔ لیکن وہ اہمیت نہیں دیتے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔ اور اگر اس پیار کے بدلے یہ بتایا جائے کہ وہ چھوٹا ہے تو اسے زیادہ پیار ملتا ہے توجہ ملتی ہے۔ مَیں بڑا ہوں تو مجھ پر صرف ذمہ داریوں کا بوجھ ہے تو اس پیار سے بھی چھوٹوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہم سب نے یہ تو سنا ہی ہے کہ بڑا بیٹا باپ کا بازو ہوتا ہے اور بڑی بیٹی ماں کی سہیلی ہوتی ہے۔ یہ کردار چھوٹی اولاد بھی نبھا سکتی ہے بشرطیکہ انہیں بھی وہ اہمیت دی جائے اعتماد دیا جائے۔ مجھے جب اس بات کا اندازہ ہوا تو مَیں نے اس بارے میں اپنی سہیلیوں سے بات کی۔ جس سے مجھے یہ بات معلوم ہوئی کہ بڑے بھائی بہن اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کا خیال تو رکھتے ہیں لیکن ایک اکتاہٹ اور بیزاری کے ساتھ اور ایسا وہ جان بوجھ کر نہیں کرتے۔ ظاہر ہے جب ماں باپ اپنی ذمہ داری بچوں پر ڈالیں گے تو ایسا ہی ہوگا۔ والدین کا اولاد کے درمیان فرق کرنا ان کے لئے نقصاندہ ہوسکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ والدین کے بڑھاپے میں بڑی اولاد ہی سہارا بنتی ہے۔ چھوٹی اولاد کے اندر یہ احساس نہیں ہوتا۔ اب کون سی اولاد ماں باپ سہارا بنتی ہے یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن یہ اپنے آپ میں بہت ہی تکلیف دہ بات ہے۔ دونوں ہی آپ کی اولاد ہیں ، دونوں کی تربیت آپ نے ہی کی ہے پھر ایسا فرق کیوں ؟
 میری تحریر کا مقصد یہ ہرگز نہیں ہے کہ مَیں بڑوں کو ظالم اور چھوٹوں کو مظلوم ثابت کرنا چاہتی ہوں ۔ زیادتی بڑوں کے ساتھ بھی ہوتی ہے مگر اس کے بدلے انہیں اہمیت اور عزت بھی ملتی ہے۔ بڑی اولاد ماں باپ کے زیادہ قریب ہوتی ہے یہ ایک فطری بات ہے۔ ظاہر ہے بڑی اولاد ماں باپ کی پہلی خوشی ہوتی ہے۔ لیکن ہم نے جو مشہور کر رکھا ہے کہ چھوٹی اولاد زیادہ لاڈلی ہے، مجھے اس پر اعتراض ہے۔ اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو ہمیں بخوبی اندازہ ہوگا کہ ہم چھوٹوں کو صرف اس وجہ سے ماں باپ کا لاڈلا سمجھتے ہیں کہ وہ چھوٹا ہے اور اس کی خوبیوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے حساس طبیعت والے احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔
 والدین، خاص طور پر ماؤں کو سمجھنا ہوگا کہ وہ اپنی اولاد میں فرق نہ کریں۔ سبھی بچوں کو ایک جیسی توجہ اور محبت دیں۔ کسی کو عزیز اور کسی کو کمتر نہ سمجھیں۔ ہر بچے میں صلاحیت ہوتی ہے۔ اسے اپنی صلاحیت کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع دیں۔ ایک دوسرے کا موازنہ ہرگز نہ کریں۔ ہوسکتا ہے کہ بڑا بیٹا پڑھائی میں اچھا ہو اور چھوٹا بیٹا پینٹنگ یا دیگر سرگرمی میں اچھا کر رہا ہو۔ اس لئے اپنے سبھی بچوں کی یکساں حوصلہ افزائی کریں۔ ان سبھی کو احساس دلائیں کہ آپ سبھی سے محبت کرتی ہیں اور سبھی کے لئے بہت زیادہ فکرمند رہتی ہیں۔ یہ احساس بچوں کی شخصیت پر مثبت اثر ڈالے گا جس کا اثر ان پر تاعمر نظر آئے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK