• Mon, 26 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

کبھی سوچئے کہ ہمیں کیا ہونا چاہئے تھا اور ہم کیا ہیں!

Updated: November 28, 2023, 12:45 PM IST | Nikhat Anjum Nazimuddin | Mumbai

شکر کی جگہ شکوہ، اکتفا اور اطمینان کے بجائے بے اطمینانی، اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش نہ کرتے ہوئے دوسروں کی زندگی میں جھانکنا یہ صحتمند زندگی کی علامت نہیں ہے۔ اِس کی وجہ سے کوئی اور تو کم، ہم خود ہی زیادہ متاثر ہوتے ہیں اس لئے ہمیں اپنا محاسبہ کرتے ہوئے خود کو بدلنے کی فکر کرنی چاہئے۔

Become such a person whose company moments compel others to do something creative, refine and enhance their personality. Photo: INN
ایسی شخصیت بن جائیں جس کی صحبت میں بسر ہونے والے لمحات اوروں کو کچھ تخلیقی کرنے پر مجبور کردے، ان کی شخصیت سنواردے اور نکھار دے۔ تصویر : آئی این این

سیرت سازی، تشکیل ذات، تعمیرکردار، اصلاح فکر و عمل اور تربیت اخلاق یہ وہ عوامل ہیں جو ایک بہترین اور سمجھدار شخصیت کی تخلیق میں معاون و مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔ اصلاح نفس کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ ہم اپنے اقوال اور اپنے فعل میں تضاد نہ ہونے دیں ۔ اپنی باتوں کو عمدگی سے عمل کی شکل دینے والا فرد کامیاب بھی ہوتا ہے اور سب کی نظر میں پسندیدگی کا درجہ بھی حاصل کر لیتا ہے۔ ایک عمدہ، مہذب اور سمجھدار شخص ہونے کے لئے جن اوصاف کی ضرورت ہوتی ہے ان میں سے ایک وصف ناپسندیدہ خواہشات نفس کو مارنا بھی ہے۔ اپنی خواہشات کو کنٹرول کرکے کسی کو نقصان نہ پہنچانے کا جذبہ بہت پسندیدہ اور قابل تعریف ہے۔ عبدالرحمٰن قریشی رقمطراز ہیں کہ، ’’جذبات، محسوسات، ولولے، خواہشیں ، حسرتیں ، محبتیں اور نفرتیں ذات کے اندر موجزن بے لگام لہریں ہیں جن پر عقل کی پاسبانی ہوتی ہے جو اگر مناسب خطوط پر استوار ہو تو ان سب جذبوں کی تہذیب ممکن ہے۔ ارتقائے شخصیت کی خاطر انسان کو اپنے ذہن، دل اور بدن سبھی کی تربیت کرنی پڑتی ہے۔ جذبوں اور خواہشوں کی قربانی دینی پڑتی ہے اور ایسے رویوں کو اپنانا پڑتا ہے جو بنی نوع انسان کے لئے سود مند ہوں۔‘‘
 ہماری شخصیت بھی بالکل اسی طرح کی ہونی چاہئے جو خلق خدا کو اچھائی کی جانب راغب کرے، جو اوروں کو ایک اچھا انسان بننے پر اکسائے، خیر اور بھلائی کا احساس کروائے۔ زندگی مسلسل آزمائش ہے۔ ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں حقیقت کم اور دکھاوا زیادہ ہے۔ زندگی کی آسائش، دولت و ثروت کم ہوتی ہیں لیکن اس کا ڈھنڈورا زیادہ پیٹا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ اندر سے کھوکھلے ہوگئے ہیں لیکن اوپر سے خوش باش نظر آنے کی اداکاری کرتے نظر آتے ہیں ۔ ہمارے معاشرے کا یہ وہ طبقہ ہے جو دن بہ دن نفسیاتی بحران کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ ایک شخص دوسرے کی آسائش، اس کے طرز زندگی اور اس کی خوشحالی سے سخت ناخوش و نالاں ہے۔ ’’مَیں چاہے دکھی رہوں لیکن میرا ہمسایہ بھی خوش نہ رہے....‘‘ یہ سوچ حاوی ہوتی جا رہی ہے۔ اللہ نے ہمیں ہر طرح کی نعمتوں سے مالامال کر رکھا ہے لیکن اگلے کی زندگی دیکھ کر ہمیں اپنی نعمتوں کا احساس ہی نہیں ہے۔ ہم تصویر کا صرف ایک رخ دیکھتے ہیں اور اسی پر اکتفا کرتے ہوئے سامنے والے شخص کی خوشحالی کا اندازہ لگالیتے ہیں جو سراسر غلط ہے۔ ہر شخص کے ساتھ کچھ مسئلے ہوتے ہیں ، کچھ دکھ ہوتے ہیں ، کچھ تکالیف ہوتی ہیں ، ادھوری خواہشات کا کرب ہوتا ہے، ٹوٹے ہوئے خوابوں کی اذیت ہوتی ہے لیکن وہ آنکھ ہی کہاں ہے جو ان سب باتوں کو دیکھ سکے اور وہ دل ہی کہاں ہے جو ان باتوں کو محسوس کر سکے۔ 
 ہمیں اپنی موجودہ حالت پر اطمینان نہیں ہے۔ یہ وہ رویہ ہے جو ان تمام اعمال پر حاوی ہے۔ نوجوان اپنے والدین کے ذریعے دی گئی طرز زندگی سے مطمئن نہیں ہیں ، بیوی شوہر کی محدود آمدنی سے مطمئن نہیں ہے، طلبہ طریقہ تعلیم سے مطمئن نہیں ہیں ، سرکاری ملازمین اپنی سہولیات سے مطمئن نہیں ہیں ، کاروباری اپنے کاروبار میں آنے والے اتار چڑھاؤ سے خوش نہیں ہے۔ غرض بے اطمینانی کی اس فضا نے ہم سے ہماری شخصیت کی سمجھداری اور وقار چھین لیا ہے۔ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر، اپنی موجودہ زندگی پر اطمینان اور حالات کی مزید بہتری پر توکل اللہ ہمیں سمجھدار شخص بناتے ہیں ۔ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہنا جرم تو نہیں ہے لیکن ہم اسے مثبت نقطۂ نظر سے سوچیں اور اپنے لائحہ عمل پر عمل پیرا ہوں تو بہت بہتر ہو۔ اس پر عمل آوری کیلئے ہمیں ضرورت ہے اس علم کے حصول کی جو معاشرے کی اصلاح اور افراد کی بہتری کے لئے کارگر ثابت ہو، جس علم کا استعمال کرکے کوئی بھی شخص اپنی شخصیت کے فکری و عملی کردار کو پرکھ سکے، ایسا علم ہمارے مذہب نے ہمیں دیا ہے اور ہمارے نبی حضرت محمدﷺ نے اپنے کردار اسوۂ حسنہ کی صورت میں ہمیں دیا ہے۔
 زندگی میں ہر طرح کا وقت آتا ہے۔ حالات کبھی موافقت میں ہوتے ہیں تو کبھی کبھی مخالفت میں بھی چلے جاتے ہیں۔ حالات موافقت میں ہوں تو قدم زمین سے لگے رہنے دینا بہت مناسب عمل ہے اور مخالفت میں ہو تو خود کو زمین میں دھنستا محسوس نہ کیا جائے بلکہ اللہ پر توکل کرکے حالات کی بہتری کا انتظار کرنا چاہئے۔ ناپسندیدہ صورتحال میں بھی اپنی شخصیت کا اعتدال اور توازن برقرار رکھنا چاہئے۔ اپنے سے جڑے ہر شخص کے وقار کا خیال رکھیں ۔ خود کو اور خود سے منسلک ہر شخص کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیں ۔ ترقیاتی و تعمیراتی کاموں میں حصہ لینے والا بنیں ۔ ہمیں خود کو وہ شخصیت نہیں بنانا ہے جو زمانے کے تابع ہو بلکہ ایسی شخصیت بن جائیں کہ زمانہ ہمارے تابع ہو۔ تفسیر بن جائیں اس مصرے کی کہ:
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK