• Thu, 15 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اردو میڈیم سے عالمی سطح کے سائنسداں تک پروفیسر ڈاکٹر ریاض سید کا شاندار سفر

Updated: October 15, 2026, 6:11 PM IST | Shaikh Akhlaq Ahmad | Mumbai

ٹاپ ہزار اسکالرز میں دوسرا مقام، ۴۰۰؍ تحقیقی مقالے اور ۱۰۰؍ سائنسی کتابیں لکھیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

محدود وسائل اورمشکل حالات سے نکل کر عالمی سطح پر اپنی علمی و تحقیقی شناخت قائم کرنا آسان نہیں، لیکن محنت، مسلسل مطالعہ اور تحقیق کے جذبے نے شہادہ ضلع نندوربار کے پروفیسر ڈاکٹر ریاض ظفر سید کو اس مقام تک پہنچایا ہے۔ حالیہ درجہ بندی میں پروفیسر ریاض سید کو سرفہرست ہزار اسکالر میں عالمی سطح پر دوسرا مقام حاصل ہوا ہے۔ درجہ بندی میں محققین کی تحقیقی پیداوار، حوالہ جات، تحقیقی اثر اور مجموعی علمی کارکردگی جیسے پیمانوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ تاہم ان کی عالمی شناخت صرف اس تازہ کامیابی تک محدود نہیں، وہ گزشتہ کئی برسوں سے بین الاقوامی سطح پر نمایاں اور زیادہ حوالہ دیے جانے والے سائنسدانوں میں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ممبئی کی جھوپڑپٹی میں رہنے والے مزدور کےبیٹے نے آئی آئی ٹی میں داخلے کا خواب شرمندۂ تعبیر کرلیا

پروفیسر ڈاکٹر ریاض سید کا ابتدائی تعلیمی سفر ایک عام متوسط گھرانے سے شروع ہوا۔ انہوں نے نگر پریشد کے اردو میڈیم اسکول سے تعلیم حاصل کی۔ انکے والد ٹرک ڈرائیور تھے، جبکہ والدہ نے بمشکل ساتویں تک ہی تعلیم حاصل کی تھی۔ گھریلو حالات نے ان کے عزم کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کیا۔ انہوں نے نارتھ مہاراشٹر یونیورسٹی، جلگاؤں سے ۱۹۹۴ء میں گریجویشن، ۱۹۹۶ء میں ماسٹرز اور ۲۰۰۳ء میں مائیکرو بایولوجی میں پی ایچ ڈی حاصل کی۔ انکے ڈاکٹریٹ کا تحقیقی موضوع’پلانٹ مائیکروب انٹریکشنز‘ کی بنیاد پر مشتمل رہا۔ فی الوقت پروفیسر ریاض سید شہادہ کے ’پوجیہ سانے گروجی ودیا پرسادک منڈل کے آرٹس، سائنس اینڈ کامرس کالج‘ میں تدریس و تحقیق سے وابستہ رہ کر مائیکرو بایولوجی اور بایوٹیکنالوجی کے شعبوں کی سربراہی سمیت مختلف تعلیمی و انتظامی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔۲۰۲۴ء سے وہ یونیورسٹی آف نزویٰ، عمان میں بھی پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ڈاکٹر سید کی تحقیقی صلاحیتوں کو متعدد عالمی اداروں نے تسلیم کیا ہے۔ یونیورسٹی آف نزویٰ عمان کے مطابق ایلسیویئر نے انہیں مسلسل ۳؍ برس دنیا کے ٹاپ ۲ ؍فیصد زیادہ حوالہ دیے جانے والے محققین میں شامل کیا، جبکہ کلیریویٹ نے دنیا بھر کے۸؍ہزار۸۶۶؍ محققین میں انہیں ٹاپ ایک فیصد انتہائی زیادہ حوالہ دیے جانے والے محققین میں شمار کیا۔ ڈاکٹر ریاض سید کا تحقیقی سفر ہندوستان تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے جنوب مشرقی ایشیا اور یورپی ممالک میں متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی اور بطور مدعو مقرر اپنے تحقیقی تجربات پیش کیے۔ وہ ملائیشیا کی آئی این ٹی آئی انٹرنیشنل یونیورسٹی میں وزٹنگ اسکالر رہے ہیں، جبکہ ازبکستان کی اکیڈمی آف سائنسز، بشان سائنس فاؤنڈیشن ،امریکہ بھی علمی وابستگی رہی ہے۔ سعودی عرب کی قصیم یونیورسٹی سے وہ ماہر مشیر کی حیثیت سے وابستہ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: کیا کیمپس آفر ملازمت کاضامن ہے؟

ڈاکٹر ریاض سید کی تحقیقی و سائنسی حصولیابیاں یہ ہیں

انہوں نے مائیکرو بایولوجی، ماحولیاتی مائیکرو بایولوجی، بایوٹیکنالوجی، فائیٹوپیتھالوجی، مٹی کی صحت، بایوفَرٹیلائزرز، پودوں اور جرثوموں کے باہمی تعلق، پائیدار زراعت اور حیاتیاتی طریقوں سے ماحولیاتی آلودگی کے تدارک جیسے شعبوں میں نمایاں تحقیق کی ہے۔ ڈاکٹرریاض سید۴۱۷؍ سے زائد تحقیقی مقالے، ۳۶؍ کتابیں اور ۸۵؍کتابی ابواب مرتب کر چکے ہیں۔ ان کی متعدد کتابیں اور تحقیقی کام اسپرنگر، ایلسیویئر، وائلے اور سی آر سی پریس جیسے معروف عالمی اشاعتی اداروں سےامریکہ، یورپ، سنگاپور، انگلینڈ سے شائع ہوئے ہیں۔  سائنس ڈائریکٹ کے پروفائل میں انکے ۳۳۷؍ تحقیقی دستاویزات، ۱۳,۶۵۹؍حوالہ جات اور ۵۷؍ایچ انڈیکس درج ہیں، جبکہ ریسرچ گیٹ پر انکے سینکڑوں تحقیقی کام اور حوالہ جات موجودہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK