• Thu, 15 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ سے اعلیٰ تعلیم کا فائدہ یہ بھی ہے کہ ماسٹرز سال بھر میں ہو جاتا ہے

Updated: October 15, 2026, 6:19 PM IST | Aamir Ansari | Mumbai

برونل یونیورسٹی لندن سےڈیٹا سائنس میں ایم ایس سی کرنے والے ممبئی کے حسن آصف چارولیا کا تجربہ و مشاہدہ طلبہ کیلئے راہنما ہے۔

Hassan Charolia. Photo: INN
حسن چارولیا۔ تصویر: آئی این این

ممبئی کے رہنے والے حسن آصف چارولیا ، اس وقت لندن کی برونل یونیورسٹی سے ڈیٹا سائنس اور اینالٹکس میں ایم ایس سی کررہے ہیں۔انہوں  نے مدنی ہائی اسکول جوگیشوری سے دسویں اور دُرگا دیوی صراف جونیئر کالج سے بارہویں کی تعلیم حاصل کی ہے ۔ اسکے بعد انہوں نے  ہندوجا کالج کا رخ کیا اور یہاں سے بیچلر آف کمپیوٹر اپلی کیشنز کی ڈگری حاصل کی۔وہ کہتے ہیں کہ میری دلچسپی خاص طور پر اے آئی، مشین لرننگ، ڈیٹا اینالٹکس کے شعبوں میں ہے، کیونکہ آج کی ڈیجیٹل دنیا میں ڈیٹا کا کردار بہت اہم ہو گیا ہے۔

آپ نے برطانوی یونیورسٹی میں مذکورہ کورس کا انتخاب کیوں کیا؟

حسن: کیونکہ برونل کا کمپیوٹر سائنس ڈپارٹمنٹ کافی مضبوط ہے اور یونیورسٹی پریکٹیکل لرننگ ریسرچ اور انڈسٹری فوکسڈ ایجوکیشن پر خاص توجہ دیتی ہے۔میرا تعلیمی پس منظر کمپیوٹر سائنس اور ڈیٹا اینالٹکس ہے، اسلئے ڈیٹا سائنس میرے مستقبل کے کریئر اہداف کے ساتھ اچھی طرح مطابقت رکھتا ہے۔اس کور س میں مشین لرننگ، اے آئی ،اینالسس ، پرابلم سولونگ جیسے اہم موضوعات شامل ہیں، جو مستقبل میں کریئر کیلئے بہت مفید ہیں۔اسکے علاوہ لندن  دنیا کے بڑےٹیکنالوجی اور بزنس ہب میں سے ایک ہے جہاں طلبہ کو نیٹ ورکنگ اورکریئر کے  بہت سارے مواقع ملتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ممبئی کی جھوپڑپٹی میں رہنے والے مزدور کےبیٹے نے آئی آئی ٹی میں داخلے کا خواب شرمندۂ تعبیر کرلیا

 آپ نے ہائر اسٹڈیز کیلئے برطانیہ ہی کا انتخاب کیوں کیا؟ 

حسن : کیونکہ برطانیہ کا ایجوکیشن سسٹم پوری دنیا میں تسلیم شدہ ہے اور یہاں کی یونیورسٹیز ریسرچ اور انوویشن کے لئے مشہور ہیں۔ برطانیہ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہاں زیادہ ترماسٹرز پروگرامز  عموماً ایک سال کے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے طلبہ نسبتاً کم وقت میں اپنی ہائر ایجوکیشن مکمل کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر لندن ایک انٹرنیشنل سٹی  ہے، جہاں دنیا بھر کے طلبہ اور پروفیشنلز موجود ہوتے ہیں۔ اس سے طلبہ کوکلچرل ایکسپوزر، نیٹ ورکنگ اور پروفیشنل گروتھ کے بہت سے مواقع ملتے ہیں۔

طلبہ کو برطانیہ میںہائر اسٹڈیز کیلئے کن کورسیز اور فیلڈز کو مدنظر رکھنا چاہئے؟

حسن:میرے خیال میں طلبہ کو اپنی پسند، رجحان، تعلیمی بیک گراؤنڈ اور کریئر اہداف کی بنیاد پر کورس کا انتخاب کرنا چاہئے۔ اس وقت برطانیہ میں ٹیکنالوجی سے متعلق شعبوں میں کافی مواقع موجود ہیں، مثلاً:اے آئی، ڈیٹا سائنس، سائبر سیکوریٹی، سافٹ ویئر انجینئرنگ، بزنس اینالٹکس اس کے علاوہ ہیلتھ کیئر،فائنانس، مینجمنٹ، انجینئرنگ، رینویبل انرجی جیسے شعبوں میں بھی اچھے مواقع موجود ہیں۔ لیکن صرف یہ دیکھ کر کورس کا انتخاب نہیں کرنا چاہیے کہ اس کی مانگ زیادہ ہے۔ طالب علم کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ وہ کورس، اس کی اسکلز، انٹریسٹ اور لانگ ٹرم کریئر پلان کے ساتھ Match کرتا ہے یا نہیں۔

لندن میں ایک انٹرنیشنل اسٹوڈنٹ کیلئے لائف کیسی ہوتی ہے؟

حسن:یہاں اسٹوڈنٹ لائف چیلنجنگ اور مزے دار ہے۔شروعاتی دنوں میں رہائش، نئی ثقافت، موسم اور انڈپینڈنٹ لائف اسٹائل کیساتھ ایڈجسٹ ہونا کچھ مشکل محسوس ہو سکتا ہے۔لندن کا پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم بھی سہولت بخش ہے۔طلبہ بس اور انڈرگراؤنڈ ٹرین کا استعمال کرتے ہوئے آسانی سے سفرکر سکتے ہیں۔ کھانے کے  معاملے میں بھی لندن ایک کثیرثقافتی شہر ہے، اسلئے ہندوستانی اور حلال فوڈآسانی سے دستیاب ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ طلبہ کو اوپن مائنڈیڈرہنا چاہیے، نئے لوگوں سے رابطہ قائم کرنا چاہیے اور اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکل کر نئی چیزیں سیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: ۲؍گریجویٹس جنہوں نے۴؍ماہ میں اسٹارٹ اَپ بناکر اسے فروخت کردیا

برطانیہ میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کے مواقع کی صورتحال کیا ہے؟

حسن:برطانیہ سے ڈگری مکمل کرنے کے بعد طلبہ کیلئے مختلف کریئر مواقع ہوتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے طلبہ کیلئے مثلاً: ڈیٹاانالسٹ، ڈیٹا سائنٹسٹ، سافٹ ویئر ڈیولپر،اے آئی انجینئر جیسے مختلف کریئر آپشنز ہوتے ہیں۔ اسی طرح بزنس اور مینجمنٹ  کے طلبہ کیلئے پروجیکٹ  مینجمنٹ، مارکٹنگ،فائنانس،  اور آپریشنز کے شعبوں میں مواقع موجود ہیں۔ لیکن یہاں صرف ڈگری کافی نہیں۔عملی صلاحیتیں، انٹرن شپ، نیٹ ورکنگ، ورک ایکسپریئنس بھی بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے طلبہ کو اپنی اسٹڈیزکے ساتھ ساتھ مختلف اسکلز ڈیولپ کرنی چاہئیں ۔

گفتگو کے آخر میں حسن نے کہا کہ میں یہی کہنا چاہوں گا کہ یوکے، یوایس اے، کنیڈا یا آسٹریلیا جیسے سبھی ممالک کے اپنے ایڈوانٹیجس ہیں۔ طلبہ کو اپنے گھریلو حالات، تعلیمی استعداد، کریئر گول، بیک گراؤنڈ اور بجٹ  کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بیرونِ ملک تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اپنی اسکل، ایکسپوزراورکریئر کو بہتر بنانا بھی ہونا چاہیے۔

اعلیٰ تعلیم کیلئے ’یوکے‘ کےانتخاب سے قبل طلبہ اِن باتوں کا خیال رکھیں

حسن کے مطابق طلبہ یوکے آنے کا فیصلہ مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ کریں اور درج ذیل نکات پر توجہ دیں

(۱) کورس سلیکشن: ایسا کورس منتخب کریں جو آپ کی دلچسپی، رجحان، مستقبل کے کریئر اہداف کے عین مطابق ہو۔

(۲) یونیورسٹی ریسرچ: صرف یونیورسٹی رینکنگ نہ دیکھیں، بلکہ کورس اسٹرکچر، لوکیشن، فیس، کریئر سپورٹ کو بھی ضرور چیک کریں۔

(۳) معاشی منصوبہ بندی:  ٹیوشن فیس کے علاوہ ، قیام، طعام، ٹرانسپورٹ اور  دیگر روزمرہ کے اخراجات کا بھی ریالسٹک بجٹ بنائیں۔

(۴) اسکل ڈیولپمنٹ: صرف ڈگری پر منحصر نہ رہیں۔ پریکٹیکل اسکلز، کمیونی کیشن اسکلز، نیٹ ورکنگ اور ورک ایکسپریئنس بھی ڈیولپ کریں۔

(۵) توقعات حقیقی رکھیں:UK میں مواقع ضرور ہیں، لیکن کامیابی کیلئے ہارڈ ورک، صبر و استقامت، مسلسل سیکھنے اور صلاحیتوں کو نکھارنا بہت ضروری  ہے۔

برطانیہ میں پڑھنے پر خرچ اتنا ہوتا ہے

حسن کہتے ہیںکہ طلبہ کو پہلے معاشی منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔ ٹیوشن فیس ، یونیورسٹی او رکورس کے مطابق مختلف ہوتی ہیں۔عام طور پر انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس کیلئے ماسٹرز پروگرامز کی فیس تقریباً ۱۵؍ہزار پاؤنڈ سے ۳۰؍ہزار پاؤنڈیا اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ رہائش و طعام کےا خراجات شہر کے حساب سے مختلف ہوسکتے ہیں۔ خاص طور پر لندن میں کھانا، قیام اور ٹرانسپورٹ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ اس شہر میں ایک طالب علم کے قیام و طعام کے اخراجات تقریباً ۱۲۰۰؍سے ۱۵۰۰؍پاؤنڈ فی ماہ کا بجٹ ذہن میں رکنا چاہئے۔رکھنا چاہیے۔ طلبہ کو’ایمرجنسی سیونگز‘ بھی ضرور رکھنی چاہیے، کیونکہ ابتدائی مہینوں میں اخراجات توقع سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ۱۴؍ویں کوشش میں انیکیت واڈکر فوج میں لیفٹیننٹ بن گیا

کیاوہاں دوران تعلیم کام کرسکتے ہیں؟

حسن کہتے ہیں کہ جی ہاں،اہل انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس برطانیہ کے اسٹوڈنٹ ویزا رُولز کے مطابق پارٹ ٹائم کام کرسکتے ہیں۔عام طور پر طلبہ ٹرم ٹائم کے دورنا مقررہ محدود گھنٹوں کیلئے کام کر سکتے ہیں اور چھٹیوں کے وقت میںفل ٹائم ورک کا متبادل بھی ہوسکتا ہے۔ تاہم، یہ سب کچھ طالب علم کے ویزا، کورس اور ضروریات پر منحصر ہوتی ہیں۔ پارٹ  ٹائم سے طلبہ اپنے روزمرہ کے اخراجات، جیسے فوڈ، ٹرانسپورٹ اور پرنسل ایکپینسیس کو مینیج کرنے میں مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن میرا مشورہ  یہ ہوگا کہ طلبہ کو سب سے پہلے اپنی پڑھائی کو ترجیح دینی چاہئے اور کام اور اسٹڈی کے درمیان توازن برقرار رکھنا چاہئے۔

ہائر اسٹڈیز کیلئے کورسیز اور فیلڈ 

حسن کےمطابق طلبہ کو اپنی پسند، رجحان، تعلیمی بیک گراؤنڈ اور کریئر اہداف کی بنیاد پر کورس کا انتخاب کرنا چاہئے۔ اس وقت برطانیہ میں ٹیکنالوجی سے متعلق شعبوں میں کافی مواقع موجود ہیں، مثلاً:اے آئی، ڈیٹا سائنس، سائبر سیکوریٹی، سافٹ ویئر انجینئرنگ، بزنس اینالٹکس اسکے علاوہ ہیلتھ کیئر،فائنانس، مینجمنٹ، انجینئرنگ، رینویبل انرجی جیسے شعبوں میں بھی مواقع موجود ہیں۔ لیکن صرف یہ دیکھ کر کورس کا انتخاب نہیں کرنا چاہیے کہ اس کی مانگ زیادہ ہے۔ طالب علم کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ وہ کورس، اسکلز، انٹریسٹ اور لانگ ٹرم کریئر پلان کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK