• Mon, 26 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

بچوں کی بہتر نشوونما کیلئے انہیں یہ سرگرمیاں اپنانے کا موقع دیں

Updated: November 22, 2023, 1:01 PM IST | Megha Sharma | Mumbai

ذہنی اور جسمانی طور پر بہتر نشو ونما ہو تو بچے کامیاب زندگی گزارتے ہیں ۔ مختلف قسم کے کھیلوں کے ذریعے بچوں کی نشوونما بہتر انداز میں کی جاسکتی ہے۔ البتہ یہ یاد رکھیں کہ آپ بچے کو جو بھی سکھا رہے ہیں، وہ دنیا کی جاننے کی سمت اس کا پہلا قدم ہے۔ اس لئے ان سرگرمیوں کو اُن پر بوجھ نہ بننے دیں۔

Prepare children mentally and physically in sports. Photo: INN
کھیل کھیل میں بچوں کو ذہنی و جسمانی طور پر تیار کریں۔ تصویر : آئی این این

بچے گیلی مٹی کی طرح ہوتے ہیں۔ انہیں جس شکل میں ڈھالا جائے وہ ڈھل جاتے ہیں۔ والدین کمہار کی حیثیت رکھتے ہیں جو انہیں کامیاب زندگی گزارنے کیلئے تیار کرتے ہیں۔ اس عمر میں مختلف قسم کے کھیلوں کے ذریعے بچوں کی جسمانی، سماجی اور جذباتی نشوونما بہتر انداز میں کی جاسکتی ہے۔
جسمانی نشوونما 
جھولا جھولنا: اگرچہ یہ تھوڑا سا عجیب لگ سکتا ہے کہ بھلا جھولا جھولنے سے کیا ہوسکتا ہے لیکن اس سے بچے کی توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔ تاہم، اس بات کا خیال رکھیں کہ بچے کو زیادہ تیزی سے جھولا جھولنے نہ دیں۔ وہ گھبرا سکتا ہے۔ بچے چھوٹے ہیں تو مائیں بچوں کو سہارا دیں۔
اچھل کود: جی ہاں ! بچوں کو اچھل کود کرنے دیں۔ دن بھر میں آدھا گھنٹہ بچوں کو بھرپور کھیلنے دیں۔ انہیں بینچ یا صوفے کے اوپر چڑھنے دیں پھر اترنے دیں ۔ اس سرگرمی کے ذریعے وہ خود کو تازہ دم محسوس کریں گے۔ البتہ بچوں کو بہت زیادہ اچھل کود کرنے نہ دیں۔ ساتھ ہی انہیں فوراً پانی پینے بھی نہ دیں۔ اس سرگرمی میں وہ پسینے سے شرابور ہوسکتے ہیں ۔ اس لئے جسم کا درجہ حرارت کمرے کے مطابق ہونے دیں۔ انہیں کچھ دیر کے لئے پُرسکون حالت میں بیٹھنے کے لئے کہیں ۔ اس سرگرمی میں ان کے پٹھے بھی مضبوط ہوتے ہیں۔
مختلف گیمز: بچوں کو مختلف قسم کے کھیل کھیلنے کی ترغیب دیں ۔ جسمانی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ انہیں شطرنج، پزلز جیسے کھیل بھی کھیلنے دیں۔ اس سرگرمی میں ان کی مدد کریں۔ انہیں ہلکے پھلکے انداز میں کھیل کے بارے میں بتائیں ۔ بہتر ہوگا کہ آپ ان کے ساتھ کھیلیں۔ مائیں کھیل بہت زیادہ سنجیدگی سے نہ کھیلیں ۔ ابتدا میں بچہ گیم کی سنجیدگی کو سمجھ نہیں سکتا ہے اس لئے ماحول خوشگوار رکھیں۔
سماجی نشوونما 
اداکاری کرنا: بچے اداکاری یا نقل کرنے سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ بچوں کو کسی شخص کی نقل کرنے کے لئے کہیں ۔ مائیں بچوں کو اپنی یا دادی اماں کی نقل کرنے کے لئے کہہ سکتی ہیں ۔ البتہ اس دوران کسی شخص کی تضحیک نہ ہو اس بات کا بھی ضرور خیال رکھیں ۔ اس سرگرمی کے ذریعے بچہ اپنے اردگرد کے لوگوں کا مشاہدہ کرنے اور انہیں سمجھنے کے قابل ہوتا ہے۔ اس سرگرمی کے ذریعے بچوں کو دوسروں کے ساتھ گھلنے ملنے کا بھرپور موقع ملتا ہے۔
مقابلوں میں حصہ لینا: اسکول میں کسی بھی قسم کے مقابلے میں حصہ لینے سے بچہ نہ صرف مختلف لوگوں سے بات کرسکتا ہے بلکہ کئی قسم کے چیلنجز کے لئے بھی تیار ہوسکتا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ اس کا ساتھ دیں۔ اس کا حوصلہ بڑھائیں۔ اسے کے مزاج کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اس کے مطابق اس کی دنیا کا دائرہ وسیع کریں۔ اپنے بچے کو اسی مقابلے میں حصہ لینے کے لئے آمادہ کریں جس میں اس کی دلچسپی ہو۔ اس پر کسی بھی قسم کا دباؤ نہ ڈالیں۔ اسے اپنی شخصیت کے مطابق ڈھلنے کا موقع دیں ، یہ بے حد ضروری ہے۔
جذباتی نشوونما
کہانی سننا: بچے کہانیاں سننا پسند کرتے ہیں اور یہ ان کی سماجی اور جذباتی نشوونما کیلئے مفید ہے کیونکہ کہانیاں سنتے وقت بچوں کے اندر کئی جذبات پیدا ہوتے ہیں ۔ بچے کو مختلف کہانیاں سنائیں اور پھر ان سے بات کریں ۔ ایسا کرنے سے بچے میں ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوگا۔ وہ اپنے اور دوسروں کے جذبات کا اظہار کرنا بھی سیکھیں گے۔
سیر و تفریح: بچوں کو سیر و تفریح کے لئے لے جائیں ۔ تفریح کے لئے ایسے مقام کا انتخاب کریں جو دلچسپیوں سے بھرپور ہوں تاکہ بچے کے اندر تجسس پیدا ہو اور اس کے ذہن میں کئی سوالات پیدا ہوں ۔ آپ بچوں کو میوزم لے جاسکتی ہیں اس طرح بچے کئی ساری چیزیں سیکھ سکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ آپ سے ہر سوال جوش و خروش سے پوچھے گا، جو اس کی ذہنی نشوونما میں اہم کردار ادا کرے گا۔
چند توجہ طلب باتیں 
 یہ یاد رکھیں کہ آپ بچے کو جو بھی سکھا رہے ہیں ، وہ دنیا کی جاننے کی سمت اس کا پہلا قدم ہے۔ اس لئے ان سرگرمیوں کو اُن پر بوجھ نہ بننے دیں کہ اسے کیا سیکھنا ہے اور کرنا ہے۔ اسے آہستہ آہستہ اور محبت سے سب کچھ سکھائیں۔ کوشش کریں کہ بچوں کے سوالوں کا تسلی بخش جواب دیں۔ اس طرح اس میں تجسس پیدا ہوگا اور سیکھنے کی خواہش بڑھ جائے گی۔ بچوں سے ایسی سرگرمیاں نہ کروائیں جن میں انہیں دلچسپی نہ ہو۔
مائیں بہت جلدی بچوں سے زیادہ توقعات وابستہ کر لیتی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ بچہ جلدی جلدی سب کچھ سیکھ جائے گا۔ ایسا بالکل نہیں ہے۔ اس لئے صبر رکھیں اور دھیرے دھیرے سب کچھ سکھائیں ۔ یاد رکھیں ، بچہ غلطیوں سے سیکھتا ہے اس لئے انہیں غلطیاں کرنے دیں اور سیکھنے دیں۔ ان کی غلطیوں پر انہیں فوراً مت ٹوکیں بلکہ آرام سے انہیں ان کی غلطیاں بتائیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK