• Wed, 02 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریاضی میں ۴۱؍نمبر لانے والا طالب علم آئی آئی ٹی بامبے کیسے پہنچا؟

Updated: September 02, 2026, 4:03 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

کہتے ہیں کہ’’ایک امتحان آپ کی صلاحیت، آپ کی محنت اور آپ کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتا، بلکہ خراب نتیجہ آپ کو مزید بہتر کرنے کا موقع دیتا ہے۔‘‘

Jayendra Jeet. Picture: INN
جینندر جیت۔ تصویر: آئی این این

کہتے ہیں کہ’’ایک امتحان آپ کی صلاحیت، آپ کی محنت اور آپ کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتا، بلکہ خراب نتیجہ آپ کو مزید بہتر کرنے کا موقع دیتا ہے۔‘‘ بہار کے جینندر جیت کی کامیابی کی کہانی اس بات کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ کچھ سال پہلے تک لوگ جس لڑکے کے دسویں جماعت کے رزلٹ کا مذاق اڑاتے تھے، آج اسی کی کامیابی کی مثالیں دی جاتی ہیں۔بہار کے مغربی چمپارن کے رہنے والے جینندر جیت آج آئی آئی ٹی کے طالب علم ہیں، لیکن ایک وقت ایسا بھی تھا جب لوگ ان کی دسویں جماعت کی مارک شیٹ دیکھ کر ہنسا کرتے تھے۔ انہیں لگتا تھا کہ پڑھائی کے معاملے میں اس لڑکے کا ’ڈبہ گول‘ ہے۔ جینندر جیت بھی دسویں میں اپنی کارکردگی سے خوش نہیں تھے، کیونکہ انہیں ریاضی میں۴۱، سائنس میں۴۸،اور ہندی میں۴۹؍ نمبر*ملے تھے۔ سماجی علوم میں۵۴؍ اور انگریزی میں۷۹؍ نمبر نے کسی طرح ان کے مجموعی پاس فیصد کو ۵۴؍ فیصد تک پہنچایا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ۲۲؍بار مسترد لیکن ہار نہ مانی ،اب ۳ء۵؍کروڑ روپے کی اسکالرشپ کا اہل بنا

جینندر نے بیتیا میں واقع ورنداون کے جواہر نوودیا ودیالیہ سے تعلیم حاصل کی۔ دسویں کا نتیجہ ان کے لئے کسی صدمے سے کم نہیں تھا، خاص طور پر اسلئے کہ انہیں اس سے کہیں بہتر نمبروں کی امید تھی۔لیکن بورڈ امتحان سے عین پہلے بیماری کی وجہ سے انہیں تقریباً۴۰؍ سے۵۰؍ دن تک بستر پر رہنا پڑا۔اس وجہ سے وہ  امتحان کی مناسب تیاری نہیں کر سکے اور نتیجہ خراب آیا۔

وہ کہتے ہیں کہ کم نمبروں کی وجہ سے لوگوں کے طعنوں اور ٹرولنگ کا بھی سامنا کرنا پڑا۔لیکن انہوں نے دسویں جماعت کے نتیجے کو اپنے تعلیمی سفر پر حاوی ہونے دینے کے بجائے،  آگے کی تیاری کیلئے اپنے پڑھنے کا طریقہ بدلا۔ بارہویں جماعت کے بعد انہوں نے انجینئرنگ کے داخلہ امتحانات جے ای ای اور ایڈوانسڈ کے لئے سخت محنت کی۔ سخت روٹین اورخود سے ہار نہ ماننے کے عزم نے جینندر جیت کو آئی آئی ٹی بامبےتک پہنچا دیا۔ انہوں نے جے ای ای مین ۲۰۲۳ء میں  ۹۸ء۹۹؍ پرسنٹائل اور جے ای ای ایڈوانسڈ میں آل انڈیا رینک۳۴۹؍ حاصل کرکے اپنی مایوسی کو کامیابی میں بدل دیا۔اس  شاندار اسکور کی وجہ سے انہیں آئی آئی ٹی بامبے کے کمپیوٹر سائنس پروگرام میں داخلہ مل گیا۔ ان کا سفر یہ سبق دیتا ہے کہ ایک امتحان میں ناکام ہونا یا کم نمبر حاصل کرنا کسی بھی طالب علم کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ، برطانیہ اور کنیڈا کے مقابلے جرمنی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنانسبتاً کفایتی

جے ای ای کیلئے جینندر کی حکمت عملی
- متوازن ٹائم ٹیبل بنایا۔
- توجہ بھٹکانے والی چیزوں کو کم کیا۔
- سوشل میڈیا کا بہت کم استعمال کیا۔
- جینندر نے سیلف اسٹڈی کیلئے آہستہ آہستہ پڑھائی کا وقت بڑھ کر روزانہ تقریباً۱۰؍ گھنٹے کردیا 
- کلاس میں جانے سے پہلے تعلیمی ویڈیوز دیکھنا شروع کیا، جس سے انہیں موضوعات کی بنیادی سمجھ پہلے ہی حاصل ہو جاتی تھی۔
- اس سے لیکچر کے دوران مشکل تصورات پر زیادہ توجہ دینے میں مدد ملی۔
- پورے نصاب کو ایک ساتھ مکمل کرنے کے بجائے، انہوں نے روزانہ چھوٹے اور آسانی سے مکمل ہونے والے اہداف طے کیے۔
-گزشتہ برسوں کے سوالیہ پرچے حل کیے، موک ٹیسٹ دیے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK