• Wed, 02 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ، برطانیہ اور کنیڈا کے مقابلے جرمنی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنانسبتاً کفایتی

Updated: September 02, 2026, 3:55 PM IST | Aamir Ansari | Mumbai

جرمنی میں نامور یونیورسٹی سے ماسٹرز کرنیوالےممبئی کے احمد جنید بدرا کے یہ تجربات و مشاہدا ت ایسے طلبہ کیلئے راہنما ہیں جو جرمنی یا کسی اور ملک جاکر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

Ahmad Junaid Badra. Picture: INN
احمد جنید بدرا۔ تصویر: آئی این این

ممبئی کےرہنے والے احمد جنیدبدرا اس وقت جرمنی کی کارل سرے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (کے آئی ٹی )سے ایم ایس سی اِن میکاٹرونکس اینڈ آئی ٹی کررہے ہیں، یہ ادارہ اپنی معیاری تکنیکی تعلیم کیلئے مشہور ہے، ان کا تخصص ( اسپیشلائزیشن) روبوٹکس اینڈ کنٹرول، آٹومیشن میں ہے۔ انہوں نے دسویں تک کی تعلیم اسکالرز ہائی اسکول سے مکمل کی، اسکے بعد شری بھگو بھائی مفت لال پولی ٹیکنک سے میکانیکل انجینئرنگ میں ڈپلوما اور پھر ڈی جے سانگھوی کالج آف انجینئرنگ سے بی ٹیک کیا۔  وہ کہتے ہیں کہ ’’چونکہ بچپن ہی سے مجھے مشینوں سے خاص دلچسپی رہی کہ یہ کیسے کام کرتی ہیں،کسی خیال کو کس طرح ڈیزائن کرکے عملی شکل دی جا سکتی ہے۔ اسی دلچسپی نے مجھےمیکانیکل انجینئرنگ کی راہ منتخب کرنےکی ترغیب دی اور پھر روبوٹکس، آٹومیشن اور میکاٹرونکس کی طرف بڑھا۔ ‘‘

اعلیٰ تعلیم کیلئے آپ نے بیرون ملک جانے کا فیصلہ کب اور کیوں کیا اور جرمنی کو منتخب کرنے کی وجہ کیا تھی؟

بی ٹیک کے کے دوسرے یا تیسرے سال کے دوران ماسٹرز کے بارے میں سوچنا شروع کردیا تھا۔ ابتدا میں یہ صرف ایک خیال تھا اور میں نے اس حوالے سے کوئی سنجیدہ تحقیق شروع نہیں کی تھی۔ بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ میرے والد نے ہمیشہ میری تعلیم میں بھرپور تعاون اور حوصلہ افزائی کی اور زندگی میں کچھ بامقصد حاصل کرنے کی ترغیب دی۔

یہ بھی پڑھئے: ڈجیٹل دُنیا خواتین کو کئی مواقع فراہم کر رہی ہے

بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کیلئے آپ نے کیا کیا؟

تھرڈ ایئر کے دوران میں نے مختلف ممالک اور یونیورسٹیوں کے بارے میں تحقیق کی۔ کئی ماہ مختلف ممالک، یونیورسٹیوں، کورسیز، اخراجات اور کریئر کے مواقع کا موازنہ کیا۔ مختلف آپشنز دیکھنے کے بعد جرمنی مجھے سب سے زیادہ موزوں لگا۔ اس کی ایک بڑی وجہ جرمنی کی انجینئرنگ کے شعبے میں مضبوط شہرت ہے۔ ایک اور اہم وجہ یہ تھی کہ جرمنی کی بہت سی سرکاری یونیورسٹیوں میں تعلیم امریکہ، برطانیہ اور کنیڈا جیسے ممالک کے مقابلے میں نسبتاً کم خرچ ہے۔

جرمنی میں انجینئرنگ کی پی جی پڑھائی کے کیا فوائد ہیں؟ جرمنی اور ہندوستان کی تعلیم میں کیا فرق محسوس ہوا؟

میرے خیال میں جرمنی میں ماسٹرز کرنے کا سب سے بڑا فائدہ مضبوط انجینئرنگ اور صنعتی ماحول سے وابستگی ہے۔ جرمنی میں میکانیکل انجینئرنگ، آٹومیشن، روبوٹکس، میکاٹرونکس اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں کئی معروف کمپنیاں  موجود ہیں۔ہندوستان میں میری بیچلرز کی تعلیم اور جرمنی میں ماسٹرز کے دوران جو سب سے بڑا فرق میں نے محسوس کیا، وہ تعلیم میں زیادہ لچک ہے۔ ہندوستان میں عام طور پر تعلیمی نظام زیادہ مقررہ ہوتا ہے، جہاں طلبہ کو مخصوص مضامین اور امتحانات مکمل کرنے ہوتے ہیں۔ جرمنی میں اپنی دلچسپی کے مطابق مضامین منتخب کرنے کی زیادہ آزادی حاصل ہے۔ مثلاً کے آئی ٹی میں میکاٹرونکس اور آئی ٹی کے ماسٹرز کے دوران میں اپنے شعبۂ تخصص سے متعلق کورسیز منتخب کر سکتا ہوں اور ہر سیمسٹر کیلئے  اپنا اسٹڈی پلان خود ترتیب دے سکتا ہوں۔ 

 جرمنی میں طالبعلم کاسال بھر کا خرچ؟

اس وقت طلبہ کو ایک سال کیلئے۱۱؍ہزار ۹۰۴؍یورو کا Blocked Account دکھانا ہوتا ہے، جو تقریبا۹۹۹؍ ماہانہ بنتا ہے۔ یہ رقم بنیادی اخراجات جیسے رہائش، کھانا، ہیلتھ انشورنس، ٹرانسپورٹ اور دیگر روزمرہ ضروریات کے لیے استعمال ہوتی ہے۔’بلاکڈ اکاؤنٹ‘کے علاوہ طلبہ کو APS، IELTS یا دیگر زبان کے امتحانات، ویزا فیس، فلائٹ ٹکٹ، رہائش کی ڈپازٹ اور جرمنی پہنچنے کے بعد ابتدائی اخراجات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ ان تمام اخراجات کو ملا کر پہلے سال کے لئے تقریباً۱۴؍ سے ۱۵؍ لاکھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اخراجات شہر کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں، جن میں عموماً رہائش سب سے بڑا خرچ ہوتی ہے۔ یونیورسٹی ڈارمیٹری یا شیئرڈ اکاموڈیشن مل جائے تو اخراجات کم ہوجاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: Stevia نامی پودا شکر کا متبادل ہوسکتا ہے

کیا جرمنی میں پڑھائی کے ساتھ طلبہ پارٹ ٹائم یا اسٹوڈنٹ جاب کر سکتے ہیں؟ 

جی ہاں، بین الاقوامی طلبہ جرمنی میں اپنی تعلیم کے ساتھ مقررہ قوانین کے مطابق پارٹ ٹائم کام کر سکتے ہیں۔ تعلیمی سیشن کے دوران طلبہ عموماً ہفتے میں۲۰؍ گھنٹے تک کام کر سکتے ہیں، جبکہ سالانہ کام کے دنوں سے متعلق مقررہ حدود بھی لاگو ہوتی ہیں۔ طلبہ مختلف قسم کی ملازمتیں کر سکتے ہیں، مثلاً ریستوران، سپر مارکیٹ، گودام، یونیورسٹی، ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یا اپنی فیلڈ سے متعلق کمپنیوں میں ورکنگ اسٹوڈنٹ کے طور پر کام کرنا۔ انجینئرنگ کے طلبہ اپنی فیلڈ سے متعلق ورکنگ اسٹوڈنٹ یا اسٹوڈنٹ جاب تلاش کریں، کیونکہ اس سے انہیں عملی تجربہ بھی حاصل ہوتا ہے اور آمدنی بھی ہوتی ہے۔ 

 جرمنی میں تعلیم کیلئے انگریزی اور جرمن زبان کی کیا اہمیت ہے؟ کیا جرمن سیکھنا ضروری ہے؟ 

جرمنی میں تعلیم کیلئے زبان کی شرط بنیادی طور پر پروگرام پر منحصر ہوتی ہے۔ اگر پروگرام انگریزی میں پڑھایا جاتا ہے تو طلبہ کو عام طور پر’آئی ای ایل ٹی ایس‘ یا ’ٹی او ای ایف ایل‘ جیسے امتحانات کے ذریعے اپنی انگریزی کی مہارت ثابت کرنا ہوتی ہے۔ اگر پروگرام جرمن زبان میں پڑھایا جاتا ہے تو طلبہ کو متعلقہ یونیورسٹی کی جرمن زبان سے متعلق شرائط پوری کرنی ہوتی ہیں۔ بہت سے پروگرامز میں عام طور پر کم از کم’ بی ٹو‘لیول درکار ہوتا ہے، جبکہ بعض پروگرامز میں’سی ون‘یا کسی مخصوص تسلیم شدہ سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ 

جرمنی یا بیرون ملک سے یوجی ، پی جی کیلئے پروسیس کب شروع کریں؟

سب سے پہلے تو کورسیز کی تحقیق خود کریں۔ ایجوکیشن کنسلٹنٹس پر انحصارنہ کریں۔ یہ پورا پروسیس آپ خود بھی آسانی سے مکمل کر سکتے ہیں۔ آپ اپنے تعلیمی ریکارڈ، دلچسپیوں اور کریئر کے اہداف کو دوسروں سے بہتر جانتے ہیں، اسلئے مناسب تحقیق کے ذریعے آپ ایسی یونیورسٹیوں کو شارٹ لسٹ کر سکتے ہیں جہاں آپ کا پروفائل مطلوبہ شرائط سے مطابقت رکھتا ہو۔ماسٹرز کرنے والے طلبہ کو میں مشورہ دوں گا کہ وہ بیچلرز کے آخری دو سال میں سنجیدگی سے تیاری شروع کریں۔’ڈی اے اے ڈی‘ایک بہت مفید پلیٹ فارم ہے، جہاں آپ اپنے شعبے، ڈگری، زبان اور داخلے کے سیشن کے مطابق یونیورسٹیوں اور پروگرامز کو تلاش کر سکتے ہیں۔ ہمیشہ یونیورسٹی کی آفیشل ویب سائٹ پر جاکر اہلیت، مطلوبہ دستاویزات، زبان کی شرائط اور آخری تاریخ کی مکمل معلومات ضرور چیک کریں۔

انٹر نس امتحان کی تیاری کریں
 یہ بھی دیکھیں کہ متعلقہ پروگرام’سمر سیمسٹر‘ میں یا ہے’وِنٹرسیمسٹر‘ میں۔ IELTS/TOEFL، GRE، GATE یا حال ہی میں متعارف ہونے والے dMAT جیسی شرائط ہر پروگرام اور موجودہ APS تقاضوں کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں، اسلئے طلبہ کو ہمیشہ تازہ ترین معلومات چیک کرنی چاہیے۔  APS پروسیس کا ایک اہم حصہ ہے۔ ساتھ ہی مطلوبہ زبان یا انٹرنس امتحانات کی تیاری بھی کرنی چاہیے۔ جرمنی آنے سے کم از کم ایک سال پہلے جرمن زبان سیکھنا شروع کریں۔

 داخلہ ملنے کے بعد اگلے مراحل یہ ہیں

سب سے پہلے تو مالی انتظام، بلاکڈ اکاؤنٹ کھلوانا اور ہیلتھ انشورنس کا انتظام شامل ہے۔ اسی دوران میں رہائش کی تلاش بھی جلد شروع کرنے کا مشورہ دوں گا، چاہے یونیورسٹی ڈارمیٹری ہو یا نجی رہائش۔ اس کیلئے ’ WG-Gesucht ‘ اور’ ImmobilienScout24 ‘ جیسے پلیٹ فارمز استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ Blocked Account کے مختلف فراہم کنندگان موجود ہیں؛ میں نے ذاتی طور پر Expatrio استعمال کیا تھا، جس میں ہیلتھ انشورنس بھی پیکیج کا حصہ تھی۔ اسکے بعد ویزا پروسیس آتا ہے۔ طلبہ کو جرمنی کے آفیشل ویزا پورٹل کے ذریعے اپلائی کرنا چاہیے، موجودہ چیک لسٹ کو غور سے فالو کرنا چاہیے ۔بیچلرز کے طلبہ کیلئے پروسیس ان کی اسکولی تعلیم اور تعلیمی پس منظر کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ کچھ طلبہ کو بیچلرز سے پہلے Studienkolleg کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ کچھ کیلئے داخلے کا راستہ مختلف ہو سکتا ہے۔

چونکہ مقابلہ بڑھ گیا ہے اسلئے صرف ماسٹرز کی ڈگری کافی نہیں ہے۔ ورکنگ اسٹوڈنٹ جابز، انٹرن شپس، پروجیکٹس اور دیگر متعلقہ عملی تجربات بڑا فرق پیدا کر سکتے ہیں۔

جرمنی یا کہیں اور اعلیٰ تعلیم کیلئے ضروری تیاری

ایسے طلبہ کیلئے میرا بنیادی پیغام بہت سادہ ہے: منصوبہ بندی جلدی شروع کریں۔اپنی بیچلرز کی تعلیم تقریباً مکمل ہونے تک ماسٹرز یا بیرونِ ملک تعلیم کے بارے میں سوچنے کا انتظار نہ کریں۔ جتنی جلدی آپ تیاری شروع کریں گے، اتنا ہی زیادہ وقت آپ کے پاس اپنے تعلیمی پروفائل کو بہتر بنانے، زبان یا انٹرنس امتحانات کی تیاری، یونیورسٹیوں کے بارے میں تحقیق اور مالی منصوبہ بندی کیلئے ہوگا۔ یہ بھی مشورہ دوں گا کہ اپنی تحقیق خود کریں اور کنسلٹنٹس یا دوسرے لوگوں کی باتوں پر آنکھ بند کرکے انحصار نہ کریں۔ یونیورسٹی کی داخلے کی شرائط، کورس اسٹرکچر، آخری تاریخ اور دیگر اہم معلومات خود ضرور چیک کریں۔ اپنی دلچسپی، کریئر کے اہداف اور مالی حالات کے مطابق کورس اور ملک کا انتخاب کریں۔ یہ ہرگز نہ سوچیں کہ بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنا ناممکن ہے۔ اس کیلئے منصوبہ بندی، صبر اور محنت ضرور درکار ہوتی ہے۔

جرمنی میں انجینئرنگ کیلئے یونیورسٹیاں

آرڈبلیو ٹی ایچ یونیورسٹی، کے آئی ٹی ، ٹی یو ایم میونخ یونیورسٹی، ٹی یو ڈریسڈن، ٹی یو ڈارمسٹیڈ، ٹی یو برلن لائبنز یونیورسٹی اور ٹی یو برونشوگ، اسٹٹگارٹ وغیرہ ، ان میں  سے کئی یونیورسٹیاں جرمنی کے معروف TU9 Alliance کا حصہ ہیں، جس میں جرمنی کی ممتاز ٹیکنیکل یونیورسٹیاں شامل ہیں۔ طلبہ کومیرا مشورہ ہے کہ پہلے سرکاری یونیورسٹیوں کو دیکھیں، کیونکہ عام طور پر یہ نجی یونیورسٹیوں کے مقابلے میں زیادہ سستی ہوتی ہیں۔پہلے یہ دیکھیں کہ متعلقہ کورس آپ کی دلچسپی سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں، وہ انگریزی میں پڑھایا جاتا ہے یا جرمن میں، داخلے کی شرائط ، کون سے مضامین پڑھائے جاتے ہیں، ریسرچ اور عملی مواقع کیسے ہیں۔سمر کے مقابلے ونٹر سیمسٹر میں عام طور پر زیادہ پروگرامز دستیاب ہوتے ہیں۔ یہ بھی جانیں کہ اس شہر میں انکے شعبے سے متعلق کمپنیاں، صنعتیں، ریسرچ سینٹرز، انٹرن شپ اور Working Student کے مواقع موجود ہیں ۔

 طلبہ یہ نہ دیکھیں کہ ’’سب سے بہترین یونیورسٹی کون سی ہے؟‘‘ کیونکہ کورس، یونیورسٹی، شہر، اخراجات اور کریئر کے مواقع کا صحیح امتزاج نام سے زیادہ اہم ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK