اگر مائیں چھٹیوں میں اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور منصوبہ بند ی کریں تو ان کی یہ چھٹیاں بھی انہیں بہت کچھ سکھا سکتی ہیں،انہیں زندگی گزارنے کا سلیقہ بتاسکتی ہیں، انہیں کسی لائق بناسکتی ہیں ۔ ان کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ کرسکتی ہیں ، انہیں نئی زبان سکھاسکتی ہیں ، کتب کے مطالعہ پر آمادہ کرسکتی ہیں
چھٹیوں کے دوران بھی لا ئبریری میں وقت گزارنا چاہئے۔ تصویر ـ، انقلاب: بپن کوکاٹے
یقیناً آپ کے بچوں نے رواں تعلیمی سال کے دوران خوب محنت کی ہوگی اور اب امتحان دینے کے بعد نتائج کا انتظار کررہےہوں گے۔گرمیوںکی ایک طویل تعطیل ان کی منتظر ہے۔ اگر مائیں چھٹیوں میں بچوں پر نظر رکھیں اور منصوبہ بند ی کریں تو ان کی یہ چھٹیاں بھی انہیں بہت کچھ سکھا سکتی ہیں۔ انہیں زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاسکتی ہیں۔ مائیں اپنے بچوں کو سمجھائیں کہ بچّو! آپ ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ملک کبھی بھی ترقّی نہیں کر سکتاجس کے عوام وقت کی اہمیت سمجھے بغیر زندگی گزار دیتے ہیں۔ آپ کو اپنی تعطیلات صرف کھیل کوداور سیروتفریح میںضائع نہیں کرنا ہے بلکہ ہر لحاظ سے انہیں کارآمد بنانا ہے ۔ اس کے بعد آپ انہیں بتائیے کہ آپ طالب علمی کے زمانے میں چھٹیاں کیسے گزارتی تھیں؟ مثلاً ہم اپنی طالب علمی کے دور میں امتحان ختم ہونے کے دوسرے دن ہی اپنی کتابوں کی الماری صاف کیا کرتے تھے۔ استعمال شدہ بیاضوں سے کورے اوراق بڑی ہی خوبصورتی سے علاحدہ کر لیتے تھےاور۳۰۰؍ سے ۵۰۰؍ صفحات پر مبنی نئی بیاضیں بنا کر محفوظ کرلیا کرتے تھے۔ یہ بیاضیں اگلی جماعت میں پھر سے استعمال ہوتی تھیں۔ اپنی استعمال شدہ کتابیںکسی ضرورتمند طالب علم کودے دیا کرتے تھے ۔ اس طرح اگلی جماعت کیلئے درکار نئی کتابوں کی جگہ خالی ہو جاتی تھی۔پھر گھر اور اطراف کی صفائی پر خاص توجہ مبذول کی جاتی۔ اس طرح کی سرگرمیوں سے تفریح بھی ہوجاتی تھی اور وقت کا درست استعمال بھی ہوجاتا تھا ۔ ذیل میں چھٹیوں کو بہتر انداز میں گزارنے کیلئے کچھ نکات پیش کئے جارہےہیں۔
نماز کی پابندی اوردینی تربیتی پروگرام
سب سے پہلے تو اپنے بچوں کو پنج وقتہ نماز کا پابند بنائیے۔ ان کی کمیوں خامیوں کو دور کیجئے ۔ روزانہ قرآن کا ایک آدھ رکوع ترجمہ وتفسیر کے ساتھ سمجھائیے۔ ۔ اسی طرح کہیں چالیس دنوں کیلئےتو کہیں دس دنوں کیلئے دینی تربیتی سمر کیمپ منعقد کئے جاتے ہیں، ان میں بھی بچوں کو بھیجئے ۔ ان کی ذہن سازی ہوگی ۔
کتب کا مطالعہ
سب سے پہلے بچوں کیلئے ایسی کتابوں کی فہرست بنائیں جو وہ پڑھنا چاہتے تھے۔ بچوں کو کہانیوں کی کتابیں، مفید و معلوماتی کتابیں اور سائنسی معلومات پر مبنی کتب کے ساتھ ساتھ دینی و تربیتی کتابیں بھی پڑھنے پر آمادہ کریں۔امسال وہ جس جماعت میں داخلہ لینے والے ہیں، وہ کتابیں بھی انہیں خرید کر یا کسی سے لےکر دے دیں۔ چھٹیوں میں اپنے بچوں کو محلے پڑوس کی لائبریری یا کسی اہم لائبریری میں لے جائیں ، وہاں وقت گزاریں ۔
ٹائم ٹیبل
چھٹیوں میں بچوں کیلئے کھانےپینے، سونے جاگنے، عبادت ، کھیل کود،سیروتفریح ،اخبار اورکتب کے مطالعہ ،افرادِ خانہ سے تبادلۂ خیال ،دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے جلنے نیز کسی کےکام آنے جیسی سرگرمیوں کیلئے وقت کا تعین کیجئے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ ٹی وی دیکھ رہے ہیں تو بس دیکھتے ہی جارہے ہیں۔ کھیل رہے ہیں تو بس کھیلتے ہی جارہے ہیں۔
زبان دانی اورذخیرہ ٔالفاظ میں اضافہ
اگر آپ کا بچہ بارہویں جماعت میں داخل ہونے والا ہے تو ابھی سے اس کی تیاری کروائیں۔ نو یں جماعت کے طالبعلم ہے تو ابھی سے دسویں جماعت کی تیاری کروائیں۔انگلش گرامر سکھائیں۔ خط اور رپورٹ لکھابتائیں۔ترجمہ کرنا سکھائیں۔ وہ روزانہ کم سے کم ۱۰؍ نئے الفاظ بھی سیکھ لیتے ہیں تو ایک ماہ میں ان ذخیرۂ الفاظ تین سو ہو جائے گا۔اور یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔نئے سیکھے گئے الفاظ کو وہ روزمرہ کی عام بول چال میں استعمال کریں تو یہ الفاظ ازبر ہوجائیں گے ۔ انہیں اردو کے صنائع و بدائع اور قواعد و اسباق کے مطالعہ کی بھی ترغیب دیں۔ہندی، مراٹھی میں بھی ان کی کمزوریاں دُور کرنے کی کوشش کیجئے۔یہ تعطیل نئی زبان سیکھنے کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ آپ کا بچہ کوئی بھی نئی زبان بھی سیکھ سکتا ہے۔
ریاضی کے ضابطےاور پہاڑے
بچوں کو ریاضی کے بنیادی ضابطے یاد کروائیں۔ اتنی محنت کریں کہ انہیں زیادہ سے زیادہ پہاڑے منہ زبانی یاد ہو جائیں،اعداد کے مربع ذہن نشین کروائیں۔ اگلی جماعتوں میں بہت سود مند ثابت ہوگا۔ چٹھیوں میں کی گئی یہ محنت کلاس میں اور دوسرے بچّوں میں ان کو ممتاز کرے گی۔
غیر رسمی کلاسیز میں شرکت
چھٹیوں میں طلبہ کمپیوٹر کورس کر سکتے ہیں۔ ٹائپنگ سیکھ سکتے ہیں ۔اگر انہیں ڈرائنگ میں دلچسپی ہےتو پینٹنگ کےقلیل مدتی کورس میں داخلہ دلوائیں۔ جن طالبات کو کھانا پکانے میں دلچسپی ہے ان کیلئے تو آج کل ایک دن میں کھانا پکانے کا ورک شاپ بھی ہوتا ہے۔ ایک ہی دن میں دس سے بارہ پکوان سکھائے جاتے ہیں۔ اس معلومات انٹر نیٹ پر دستیاب ہے۔ پکوان کے قریبی اداروں سے بھی مستفید ہوسکتی ہیں۔ کسی نے خوب کہا ہے :’’ کہہ رہا ہے بہتا دریا وقت کا= قیمتی ہے لمحہ لمحہ وقت کا۔‘‘