انسانی زندگی اس کائنات کا وہ شاہکار ہے ۔ جس کی تخلیق پر خود خالقِ کائنات کو ناز ہے، افسوس کہ آج کی مادہ پرست دوڑ اور تند و تیزجذبات کے ہجوم میں نوجوان نسل اس انمول خزانہ کو فراموش کر بیٹھتی ہے۔ وہ محبت جسے حیات ِ نو کا پیغام ہونا چاہئے تھا جب ناکامی کے گرداب میں پھنستی ہے تو نادان ذہن اسے ’خاتمۂ زندگی‘ کا عنوان دے دیتا ہے۔
من پسند کی شادی نہ ہونے پر نوجوان نسل انتہائی قدم اٹھاتی ہے۔ تصویر: آئی این این
انسانی زندگی اس کائنات کا وہ شاہکار ہے ۔ جس کی تخلیق پر خود خالقِ کائنات کو ناز ہے، افسوس کہ آج کی مادہ پرست دوڑ اور تند و تیزجذبات کے ہجوم میں نوجوان نسل اس انمول خزانہ کو فراموش کر بیٹھتی ہے۔ وہ محبت جسے حیات ِ نو کا پیغام ہونا چاہئے تھا جب ناکامی کے گرداب میں پھنستی ہے تو نادان ذہن اسے ’خاتمۂ زندگی‘ کا عنوان دے دیتا ہے۔ اپنی پسند کی شادی میں رکاوٹ کو جواز بنا کر خودکشی کی جانب قدم بڑھانا محض ایک فرد کا زیاں نہیں، بلکہ امید، خاندان اور انسانی ہمت و حوصلہ کا قتل ہے۔ خودکشی بہادری کا ثبوت نہیں بلکہ کم ہمتی اور بزدلی کی دلیل ہے۔
نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو(این سی آربی)کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ہر سال اوسطاً۴۵۰۰؍کے قریب نوجوان(لڑکے اور لڑکیاں) Love Affairsکی وجہ سے خودکشی کرتے ہیں۔ سرکاری ریکارڈ میں درج تعداد اصل تعداد سے کم ہوتی ہیں ۔ کیوں کہ اکثر خاندان بدنامی کے خوف سے خودکشی کی اصل وجہ ظاہر نہیں کرتے ہیں اور پولیس ریکارڈ میں بھی بسا اوقات ایسی اموات کو ’خاندانی مسائل‘کے زمرے میں درج کیا جاتا ہے۔
اس خودکش رجحان کے پسِ پشت کئی عوامل کار فرما ہیں۔ اوّل تو جذباتی ناپختگی ہے۔ جس میں نوجوان (لڑکے اور لڑکیاں) یہ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ جذبات بادلوں کی مانند ہوتے ہیں جو وقت کی ہوا کے ساتھ تبدیل بھی ہو جاتے ہیں۔ دوم معاشرتی جبر اور والدین کا زعم ہے جس میں مبتلا ہوکر والدین اولاد کی شادی کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں، وہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اولاد کی زندگی کے تمام فیصلے کرنا صرف اور صرف ان کا حق ہے اس میں اولاد کا کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہئے۔ تیسری اہم وجہ مکالمے کا فقدان ہے۔ کیوں کہ ہمارے معاشرہ میں اور بالخصوص تعلیم یافتہ گھرانوں میں والدین اور اولاد کے درمیان تقدس کی ایسی دیوار حائل ہوتی ہے کہ دل کی بات زبان تک آتے آتے دم توڑ دیتی ہے۔ جب اظہار کی راہیں مسدود ہوجاتی ہیں، تو گھٹن جنم لیتی ہے اور یہی گھٹن بالآخر موت کی آغوش میں پناہ تلاش کرتی ہے۔ اس المیے کا ایک تاریک ترین پہلو وہ رومانوی فریب بھی ہے جو فلموں، ڈراموں، جذباتی ناولوں اور سوشل میڈیا کے ذریعہ نوجوانوں کے ناپختہ ذہنوں میں اتارا جا رہا ہے۔ ان میں ناکامیِ محبت پر خودکشی کو ایک عظیم قربانی، بہادری کا عمل یا لازوال عشق کی معراج کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جس کے سحر میں گرفتار ہو کر نوجوان، زندگی کی جنگ لڑنے کے بجائے موت کے فرار کو بہادری تصور کر لیتے ہیں۔ ادب اور مذہب دونوں ہمیں یہی درس دیتے ہیں کہ یہ دنیا فانی ہے۔ یہاں ہر خوشی عارضی اور ہر غم ہیچ ہے۔ علامہ اقبال ؔ نے کہا تھا:
اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں
لیکن جب انسان دنیا کی چند روزہ زندگی کو ہی اصل سمجھ لیتا ہے۔ تو معمولی سی ناکامی بھی اسے اپنی سب سے بڑی محرومی اور شکست معلوم ہونے لگتی ہےمگر جب نگاہ آخرت کی دائمی زندگی پر مرکوز ہو تو اطمینان ہوتا ہے کہ یہ دنیا کی زندگی محض ایک امتحان کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے۔ جہاں صبر و استقامت کے عوض دائمی کامیابی کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ایک فانی انسان کی محبت میں جان دے دینا اللہ کی امانت میں خیانت کے مترادف ہے۔
نوجوانوں کو اس حقیقت کو ہر گز فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ وہ اپنے خاندان کی کتاب کا ایک روشن باب ہیں۔ والدین جن کی ہڈیوں کا گودا آپ کی پرورش و پرداخت میں پگھلا ہے ان کے لئے آپ کی ذات ایک کائنات ہے۔ آپ کا اٹھایا گیا ایک غلط قدم نہ صرف آپ کی زندگی کے لئے مضر ہوگا بلکہ آپ کے والدین کی بقیہ زندگی کو پچھتاوے، آنسوؤں اور ذلت کے کے دریا میں غرق کر دیگا۔ محبت کا دعویٰ کرنے والے اگر اپنے والدین کی محبت اور ایثار کو میزان کے پلڑے میں رکھیں تو دنیا کی ہر دوسری وابستگی ہلکی نظر آئے گی۔ نوجوانوں کو نہیں بھولنا چاہئے کہ وہ اپنے والدین کے لئے فقط ایک ہندسہ نہیں بلکہ ان کی دعاؤں کا ثمر اور ان کے بڑھاپے کا سہارا ہیں۔ زندگی شکست تسلیم کرکے خود کو ضائع کرنے کا نام نہیں بلکہ عزم و حوصلہ کے ساتھ مصائب کا مقابلہ کر کے آگے بڑھتے رہنے کا نام ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ خودکشی کسی مسئلہ کا حل نہیں بلکہ بذاتِ خود ایک مسئلہ ہے۔ بقول شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ؎
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے