والدین کو چاہئے کہ بچوں کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کریں تاکہ ان کے احساسات کو سمجھا جا سکے۔ صرف اپنی مرضی یا رائے ان پر نہ تھوپیں۔ بچے کو بھی اپنی بات رکھنے کی آزادی دیں۔ اچھے رویہ کی حوصلہ افزائی کریں۔
EPAPER
Updated: May 18, 2026, 2:14 PM IST | Nida Anjum | Mumbai
والدین کو چاہئے کہ بچوں کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کریں تاکہ ان کے احساسات کو سمجھا جا سکے۔ صرف اپنی مرضی یا رائے ان پر نہ تھوپیں۔ بچے کو بھی اپنی بات رکھنے کی آزادی دیں۔ اچھے رویہ کی حوصلہ افزائی کریں۔
بچوں اور نو عمروں میں نفسیاتی مسائل مختلف وجوہات کی بناء پر پیدا ہوتے ہیں جن میں والدین کی غیر موجودگی، تعلیمی دباؤ، سوشل میڈیا کے اثرات اور خاندانی مسائل وغیرہ شامل ہیں۔
والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کی تربیت کا عمل بچوں کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ وہ پہلا مرحلہ ہوتا ہے جس میں بچے بنیادی اقدار سیکھتے اور معاشرتی مہارتیں حاصل کرتے ہیں۔ والدین ہی وہ رہنما ہیں جو انہیں مضبوط قدموں سے آگے بڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں اور درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کی قوت فراہم کرتے ہیں، اس لئے والدین کو چاہئے کہ اپنے بچوں کی تربیت میں فعال اور باخبر رہیں وہ اپنی صلاحیتوں کو بڑھا کر اپنے بچوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ کسی بھی تربیت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے اور اس میں والدین کا کردار کلیدی ہے۔ والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کو محبت بھرا ماحول فراہم کریں اور ان کی صحیح رہنمائی کریں۔
یہ بھی پڑھئے: گرمیوں میں جسم کو پانی کی کمی سے بچانے والے قدرتی مشروبات
بچوں میں بڑھتے کچھ نفسیاتی مسائل ان کی وجوہات اور حل
اضطراب اور ڈپریشن: بچوں میں بے چینی، خوف یا سوشل اینکزائٹی کا ایسا مسئلہ ہے جس کے حل کی فوری تلاش از حد ضروری ہے۔ اس کی وجہ سے بچہ اکیلے رہنا چاہتا ہے۔ اجتماعی سرگرمیوں سے گریز اور موڈ کی تبدیلی یا افسردگی جیسی علامات اس میں ظاہر ہوتی ہیں۔ اس پر والدین بچوں کا سپورٹ سسٹم بن کر کسی حد تک قابو پا سکتے ہیں۔ والدین کو چاہئے کہ بچوں کے ساتھ محبت سے پیش آئیں اور ان کی ہر ممکن مدد کریں۔ انہیں دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کی ترغیب دیں تاکہ بچے خود کو اکیلا محسوس نہ کریں۔ انہیں کھیلوں یا دیگر جسمانی سرگرمیوں میں مشغول کریں۔ اس سے ان کی ذہنی صحت بھی بہتر ہوگی۔ متوازن غذا، باقاعدہ نیند اور محدود اسکرین ٹائم کو یقینی بنائیں۔والدین اساتذہ اور دیگر افراد تعاون کریں تو بچوں میں ڈپریشن کو کم کرنا مشکل نہیں۔
دھیان کی کمی: بچوں میں اے ڈی ایچ ڈی جیسے مسائل جن میں توجہ مرکوز کرنے میں مشکل ہوتی ہے، اب عام ہوتے جا رہے ہیں جو ان کی روزمرہ کی زندگی، تعلیم اور سماجی تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ یہ حالت عام طور پر بچپن ہی میں تشخیص کی جاتی ہے اور اس کے اثرات عمر کے ساتھ جاری رہ سکتے ہیں۔ بچوں کا ہوم ورک یا تعلیمی سرگرمیوں میں دلچسپی نہ لینا یا جگہ جگہ غلطیاں کرنا اس کی علامت ہے۔ اس کے لئے بہترین تھیراپی والدین کی تربیت اور سماجی مہارت کی تربیت ہے۔ خصوصی تعلیمی منصوبے یا کلاس روم میں خصوصی معاونت بھی بچے کے لئے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: والدین تعطیلات کو تربیت اور اصلاح کا بہترین موقع سمجھیں
رقیہ کا مسئلہ: بچوں اور نو عمروں میں آج کل بے جا غصہ کرنا یا تشدد پر اتر آنا ایک عام نفسیاتی مسئلہ ہے جو ان کی زندگی کی مختلف جہتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف اس کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ خاندانی اور سماجی تعلقات کو بھی متاثر کرتا ہے۔ گھر کے ماحول میں تناؤ، والدین کی لڑائی جھگڑا، دوستوں یا ہم جماعتوں سے بے رخی، کمزوری، مایوسی یا خود اعتمادی کی کمی اس کی کچھ اہم وجوہات ہو سکتی ہیں۔
جب والدین یا اساتذہ کی جانب سے غیر حقیقت پسندانہ توقعات ہوتی ہیں تو بچوں میں اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ والدین کو چاہئے کہ بچوں کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کریں تاکہ ان کے احساسات کو سمجھا جا سکے۔ صرف اپنی مرضی یا رائے ان پر نہ تھوپیں۔ بچے کو بھی اپنی بات رکھنے کی آزادی دیں۔ اچھے رویہ کی حوصلہ افزائی کریں۔ ہر چیز یا ہر بات میں خود کو مقدم نہ رکھیں۔ بچوں کے ساتھ مثبت تعلقات اور موثر مشورے کے ذریعے ان کی زندگی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بچوں کو ذہن نشین کرائیں کہ وقت کو کار آمد بنانا ہے
سماجی مسائل: بچوں میں سماجی مسئلہ ایک اہم موضوع ہے جو کہ ان کی ذہنی، جسمانی اور جذباتی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ان مسائل کی کئی وجوہات ہوتی ہیں جو ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے جڑی ہوتی ہیں۔ بچوں کا جسمانی یا زبانی تشدد کا نشانہ بننا، دوستوں یا خاندان میں عدم توجہ، تعلیمی نظام کی ناکامی یا پھر اقتصادی حالت بچوں کی روز مرہ کی ضرورتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔جس سے ان کی زندگی میں مشکلات بڑھتی ہیں اور ایسے میں والدین یا سرپرستوں کی بے خبری مسئلہ کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں سے دوستانہ ماحول میں بات کریں تاکہ وہ اپنی مشکلات کا اظہار کر سکیں۔ بچوں کو سماجی مہارتیں سکھائیں جیسے کہ دوست بنانا، بات چیت کرنا اور جذبات کا مناسب طریقے سے اظہار کرنا۔ والدین اور اساتذہ کو اپنے رویے کے ذریعے مثبت مثال قائم کرنی چاہئے تا کہ بچے انہیں دیکھ کر سیکھ سکیں۔ایک نسل کو پروان چڑھانا آسان کام نہیں ہے مگر تربیت کے اصولوں کو سمجھ کر انہیں بروئے کار لانے سے اس مشکل کو آسان بنایا جاسکتا ہے۔