Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایک اہم سوال.... کیا ہم ’اسکرین‘ کے غلام بن چکے ہیں؟

Updated: April 23, 2026, 3:32 PM IST | Nigar Rizvi Ashfaque | Mumbai

آج ہم جس نازک دور سے گزر رہے ہیں، اس میں یہ سوال بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے جواب کیلئے ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہوگا، یہ سوال تلخ ہے، مگر اس کا جواب تلاش کرنا اور اس سنجیدہ مسئلے کا حل تلاش کرنا بے حد ضروری ہے۔

What`s the use of a mobile phone if everyone is sitting together? Photo: INN
سب ساتھ بیٹھے ہوں تو موبائل کا کیا کام؟ تصویر: آئی این این

آج ہم جس نازک دور سے گزر رہے ہیں، اس میں یہ سوال بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے جواب کیلئے ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہوگا، یہ سوال تلخ ہے، مگر اس کا جواب تلاش کرنا اور اس سنجیدہ مسئلے کا حل تلاش کرنا بے حد ضروری ہے۔ آج سے تقریباً ۲۵؍ سال پہلے جب ہمارے ہاتھ نوکیا کا فون آیا تھا تب ہم نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ یہ ڈبیہ ہمارے ہاتھوں میں اس طرح چپک جائے گی کہ اس کے بغیر جینا محال لگنے لگے گا۔ بات اگر اس چھوٹے سے فون تک محدود رہتی تو مسئلہ اتنا نہ بڑھتا، لیکن جوں جوں اس بے ضرر فون کی جگہ اس اسمارٹ فون نے لے لی، مانو ساری دنیا ایک دوسرے سے بیگانہ ہوگئی۔

آج لیپ ٹاپ، موبائل اور سوشل میڈیا ہماری زندگی کا ایسا اٹوٹ حصہ بن چکے ہیں جن سے پیچھا چھڑانا ناممکن ہوگیا ہے۔ ہم پڑھائی، تفریح، دوستوں سے رابطہ حتیٰ کہ خریداری بھی اسکرین کے ذریعہ کرنے لگے ہیں۔ ضرورت کے تحت موبائل استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اصل مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جب ہم گھنٹوں اسکرین پر وقت ضائع کرتے ہیں۔ بے مقصد شارٹ ویڈیوز، ڈرامے اور موویز میں کب صبح سے شام ہوجاتی ہے پتہ نہیں چلتا۔

یہ بھی پڑھئے: پُرامید سوچ اور مثبت جذبات زندگی کو خوشگوار بنا سکتے ہیں

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بچوں کو پڑھانے میں معمولی دشواری پیش آنے پر بھی ہم فوراً موبائل کا سہارا لیتے ہیں، ہم نے ڈکشنری کا استعمال ترک کر  دیا اور ہم نے ریفرینس کے لئے کتابوں کو کھنگالنا چھوڑ دیا ہے۔ ہمیں سب سے آسان حل موبائل نظر آتا ہے، ایک انگلی کی جنبش پر ہمارے سارے سوالات کے جواب حاضر ہو جاتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کتابوں کی معلومات زیادہ واضح اور مستند ہوتی ہیں، اس کے برعکس موبائل کی معلومات غیر واضح اور بعض اوقات الجھا دینے والی ہوتی ہیں۔ اسکرین کے چکر میں پڑ کر ہم نے کتابوں کو پڑھنا ترک کر دیا، ہم نے الارم گھڑی کو استعمال کرنا چھوڑ دیا، ہم نے تصویروں کے لئے کیمرے کا استعمال ترک کر دیا، لوگوں کے فون نمبر کسی ڈائری میں محفوظ کرنا چھوڑ دیا، گانے سننے کے لئے ٹیپ ریکارڈ کا استعمال ترک کر دیا۔

پہلے ہم خواتین اخبارات اور رسائل سے مختلف پکوانوں کی تراکیب کے تراشے اپنے پاس محفوظ رکھتی تھیں، اب ہم نے وہ طریقہ بھلا دیا ہے، بس ایک انگلی کا اشارہ اور دنیا بھر کی ریسیپیز کی بھرمار.... ایک موبائل کتنی ہی میٹھی یادوں کو ہڑپ کر گیا.... بے شک ٹیکنالوجی سے فیضیاب ہونا عقل مندی ہے مگر ٹیکنالوجی کا غلام بن جانا سراسر حماقت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پیکجڈ فوڈز: غذائیت، نقصانات اور احتیاط

ہمیں چند احتیاطی تدابیر کرنی ہوں گی جس سے ہمارے ذہنوں پر جو موبائل کا خبط سوار ہو چکا ہے وہ کچھ ہلکا ہو جائے۔ خود بھی اور بچوں کو سونے سے کم از کم ۲؍ گھنٹے پہلے موبائل سے دور کر لیں، خود بھی ہلکے پھلکے کھیل کھیلیں اور بچوں کو بھی ساتھ ملا لیں، سونے سے قبل کسی اچھی کتاب کے مطالبے کی عادت بنا لیں اور بچوں کا بھی یہی معمول بنائے۔ بار بار بلا وجہ موبائل چیک کرنے سے گریز کریں۔ فیملی ٹائم میں موبائل کی موجودگی قطعاً نا قابل برداشت ہوگی۔ آپس میں خوشگوار وقت گزاریں، پُرلطف گفتگو کریں۔ رشتہ داروں کو وقتاً وقتاً اپنے یہاں مدعو کیا کریں، اپنے بچوں کو بھی ان سے ملاقات کروائیں، یہ ملاقاتیں تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد کرتی ہیں۔ بیشک اسکرین سے مکمل چھٹکارہ پانا ممکن نہیں ہے اور ٹیکنالوجی فائدہ مند بھی ہے، لیکن ان نکات پر عمل کرکے کسی حد تک اسے قابو میں کیا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK