متعدد پیکجڈ فوڈز میں ٹرانس فیٹس اور غیر معیاری تیل کا استعمال کیا جاتا ہے۔
EPAPER
Updated: April 23, 2026, 2:50 PM IST | Hafsa Thim | Mumbai
متعدد پیکجڈ فوڈز میں ٹرانس فیٹس اور غیر معیاری تیل کا استعمال کیا جاتا ہے۔
پیکجڈ فوڈز جیسے کہ چپس، انسٹنٹ نوڈلز، فروزن اسنیکس اور ریڈی ٹو اِیٹ میلز ذائقہ دار ہوتے ہیں۔ لیکن ان کا روزانہ استعمال صحت کو متاثر کرسکتا ہے۔ آج اس کالم میں جانئے کہ سوڈیم، ٹرانس فیٹس اور فوڈ ایڈیٹیوز (کھانوں کو محفوظ رکھنے والی اشیاء) کا اپنی خوراک میں روزانہ استعمال کرنے سے کیا ہوتا ہے؟
(۱)سوڈیم یعنی نمک کا بہت زیادہ استعمال
سوڈیم یعنی نمک کی زیادتی سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ دل اور گردے کی صحت متاثر ہوتی ہے، یہاں تک کہ ہائپرٹیشن کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پُرانی درسی کتابیں ردی نہیں، یہ مستحق بچوں کا مستقبل سنوار سکتی ہیں
(۲)ٹرانس فیٹس
متعدد پیکجڈ فوڈز میں ٹرانس فیٹس اور غیر معیاری تیل کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے بیڈ کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے۔ ساتھ ہی دل کی صحت متاثر ہوتی ہے اور وزن بڑھتا ہے۔
(۳)فوڈ ایڈیٹیوز اور پریزرویٹوز
آرٹی فیشل کلرز، فلیورز اور پریزرویٹوز کا صحت پر فوری اثر نہیں ہوتا لیکن مسلسل پیکجڈ فوڈ استعمال کرنے سے ہاضمہ متاثر ہوتا ہے، پیٹ پھولا ہوا محسوس ہوتا ہے اور معدے کی مجموعی صحت متاثر ہوتی ہے۔
(۴) لو نیوٹریشن، ہائی کیلوریز
پیکجڈ فوڈز میں غذائیت نہیں ہوتی جبکہ توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے تھکاوٹ، کمزور مدافعتی نظام اور غذائیت کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: موسم ِ گرما اور بچوں کی چھٹیاں: معمولات کی ترتیب کیسی ہو؟
سنگین بیماریوں کا سبب
پیکجڈ فوڈز کا مسلسل استعمال کرنے سے ذیابیطس ۲؍ کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی موٹاپے کا شکار ہوسکتے ہیں۔
کھانے کی لت
پیکجڈ فوڈز اس طرح تیار کئے جاتے ہیں کہ انہیں کھانے کی خواہش میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان کی لذت کے سبب ڈائٹ پر عمل کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور گھر کے بنے کھانوں سے اجتناب کرنے لگتے ہیں۔
خلاصہ:
کبھی کبھار پیکجڈ فوڈز کھانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن اسے عادت بنانا صحت کے لئے نقصاندہ ہوسکتا ہے۔ بہتر ہوگا کہ تازہ اور گھر کا بنا کھانا کھائیں۔ معمولی مگر مؤثر انتخاب سے بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔