Updated: July 07, 2026, 2:08 PM IST
| Mumbai
دلجیت دوسانجھ کی فلم ’’ستلج‘‘ (پرانا نام: پنجاب ۹۵) کو ZEE5 سے ریلیز کے صرف ۴۸؍ گھنٹوں بعد ہٹائے جانے پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ کامیڈین کنال کامرا نے سی بی ایف سی کے چیئرمین پرسون جوشی کو کھلا خط لکھ کر فلم پر عائد مبینہ ۱۲۷؍ کٹس، سینسرشپ اور سیاسی طور پر حساس فلموں کے ساتھ مبینہ دوہرے معیار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ دوسری جانب پروڈیوسر رونی سکرو والا نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کی ہدایت پر فلم ہٹائی گئی ہے۔
دلجیت دوسانجھ کی اداکاری سے سجی فلم ’’ستلج‘‘، جسے پہلے ’’پنجاب ۹۵‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، ریلیز کے صرف دو روز بعد ZEE5 سے ہٹائے جانے کے بعد نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ فلم کی اچانک واپسی نے نہ صرف سوشل میڈیا پر شدید ردعمل پیدا کیا بلکہ ہندوستان میں فلمی سینسرشپ اور اظہارِ رائے کی آزادی پر بحث کو بھی دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ اس معاملے پر کامیڈین کنال کامرا کی جانب سے سامنے آیا ہے، جنہوں نے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (CBFC) کے چیئرمین پرسون جوشی کے نام ایک کھلا خط لکھتے ہوئے کئی سخت سوالات اٹھائے۔ کنال کامرا نے سوال کیا کہ اگر فلم کا اصل عنوان ’’پنجاب ۹۵‘‘ تھا تو اس پر ۱۲۷؍ کٹس تجویز کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، اور پھر نام تبدیل کرکے ’’ستلج‘‘ کے عنوان سے او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر ریلیز ہونے کے باوجود اسے صرف ۴۸؍ گھنٹوں کے اندر کیوں ہٹا دیا گیا۔
انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ ’’کیا آپ عوام کو بتا سکتے ہیں کہ ’’پنجاب ۹۵‘‘ کے لیے ۱۲۷؍ کٹس کیوں تجویز کی گئیں؟ وہی فلم، جسے اب ’’ستلج‘‘ کے نام سے ریلیز کیا گیا، دو دن سے بھی کم وقت میں او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے ہٹا دی گئی، حالانکہ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز یا بین الاقوامی ریلیز پر سی بی ایف سی کا کوئی دائرہ اختیار نہیں ہے۔‘‘ کنال کامرا نے مزید کہا کہ فلم انسانی حقوق کے آنجہانی کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی جدوجہد پر مبنی ہے، جنہوں نے مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کیا اور اس کی قیمت اپنی جان دے کر چکائی۔ انہوں نے لکھا کہ ’’اگر دستاویزی حقائق پر مبنی ایسی فلم بھی ہندوستانی ناظرین نہیں دیکھ سکتے تو عوام یہ جاننے کے مستحق ہیں کہ آخر کیوں؟ اس سے فلم سازوں کو واضح پیغام ملتا ہے کہ اگر آپ کسی حساس شخصیت یا کمیونٹی پر فلم بنائیں گے تو آپ کو برسوں تک سینسرشپ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘
کنال کامرا نے اپنے خط میں سیاسی نوعیت کی فلموں کے حوالے سے مبینہ دوہرے معیار پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ بعض فلمیں آسانی سے سرٹیفکیٹ حاصل کر لیتی ہیں جبکہ دوسری فلمیں برسوں تک منظوری کی منتظر رہتی ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے لکھا کہ ’’دی کشمیر فائلز‘‘، ’’دی بنگال فائلز‘‘ اور ’’دی کیرالہ اسٹوری‘‘ کے لیے سرخ قالین بچھا دیا جاتا ہے، جبکہ دوسری جانب ایک حقیقی واقعات پر مبنی فلم برسوں تک سینسرشپ میں پھنسی رہتی ہے۔ صحافیوں کو سینسر بورڈ چلانے والوں سے یہ مشکل سوال ضرور پوچھنے چاہئیں۔‘‘ اپنے خط کے اختتام پر کنال کامرا نے کہا کہ ’’ستلج‘‘ کو ہٹایا جانا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے جسونت سنگھ کھالڑا کو ایک مرتبہ پھر خاموش کر دیا گیا ہو۔ انہوں نے لکھا کہ ’’اگر فلم ساز انصاف کے لیے لڑنے والوں کی کہانیاں بھی برسوں کی رکاوٹوں کے بغیر نہیں سنا سکتے تو ہم کس قسم کے سینما کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں؟ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے جسونت سنگھ کھالڑا کو ایک بار پھر اغوا کر لیا گیا ہو، اس بار سی بی ایف سی کے ذریعے۔‘‘
خیال رہے کہ ہدایت کار ہنی ٹریہن کی اس فلم میں دلجیت دوسانجھ نے جسونت سنگھ کھالڑا کا کردار ادا کیا ہے۔ فلم کا اصل نام ’’پنجاب ۹۵‘‘ تھا، تاہم اطلاعات کے مطابق سی بی ایف سی نے سرٹیفکیشن سے قبل ۱۲۷؍ سے زائد کٹس تجویز کیں، جس کے باعث فلم برسوں تک ریلیز نہ ہو سکی۔ یہ معاملہ عدالتوں تک بھی پہنچا، مگر تعطل برقرار رہا۔ بعد ازاں فلم سازوں نے فلم کو اس کی اصل اور غیر کٹی شکل میں اچانک ZEE5 پر ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن صرف ۴۸؍ گھنٹوں کے اندر اسے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:کاش اصل اسباب کو سمجھا جائے!
فلم ہٹائے جانے کے بعد ZEE5 نے باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’موجودہ صورتحال کے پیش نظر ’’ستلج‘‘ اگلے نوٹس تک ہندوستان میں دستیاب نہیں ہوگی۔ ہم مناسب قانونی عمل کے ذریعے ہر ممکن راستہ اختیار کر رہے ہیں تاکہ فلم کو جلد از جلد دوبارہ اپنے ناظرین تک پہنچایا جا سکے۔‘‘ دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر رونی سکروالا نے اسکرین سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ’’حکومت نے فلم ہٹوا دی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:کرسٹیانو رونالڈو کا ورلڈ کپ جیتنے کا خواب ٹوٹا، میچ کے بعد اسٹار فٹبالر آبدیدہ
فلم ہٹائے جانے سے قبل دلجیت دوسانجھ نے انسٹاگرام لائیو سیشن میں بھی عندیہ دیا تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جنہوں نے ابھی تک فلم نہیں دیکھی، وہ جلد از جلد دیکھ لیں۔ آپ میری بات سمجھ رہے ہوں گے۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ فلم پیر تک ہٹا دی جائے، لیکن فکر نہ کریں۔‘‘ بعد ازاں فلم ہٹائے جانے پر دلجیت نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’’جو ’’ستلج‘‘ کے ساتھ ہوا، بالکل وہی جسونت سنگھ کھالڑا کے ساتھ ہوا تھا۔‘‘ واضح رہے کہ ’’ستلج‘‘ آنجہانی انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی پر مبنی ہے، جس میں پنجاب میں عسکریت پسندی کے دور کے دوران مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبری گمشدگیوں اور حراستی اموات کو بے نقاب کرنے کی ان کی جدوجہد کو پیش کیا گیا ہے۔