Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسکرین کی چمک سے شعور کا چراغ روشن کریں

Updated: July 09, 2026, 1:27 PM IST | Javeria Qazi | Mumbai

ڈجیٹل ٹیکنالوجی کے فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی، یہ آپ پر اور اگلی نسل پر منحصر ہے کہ اس کا استعمال کیسے کیا جائے؟ اگر درست سمت ہوگی تو ترقی کی منازل ہموار ہوں گی۔

Mobile User.Photo:INN
موبائل یوزر۔ تصویر:آئی این این
صبح کی پہلی کرن اب کھڑکی سے کم اور موبائل کی اسکرین سے زیادہ طلوع ہوتی ہے۔ آنکھ کھلتے ہی انگلیاں دعا کیلئے نہیں بلکہ نوٹیفکیشن کی طرف بڑھتی ہیں۔ چائے کی بھاپ، اخبارات کی سرسراہٹ اور گھر والوں کی گفتگو کے درمیان اب ایک خاموش مہمان موجود ہوتا ہے ’سوشل میڈیا‘۔ یہ مہمان اتنا مانوس ہوچکا ہے کہ اس کی موجودگی کا احساس بھی نہیں رہتا، مگر اس کی عدم موجودگی بے چینی پیدا کر دیتی ہے۔
سوشل میڈیا محض ایک ٹیکنالوجی نہیں، یہ ہمارے عہد کی نئی تہذیب ہے۔ اس نے فاصلے سمیٹ دیئے، آوازوں کو سرحدوں سے آزاد کر دیا اور خیالات کو عالمی منڈی میں لا کھڑا کیا۔ آج ایک طالبعلم اپنے گاؤں سے بیٹھ کر دنیا کی بہترین جامعات کے اساتذہ سے سیکھ سکتا ہے، ایک ہنرمند اپنی صلاحیت کو پوری دنیا تک پہنچا سکتا ہے، اور ایک عام شہری بھی کسی اہم سماجی مسئلے پر اپنی آواز بلند کرسکتا ہے۔ بلاشبہ یہ جدید دور کی ایک بڑی نعمت ہے۔ لیکن ہر نعمت کے ساتھ ایک آزمائش بھی وابستہ ہوتی ہے۔
ہم نے رابطے تو بڑھا لئے، مگر رشتوں کی حرارت کہیں پیچھے رہ گئی۔ دوستوں کی فہرستیں طویل ہوگئیں، مگر دل کی بات سننے والا کوئی کم ہی ملا۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد ایک دوسرے کے قریب بیٹھے ہوتے ہیں، لیکن ان کی نظریں ایک دوسرے کے چہروں پر نہیں بلکہ الگ الگ اسکرینوں پر جمی ہوتی ہیں۔ گفتگو مختصر، احساسات مصنوعی اور تعلقات بتدریج رسمی ہوتے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے زندگی کو رفتار دی ہے، مگر اسی رفتار نے انسان سے ٹھہراؤ بھی چھین لیا ہے۔ ہر لمحہ نئی خبر، نئی ویڈیو، نیا رجحان اور نئی بحث ہماری توجہ کو منتشر کر دیتی ہے۔ انسان اب معلومات کے سمندر میں کھڑا ہے، مگر حکمت کے قطرے کو ترس رہا ہے۔ سب سے زیادہ متاثر نوجوان نسل ہوئی ہے۔ کامیابی کی اصل تعریف محنت، کردار اور علم کے بجائے لائکس، فالورز اور وائرل ہونے سے جوڑی جانے لگی ہے۔ دوسروں کی سجی ہوئی زندگیوں کو دیکھ کر اپنی حقیقی زندگی پھیکی محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہی احساسِ تقابل ذہنی دباؤ، بے چینی اور مایوسی کو جنم دیتا ہے۔ تاہم، تصویر کا دوسرا رخ بھی روشن ہے۔ یہی سوشل میڈیا سماجی خدمت، تعلیم، صحت، ماحولیات، انسانی حقوق اور قومی یکجہتی کیلئے ایک طاقتور ذریعہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ اس کا استعمال ذمہ داری، تحقیق اور اخلاق کے ساتھ کیا جائے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم خود سے ایک سوال کریں! کیا ہم سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں، یا سوشل میڈیا ہمیں استعمال کر رہا ہے؟ زندگی کی اصل خوبصورتی اسکرین کے اندر نہیں، انسانوں کے درمیان ہے۔ والدین کی شفقت، دوستوں کی رفاقت، کتابوں کی خوشبو، فطرت کی خاموشی اور حقیقی مکالمے کا لطف کسی ڈجیٹل پلیٹ فارم پر دستیاب نہیں۔ ٹیکنالوجی کو زندگی کا سہارا ضرور بنائیے، مگر اسے زندگی کا مرکز نہ بننے دیجئے۔
سوشل میڈیا نہ خیرِ مطلق ہے، نہ شرِ مطلق۔ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جو ہمارے معاشرہ کی صورت بھی دکھاتا ہے اور ہماری سیرت کا امتحان بھی لیتا ہے۔ فیصلہ اس آلہ کو نہیں، انسان کو کرنا چاہئے کہ وہ اسے تعمیر کا وسیلہ بناتا ہے یا تخریب کا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ٹیکنالوجی سے جنگ کرنے کے بجائے اس کے ساتھ ایک دانشمندانہ مفاہمت کی راہ اختیار کریں۔ ایسی مفاہمت، جس میں رفتار ہو مگر شعور بھی؛ اظہار ہو مگر اخلاق بھی؛ آزادی ہو مگر ذمہ داری بھی؛ اور رابطہ ہو مگر رشتوں کی حرارت بھی۔ گھروں میں مکالمے دوبارہ زندہ ہوں، تعلیمی اداروں میں ڈجیٹل خواندگی کو اخلاقی تربیت کے ساتھ جوڑا جائے، اور نوجوان نسل کو یہ احساس دلایا جائے کہ اصل کامیابی اسکرین پر نظر آنے والی مقبولیت نہیں بلکہ کردار کی روشنی اور علم کی گہرائی ہے۔ اگر ہم سوشل میڈیا کو نفرت کے بجائے محبت، افواہوں کے بجائے تحقیق، خودنمائی کے بجائے خودآگہی، اور وقت کے زیاں کے بجائے علم، خدمت اور تخلیق کا وسیلہ بنا سکیں تو یہی پلیٹ فارم ہمارے معاشرہ کیلئے نئی منزلوں کے دروازے کھول سکتا ہے۔
ہر عہد اپنی آزمائشیں اور اپنے امکانات ساتھ لے کر آتا ہے۔ یہ ڈجیٹل عہد بھی ہمارے سامنے ایک سوال رکھتا ہے، کیا ہم اسکرینوں کی چمک میں اپنی بصیرت کھو دیں گے، یا اسی روشنی سے شعور کا چراغ روشن کریں گے؟ اگر ہم نے درست انتخاب کر لیا تو آنے والا کل صرف زیادہ مربوط نہیں، بلکہ زیادہ مہذب، زیادہ باخبر اور زیادہ انسان دوست بھی ہوگا۔ یہی وہ نئی منزل ہے جہاں ٹیکنالوجی انسان کی خدمت کرے گی، اور انسان اپنی انسانیت کی حفاظت کرتے ہوئے ترقی کی نئی داستان رقم کرے گا۔ آج کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ ہم ڈجیٹل دنیا میں رہتے ہوئے بھی اپنی انسانیت، اپنے رشتوں، اپنی تہذیب اور اپنے شعور کو زندہ رکھیں۔ کیونکہ اسکرین کی روشنی اگر دل کی روشنی کو مدھم کر دے، تو ترقی کا سفر ادھورا رہ جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK