Inquilab Logo Happiest Places to Work

کنزیومر کانفیڈنس سروے اور اعتماد کا بحران

Updated: July 09, 2026, 1:03 PM IST | Tulsi Jayakumar | Mumbai

ریزرو بینک آف انڈیا کے اس تازہ سروے میں بتایا گیا ہے کہ شہروں اور دیہات، دونوں جگہ عوام کی معاشی بے چینی ایک جیسی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ سب سے زیادہ فکر انگیز پہلو مستقبل سے متعلق توقعات کا کمزور ہونا ہے۔

Market.Photo:INN
مارکیٹ۔ تصویر:آئی این این
معیشت کی دنیا میں کچھ اعداد و شمار ایسے ہوتے ہیں جو حکومتوں کی کامیابی کا پیمانہ بن جاتے ہیں۔ مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو، مہنگائی کا سرکاری اشاریہ، صنعتی پیداوار یا برآمدات کے اعداد و شمار اکثر خبروں کی زینت بنتے ہیں۔ لیکن ایک ایسا اشاریہ بھی ہے جو خاموشی سے عوام کے  دل و دماغ کی کیفیت بیان کرتا ہے، مگر اس پر شاذ و نادر ہی سنجیدگی سے غور کیا جاتا ہے۔ یہ ہے ریزرو بینک آف انڈیا  کا’’ کنزیومر کانفیڈنس سروے‘‘ ، جس میں شہری اور دیہی ہندوستان کے ہزاروں افراد سے ان کی معاشی زندگی، روزگار، آمدنی، مہنگائی اور اخراجات کے بارے میں سوالات کئے جاتے ہیں۔ 
مئی  ۲۰۲۶ء کے تازہ سروے نے ایک ایسی تصویر پیش کی ہے جو بظاہر اقتصادی ترقی کے دعوئوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔یہ سروے بتاتا ہے کہ ہندوستانی شہریوں کا اپنی موجودہ معاشی حالت پر اعتماد مسلسل کم ہو رہا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ مستقبل کے بارے میں جو امید ہمیشہ ہندوستانی معاشرے کی ایک نمایاں خصوصیت رہی ہے، اس میں بھی دراڑیں پڑنے لگی ہیں۔ گویا مسئلہ صرف آج کی پریشانی کا نہیں بلکہ آنے والے کل سے وابستہ یقین کے متزلزل ہونے کا بھی ہے۔۱۹؍ بڑے شہروں میں  کئے گئے سروے کے مطابق شہری علاقوں کا’’کرنٹ سیچویشن انڈیکس‘‘ گھٹ کر۹۰ء۷؍ رہ گیا ہے، جبکہ صرف دو ماہ قبل یہ۹۵ء۷؍ تھا۔ اس انڈیکس میں سو سے کم اسکور اس بات کی علامت ہے کہ خوش حال محسوس کرنے والوں کے مقابلے میں زیادہ لوگ خود کو بدتر معاشی حالات میں دیکھ رہے ہیں۔ مسلسل تین سروے میں اس انڈیکس کا گرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ کوئی وقتی کیفیت نہیں بلکہ ایک مستقل رجحان بنتا جا رہا ہے۔تقریباً نصف  یعنی ۴۷ء۷؍ فیصدشہری خاندانوں نے اعتراف کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ان کے معاشی حالات مزید خراب ہوئے ہیں  جبکہ بہتری محسوس کرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں کم ہے۔ یہ تعداد ۳۱ء۲؍ فیصدہے۔ لوگوں کو صرف ملک کی مجموعی معیشت پر ہی تشویش نہیں بلکہ انہیں اپنی آمدنی، روزگار اور گھریلو اخراجات کے بارے میں بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ بے یقینی محسوس ہو رہی ہے۔
 
 
دیہی ہندوستان کی صورتحال بھی زیادہ مختلف نہیں ہے۔ تقریباً نو ہزار خاندانوں پر مشتمل سروے میں پہلی مرتبہ ایک سال سے زیادہ عرصے بعد یہ رجحان سامنے آیا کہ حالات بہتر ہونے کے بجائے خراب محسوس کرنے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔دیہی ہندوستان میں یہ تعداد ۹۵ء۲؍ فیصد ہے۔ روزگار کے بارے میں اعتماد بھی کمزور ہوا ہے اور معاشی صورتحال پر دیہی علاقوں کا مجموعی ردعمل گزشتہ ۲؍ برس میں پہلی مرتبہ منفی ہو گیا ہے۔ یہ منفی ۲ء۵؍ پر آگیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شہروں اور دیہات، دونوں جگہ عوام کی معاشی بے چینی ایک جیسی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔سب سے زیادہ فکر انگیز پہلو مستقبل سے متعلق توقعات کا کمزور ہونا ہے۔ ماضی میں جب بھی لوگوں سے مستقبل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے موجودہ مشکلات کے باوجود بہتر کل کی امید ظاہر کی۔ یہی امید گھریلو کھپت، سرمایہ کاری اور اقتصادی سرگرمیوں کو سہارا دیتی رہی لیکن اب شہری علاقوں کا ’’فیوچر ایکسپیک ٹیشن  انڈیکس‘‘ ستمبر۲۰۲۳ء کے بعد اپنی کمترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ یہ ۱۱۸ء۷؍ پوائنٹس ہےجبکہ دیہی علاقوں میں بھی مستقبل کے بارے میں امید میں نمایاں کمی آئی ہے۔ یہاں انڈیکس ۱۱۹ء۳؍ پوائنٹس ریکارڈ ہوا ہے۔ ۲۰۲۳ء کےبعد یہ سب سے کم ہے۔ جب عوام آنے والے دنوں سے ہی مایوس ہونے لگیں تو اس کے اثرات صرف نفسیاتی نہیں رہتے بلکہ پوری معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غیر ضروری یا اختیاری اخراجات میں کمی کا رجحان واضح طور پر سامنے آیا ہے۔ لوگ بنیادی ضروریات پر تو خرچ کر رہے ہیں کیونکہ ان سے گریز ممکن نہیں لیکن گاڑی، الیکٹرانکس، گھریلو سازوسامان، سیاحت، ہوٹل، ریستوران اور دیگر خدمات پر خرچ کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ یہی وہ شعبے ہیں جو روزگار پیدا کرتے ہیں اور اقتصادی سرگرمی کو رفتار دیتے ہیں۔  
 
 
اس پورے منظرنامے میں مہنگائی کا پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ سرکاری اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ افراطِ زر قابو میں ہے لیکن عام آدمی کی رائے اس سے مختلف ہے۔ دیہی علاقوں کے لوگوں کا خیال ہے کہ قیمتیں اب بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور آئندہ ایک سال میں مہنگائی ۷؍فیصد سے بھی زیادہ رہ سکتی ہے جبکہ حکومت کے اپنے اندازے ۵ء۹؍ فیصد کے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ معیشت صرف سرکاری اعداد و شمار سے نہیں چلتی بلکہ لوگوں کے احساسات اور توقعات بھی اس میں اتنا ہی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ایک خاندان کو یقین ہو کہ آنے والے دنوں میں ہر چیز مزید مہنگی ہوگی تو وہ آج ہی اپنے اخراجات محدود کر دے گا، خواہ سرکاری رپورٹیں کچھ بھی کہتی رہیں۔اس  لئے آر بی آئی کے اس سروے کو محض ایک معمول کی شماریاتی رپورٹ سمجھ کر نظر انداز کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ یہ عوامی نفسیات کا آئینہ ہے۔ اگر مسلسل تین سروے ایک ہی سمت کی نشاندہی کر رہے ہوں، اگر شہری اور دیہی دونوں ہندوستان میں اعتماد کمزور پڑ رہا ہو، اگر مستقبل کی امید مدھم ہو رہی ہو اور اگر اختیاری اخراجات سکڑ رہے ہوں تو یہ ایک واضح انتباہ ہے کہ معیشت کی رفتار صرف کاغذی اعداد و شمار سے نہیں ناپی جا سکتی۔حکومت بارہا یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ہندوستان دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی بڑی معیشت ہے اور آنے والے برسوں میں کئی نئے سنگ میل عبور کرے گا۔ ان دعوئوں کی اپنی اہمیت ہے لیکن معاشی ترقی کا اصل معیار صرف جی ڈی پی کی بلند شرح نہیں بلکہ عوام کا اعتماد، ان کی قوتِ خرید اور مستقبل کے بارے میں ان کا اطمینان بھی ہے۔ اگر عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کریں، آمدنی کے بارے میں فکرمند رہیں اور خرچ کرنے سے ہچکچائیں تو بلند شرح نمو بھی دیرپا ثابت نہیں ہو سکتی۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت صرف معاشی اشاریوں کی بہتری پر اطمینان نہ کرے بلکہ ان وجوہات کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لے جن کی وجہ سے عام آدمی کے دل میں معاشی عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ روزگار کے مواقع میں اضافہ، حقیقی آمدنی میں بہتری، مہنگائی پر مؤثر قابو اور متوسط و کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید میں اضافہ ہی وہ اقدامات ہیں جو اعتماد کی بحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔آخرکار معیشت صرف اعداد و شمار کا نام نہیں، بلکہ انسانوں کی امیدوں، خوابوں اور اعتماد کا بھی  نام ہے۔ اگر یہ اعتماد کمزور پڑ جائے تو ترقی کے بلند بانگ دعوے بھی اپنی چمک کھو دیتے ہیں۔ آر بی آئی کا تازہ سروے اسی حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ہندوستان کی معیشت کو صرف رفتار ہی نہیں، عوام کے اعتماد کی بھی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK