ماں کی بے پایاں محبّت کو لفظوں میں نہیں پرویا جاسکتا

Updated: May 09, 2022, 12:59 PM IST | Odhani Desk | Mumbai

جس طرح سمندر کی گہرائی کی پیمائش کرنا ممکن نہیں ہے اسی طرح ماں کی بے لوث محبّت کو بھی چند لفظوں میں بیان ممکن نہیں ہے۔ ماں چلچلاتی دھوپ میں سایہ ہے، پریشانی میں آسانی کا سبب ہے، سردی میں گرم احساس دلاتی ہے اور مصیبت میں ڈھال بن جاتی۔ سب سے بڑی بات یہ کہ کبھی اس کا بدلہ نہیں چاہتی۔ ماں تو بے غرض اپنی اولاد کے لئے اپنی محبّت نچھاور کرتی ہے اور اس کے ایثار کی داستانیں دُنیا کے چپے چپےپر بکھری ہوئی ہیں۔ گزشتہ روز (اتوار،۸؍ مئی کو) عالمی یوم ِ مادر کی مناسبت سے ہم نے ایک تحریر جمعرات کو شائع کی تھی جبکہ آج یہ فیچر حاضر ہے۔ ایسی ہی پیشکش کل بھی ملاحظ فرمائیں ، اِن شاء اللہ۔

There is a building under construction where a working mother is working carrying her baby.Picture:PTI
زیر نظر تصویر اس بات کو سچ ثابت کرتی ہے۔ یہ تصویر امرتسر میں واقع زیر تعمیر عمارت کی ہے جہاں ایک مزدور ماں اپنی بچّی کو اٹھائے ہوئے کام کر رہی ہے۔ تصویر: پی ٹی آئی

’’علاج کے دوران ماں نے مجھے ایک لمحہ کیلئے بھی نہیں چھوڑا‘‘
ماں خالق کائنات کی خوبصورت ترین تخلیق اور ابن ِ آدم کے لئے رب ِ کائنات کا سب سے انمول تحفہ ہے۔ ماں کا لفظ سنتے ہی دل و دماغ میں ایک شفقت بھرا مجسمہ اُبھرتا ہے۔ ماں اپنی اولادوں سے بے لوث محبّت کرتی ہے۔ ماں کی گود پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔ ماں کی محبّت اور اس کی رحمدلی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنی محبّت کا موازنہ ماں کی محبت سے کیا کہ وہ ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبّت کرنے والا ہے۔ ہر ماں کو اپنی اولاد پیاری ہوتی ہے اور اولاد کے لئے بھی ماں عزیز ہوتی ہے۔ میری لئے بھی میری ماں بہت عزیز ہے۔ مَیں بچپن ہی سے اکثر بیمار رہا کرتی تھی۔ میری امّی میرا بہت خیال رکھتی تھیں۔ ایک دفعہ میرے سر میں شدید درد تھا، مجھے اسپتال داخل کیا گیا۔ تقریباً ایک ہفتہ مجھے اسپتال میں رکھا گیا اور میری امّی مجھے ایک سیکنڈ کے لئے بھی چھوڑ کر نہیں گئیں۔ حالانکہ میری امّی کو ہائی بلڈ پریشر کی شکایت تھی، اُن کے لئے نیند کافی اہم تھی مگر وہ اپنی کسی تکلیف کا خیال نہ رکھتے ہوئے میرے ساتھ رہیں۔ مجھے یاد ہے میرے وارڈ میں موجود ہر مریضہ کے ساتھ رہنے والا تھوڑی دیر کے لئے گھر آرام کرنے جاتا تھا مگر میری امّی شروع سے آخر تک پورا وقت میرے ساتھ رہیں۔ یہ تو میری ماں کی ایک چھوٹی سی قربانی کا ذکر ہے، ایسی نہ جانے کتنی قربانیاں انہوں نے میری دی ہوں گی، اس کا اندازہ لگانا بے حد مشکل ہے۔ یقیناً ماں ہم آپ کی قربانیوں کا حق ادا نہیں کرسکتے۔ ویسے تو مَیں روز کہتی ہوں لیکن’’مدرز ڈے‘‘ کی مناسبت سے اس بات کا اظہار کرنا چاہوں گی کہ ماں! مجھے آپ سے بے حد محبّت ہے، آئی لو یو  مام....، ہر دن ماں کا دن ہے، ہر لمحہ ماں کے لئے ہے، اللہ کرے ہر ماں کا سایہ اپنے بچوں پر سلامت رہے۔ (آمین)ماں اعتبارِ گردشِ لیل و نہار ہے  ماں آئینہ رحمت پروردگار ہے
نیہا شکیل احمد انصاری
’’مجھے بچانے کیلئے ماں کے ہاتھ کڑاہی کے گرم تیل سے جل گئے‘‘
’’ماں‘‘ پیکر ِ تقدیس، عطیۂ خداوندی اور نعمت کا ہر لفظ احترام کا اگر ماں کے لئے استعمال کیا جائے تو بھی کم ہے۔ ممتا، ایثار و قربانی، پیار و محبّت کی مکمل تصویر ماں ہوتی ہے۔ ماں زمانے  کے سرد و گرم  کا سامنا کرتی ہے لیکن اپنے بچوں کو ٹھنڈی ہواؤں میں رکھتی ہے۔ ماں کے وجود سے کائنات میں انسانیت کے رنگ بھرے ہیں۔ ماں دنیا میں جنت کا روپ ہے۔ اس کے چلے جانے کے بعد دنیا کی تمام چاہتیں، محبتیں چلی جاتی ہیں۔ ماں کی محبت میں بچوں کے لئے ظاہری ودنیاوی لحاظ سے تفریق وتقسیم نہیں ہوتی اور تمام بچوں سے حقیقی اور یکسانیت کی بنیاد پر پیار کرتی ہے۔ ہر کسی کی زندگی میں ماں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ میری زندگی کے نشیب و فراز میں بھی میری والدہ کا اہم رول رہا ہے۔ میری پیشانی پر آئی فکر، میری آنکھوں میں اتر پریشانی کو پل میں پڑھ لینا جیسے ان شیوہ رہا ہے۔ وہ میرے دل کو، روح کو ٹٹولٹی رہتی کہ آیا مَیں خوش ہوں یا نہیں۔ سچ کہوں تو وہ میرا چہرہ دیکھتے ہی سمجھ جاتی ہے کہ مَیں تکلیف میں ہوں یا کوئی بات ہوئی ہے۔ پتہ نہیں ماں کے پاس کون ساجادوئی آلہ ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ سب کچھ جان جاتی ہے۔ میری تعلیمی سرگرمیوں میں بھی وہ پیش پیش رہیں۔ مجھے یاد ہے آج بھی وہ سانحہ جب مَیں ۸؍ برس کی تھی۔ میری والدہ کچن میں پکوڑے تل رہی تھی اور مَیں نے عجلت میں ان کا دوپٹہ پکڑ کر اُن کو پکارا۔ تیل کڑاہی میں کھول رہا تھا۔ عین ممکن تھا کہ کڑاہی لڑھک کر مجھ پر گر جاتی لیکن بروقت میری والدہ نے ننگے ہاتھوں سے وہ کڑاہی تھام لی اور گرم تیل چھلک کر میری والدہ کے ہاتھوں کو جلا گیا۔ مَیں ڈر کے مارے چیخنے لگی اور روتے ہوئے بھاگ کر سب کو بلا لائی۔ گرم تیل کے سبب ان کے ہاتھ جھلس چکے تھے۔ وہ نشان آج تک میری والدہ کے ہاتھوں پر موجود ہے۔ یہ زندہ مثال ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایک ماں اپنی اولاد کو بچانے کے لئے کس حد تک جاسکتی ہے۔ ماں، مَیں آپ کی شکر گزار ہوں۔
ڈاکٹر لبنیٰ محمد ایوب انصاری’’’’

مَیں اپنی ماں کا خواب پورا کروں گی....‘‘
’’ماں‘‘ کی محبت اور شفقت کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل کام ہے ۔ وہ جن مصائب، تکالیف اور مشکلات برداشت کرکے اپنی اولاد کی پرورش کرتی ہے،  اسے بیان نہیں جاسکتا۔ مَیں ایک اسکول میں ٹیچر ہوں۔ آج جو کچھ بھی ہوں، وہ اپنی ماں کی بدولت ہوں۔ ۱۹۹۶ء کی بات ہے جب مَیں نے دسویں کا امتحان پاس کیا تھا مگر مجھے مزید پڑھنے کی اجازت نہیں ملی مگر میری ماں نے مجھے کالج میں داخل کروانے کی بہت کوشش کی اور انہیں کامیابی بھی ملی۔ مَیں گھر کی بڑی بیٹی ہوں، اس وقت گھر میں کوئی تعلیم یافتہ نہیں تھا اس لئے ماں نے کالج کا فارم پُر کرنے کیلئے پڑوسی کی مدد لی۔ اس وقت ہم کرلا میں رہتے تھے، وہاں سے ایک قریبی کالج میں ہم لسٹ دیکھنے کیلئے گئے۔ چونکہ مَیں پہلے ہی سے احساسِ کمتری کا شکار تھی اس لئے مَیں اپنا نام لسٹ کے نچلے جانب سے دیکھ رہی تھی، جہاں میرا نام نہیں تھا۔ مَیں مایوس ہوگئی مگر ماں نے ہمت دلائی اور کہاکہ لسٹ اوپر سے دیکھو اور مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ میرا نام سب سے پہلا لکھا ہوا تھا۔ بالآخر میرا داخلہ ہوگیا اور کالج کے پہلے دن ماں مجھے چھوڑنے کیلئے آئی۔ انہوں نے مجھے نصیحت کی کہ اپنی پڑھائی پر توجہ دینا اور خود کو ثابت کرنا۔ ماں کی بدولت ہی مَیں آج ٹیچر ہوں۔ میری ماں کا خواب ہے کہ مَیں پرنسپل بنوں اور مجھے اُمید ہے کہ مَیں اُن کا خواب پورا کروں گی، ان شاء اللہ!
روبینہ خان
’’میرے لئے ماں نے اپنا کریئر چھوڑ دیا‘‘
’’ماں‘‘ شفقت، خلوص، بے لوث محبت اور قربانی کا دوسرا نام ہے۔ ماں دُنیا کا وہ پیارا لفظ ہے جس کو سوچتے ہی ایک محبت، ٹھنڈک، پیار اور سکون کا احساس ہوتا ہے۔ اگر ماں اکیلی ہے اور شوہر دار فانی سے کوچ کرجائے تو وہ ماں زمانے کی سختیاں برداشت کرکے اولاد کی تربیت کرتی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ماں آپ نے مجھے کبھی ابّا کی کمی محسوس ہونے نہیں دی۔ جب مَیں ۷؍ سال کی تھی تب میرے والد کا انتقال ہوگیا تھا۔ اس وقت امّی ایک کارپوریٹ کمپنی میں اچھے عہدے پر فائز تھیں۔ ابّا کے انتقال کے بعد امی نے میرے لئے ملازمت چھوڑ دی اور ایک معمولی تنخواہ پر پارٹ ٹائم جاب کرنے لگی تاکہ مجھے زیادہ وقت دے سکے۔ میری والدہ نے میرے لئے اپنا کریئر چھوڑ دیا اور میری خواہشات کو ترجیح دی۔ مَیں نے کم عمری سے امّی کو کافی محنت کرتے دیکھا، وہ دن رات گھر اور دیگر ذمہ داریوں کو نبھانے کے لئے جدوجہد کرتی رہیں۔ ان سب کے باوجود وہ جب بھی گھر میں داخل ہوتیں، ان کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی۔ امّی مَیں آپ کی کسی بھی قربانی کو کبھی بھول نہیں سکتی۔ مَیں آپ سے وعدہ کرتی ہوں کہ آپ کے چہرے کی مسکراہٹ کو کبھی ماند پڑنے نہیں دوں گی، اِن شاء اللہ۔ آج مَیں ۱۷؍ سال کی ہوں اور آپ میرے لئے ’’ہیرو‘‘ ہیں۔ 
علیزہ عابد سیّد
’’ماں اللہ کا سب سے خوبصورت تحفہ ہے!‘‘
میری ماں میرے لئے سب سے قیمتی ہے۔ دُنیا کی ساری دولت اور نعمت میری ماں کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔ مجھے میری ماں سے بے حد محبّت ہے۔ میری ہر پسند کا وہ بے حد خیال رکھتی ہے۔ میری کسی غلطی یا نادانی پر وہ مجھے بڑے پیار سے سمجھاتی ہے۔ مَیں بھی میری ماں کی بہت عزت کرتی ہوں اور ہر حکم کی تعمیل کرتی ہوں۔ میری ماں دُنیا کی سب سے اچھی ماں ہے۔ دو سال پہلے کی بات ہے۔ میری  طبیعت بہت زیادہ خراب ہوگئی تھی جس کی وجہ سے مجھے آرام کی ضرورت تھی۔ اس لئے میری ماں نے مجھ سے گھر کا کوئی کام نہیں کروایا بلکہ میرا کام بھی انہوں نے کیا  ساتھ ہی میرا بہت زیادہ خیال رکھا۔ وقت پر ناشتہ، کھانا اور دوا دینا بالکل نہیں بھولیں۔ کئی ساری ذمہ داریوں کے ساتھ وہ مجھے باہر ٹہلانے بھی لے جایا کرتی تھیں۔ اس طرح مَیں جلد صحت یاب ہو گئی۔ میری صحت یابی کے بعد ہی میری ماں کو سکون ملا۔ مجھے یاد ہے جب تک مَیں بیمار تھی، ماں کو بالکل بھی چین نہیں تھا۔ وہ ہر وقت میرے لئے پریشان نظر آتی تھی۔ واقعی ماں اللہ کا سب سے خوبصورت تحفہ ہے۔ ماں ہمیں دُنیا کی ہر مصیبت سے محفوظ رکھتی ہے۔ اگر کبھی کھانسی آجائے تو دوڑ کر پانی لے آتی ہے۔ ہماری ہر چھوٹی سی چھوٹی بات کا خیال رکھتی ہے۔ ماں! مَیں آپ سے بہت محبّت کرتی ہوں۔انصاری بشریٰ ماجد اختر

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK