بزرگ کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ بزرگوں کے تجربات، نصیحتیں اور دعائیں تمام افراد کیلئے مشعل راہ ہوتی ہیں۔
EPAPER
Updated: June 15, 2026, 4:10 PM IST | Sultana Siddiqui | Mumbai
بزرگ کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ بزرگوں کے تجربات، نصیحتیں اور دعائیں تمام افراد کیلئے مشعل راہ ہوتی ہیں۔
بزرگ کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ بزرگوں کے تجربات، نصیحتیں اور دعائیں تمام افراد کیلئے مشعل راہ ہوتی ہیں۔ ایک دور تھا جب بزرگوں کو عزت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ اس کے برعکس آج کے دور میں ایک تشویشناک رجحان یہ سامنے آ رہا ہے کہ بہت سے افراد اپنے بزرگوں کو بوجھ سمجھنے لگے ہیں۔ اس رجحان کے کئی سماجی، معاشی اور اخلاقی اسباب ہیں:
* آج کل سبھی افراد اپنی ملازمت کاروبار اور دیگر مصروفیات میں بہت زیادہ اُلجھے ہوئے ہیں اور بزرگوں کیلئے وقت نکالنا بہت سے لوگوں کو مشکل ہوگیا ہے لہٰذا بعض افراد اُن کو غیر ضروری اور اضافی ذمہ داری تصور کرنے لگے ہیں۔ پہلے مشترکہ خاندانی نظام عام تھا جہاں بزرگوں کی دیکھ بھال گھر کے سبھی افراد مل کر کرتے تھے۔ اب زیادہ تر لوگ اِنفرادی زندگی جینا چاہتے ہیں اور علاحدہ رہنا پسند کرتے ہیں۔ اس تبدیلی نے بزرگوں کی تنہائی میں اضافہ کر دیا ہے۔ معاشی مشکلات بالخصوص بڑھتی ہوئی مہنگائی اور مالی دباؤ کی وجہ سے بعض خاندان بزرگوں کے اخراجات کو غیر ضروری بوجھ سمجھنے لگے ہیں۔ علاج معالجہ اور دیگر ضروریات پر خرچ ہونے والی رقم بھی بزرگوں کیلئے منفی سوچ میں اضافہ کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نئے تعلیمی سال کی دستک اور ماؤں کی بیدار نگاہیں
* لوگوں میں مادہ پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان بھی بزرگوں کی جانب لاپروائی کا سبب بن گیا ہے۔ دولت اور ذاتی آسائشوں کو بہت زیادہ اہمیت دی جانے لگی ہے۔ اس کے نتیجے میں اخلاقی اقدار اور خاندانی تعلقات کمزور ہوتے جا رہے ہیں یا تقریباً ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ لہٰذا بزرگوں کی قدر اور احترام میں کمی ہوتی جا رہی ہے۔
* آج کی نوجوان نسل جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہے لیکن بزرگ، نوجوان نسل کے شانہ بشانہ جدید ٹیکنالوجی اور تیز رفتار تبدیلیوں اور طور طریقوں سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتے۔ نسلوں کے فرق کی اس کیفیت نے بزرگوں کی راہ اور دشوار کر دی ہے۔ بزرگوں کی سوچ اور نئی نسل کی طرز زندگی میں واضع طور پر بڑا فرق دیکھا جاسکتا ہے اور اس کے نتیجے میں بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ یہ فاصلے بعض اوقات بے اعتنائی کا سبب بنتے ہیں۔
* تیز رفتار زندگی کی بھاگ دوڑ نے لوگوں کے صبر و استقامت کے مادّے میں کمی کی ہے۔ بعض افراد صبر و ضبط سے کام لینے کے بجائے بزرگوں کو بوجھ تصور کرنے لگتے ہیں۔ عمر کے ساتھ جسمانی اور ذہنی کمزوری کا شکار ہو چکے بزرگ زیادہ توجہ اور دیکھ بھال کے مستحق ہوتے ہیں لیکن صبر و برداشت کا مادّہ کھو چکی نئی نسل کے نوجوان بعض اوقات بزرگوں کی اس کیفیت کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں اور بزرگ بے توجہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: گرمی میں جِلد کے مسائل سے بچنے کے مؤثر طریقے
بزرگوں کو بوجھ سمجھنے کے رجحان کے کئی نقصانات ہیں:
* اس کیفیت سے خاندانی اور سماجی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔ بزرگ جن کے تجربات سے استفادہ کیا جاسکتا تھا، وہ احساسِ تنہائی اور افسردگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ معاشرے میں محبت، احترام اور ہمدردی جیسی اقدار کمزور ہو جاتی ہیں۔ نئی نسلیں بھی بزرگوں کی عزت اور قدر کرنا نہیں سیکھ پاتی ہیں۔
* یہ امر آئینے کی طرح واضع ہے کہ بچّوں کی اخلاقی تربیت انتہائی ضروری ہے۔ بچّوں کو شروع سے ہی بزرگوں کے احترام کی تعلیم دی جانی چاہئے۔ والدین خود اپنے عمل سے اچھی مثال قائم کریں۔ بزرگوں کے ساتھ وقت گزارنا بہت ضروری ہے۔ اُن کی باتوں کو، تجربات کو احساسات کو مکمل اہمیت دی جانی چاہئے۔ اس عمل سے خاندانی اقدار اور روابط مضبوط ہوتے ہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ میڈیا اور تعلیمی ادارے بزرگوں کے حقوق اور اہمیت کو اجاگر کریں اور معاشرہ میں اُن کے احترام کا شعور بیدار کیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: بال گیلے ہوں تو یہ پانچ کام بالکل نہ کریں
حکومتی اقدامات بھی انتہائی ضروری ہیں۔ بزرگوں کے لئے بہتر طبی سہولیات اور فلاحی پروگرام فراہم کئے جائیں اُن کی معاشی اور سماجی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔
بزرگ ہمارے معاشرے کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ بزرگوں کو بوجھ تصور کرنا نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ یہ تہذیبی، سماجی، اور خاندانی اقدارا کے خلاف بھی ہے۔ بزرگوں کی عزت کرنا نہایت ضروری ہے۔ اُن کا احترام کرنا اور خدمت کرنا بہت اہم ہے۔ بزرگوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ معاشرے کو تہذیب یافتہ بنانے کے لئے بزرگوں کی قدر اور احترام نہایت ضروری ہے۔ اور اس کے لئے اُن کو محبت اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔