عصر حاضر میں دولہے بھی مروجہ فیشن کو ترجیح دےرہے ہیں

Updated: November 26, 2022, 1:56 PM IST | Afzal Osmani | Mumbai

شادی کی تقریب میں ہال،ڈیکوریشن،کیٹررس ،سیلون او ر کپڑوں کے شوروم کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ،اگر ان کے متعلق مناسب معلومات رہے تو آسانی خودبخود پیدا ہوجاتی ہے

It is very important that the dresses chosen for the events after are in accordance with the current fashion.Picture:INN
شادی اور اس کے بعد کی تقریبات کیلئے منتخب کئے گئے ملبوسات کا موجودہ فیشن سے مطابقت رکھنا بہت ضروری ہے۔۔ تصویر :آئی این این

شادی ہر انسان کی زندگی کا نہایت خاص اور یاد گار دن ہوتا ہےجسے مرد و عورت کے ساتھ دونوں خاندانوں کے افراد مل کر خاص بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔  گزشتہ کچھ دہائیوں کا جائزہ لیں تو شادیوں سے متعلق انتظامات کا خاص اہتمام لڑکی اور ان کے گھر والوں کی جانب سے ہوتا تھا۔مگر موجودہ دور میں یہ رجحان لڑکوں اور ان کے گھر والوں میں بھی دیکھنے کو ملا ہے۔ آج لڑکا بھی اس دن کا خاص اہتمام کرتا ہے۔ اسی اہتمام اور انتظام کی معلومات حاصل کرنے کیلئے نمائندۂ انقلاب نے شادی  سے متعلق انتظامی امور سے وابستہ چند  لوگوں سے بات چیت کی جو قارئین کیلئے پیش کی جارہی ہے:
شادی کا ہال اور ڈیکوریشن کا انتظام
 شہروں میں شادی کیلئے ہال ایک لازمی جزکی حیثیت رکھتا ہےاور ہال منتخب ہوجانے کے بعد اس میں سجاوٹ کا اہتمام کیا جاتا ہےجو ہال کے رقبے کے لحاظ سے علاحدہ علاحدہ ہوتا ہے۔ چمبور میں واقع سونا لون بنکویٹ ہال کے نگراں او ر ڈیکوریشن کا انتظام دیکھنے والے محسن سے استفسار کرنے پرانہوں نے بتایا کہ’’ہمارے یہاں شادی کی تقریبات کے علاوہ دیگر کئی تقریبات کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔‘‘سیزن اور غیر سیزن میں ہال بکنگ کا کیا مرحلہ ہوتا ہے؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ ’’سب سے پہلے میں شادیوں کے سیزن والے جو مہینے ہیں جیسے اکتوبر سے فروری تک اس کی بات کروں تو یہ مہینے بہت مصروف ہوتے ہیں۔اگر کسی کو نومبر میں شادی کیلئے ہال کی ضرورت ہو تو اسے تقریباً اگست کے مہینے میں رابطہ کرنا ہوگا۔بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ صارف نے جو تاریخ بتائی ہے اس تاریخ میں ہال خالی نہیں رہتااور اس کے ایک دن آگے یا پیچھے کی تاریخ میں ہال خالی ہوتا ہے۔بارہا ایسا ہوا کہ صارف کو شادی کی تاریخ ہال کی بکنگ کی وجہ سے آگے یا پیچھے کرنی پڑی۔اگر ہم غیر سیزن کا جائزہ لیں تو شادی کے ایک سے ڈیڑھ ماہ قبل بھی ہال کی بکنگ کروائی جاسکتی ہے۔سب سے زیادہ پریشانی سیزن کے ایام میں ہوتی ہے ۔‘‘
 شادی کے ہال کی سجاوٹ سے متعلق محسن نے بتایا کہ’’ہم ہال کی سجاوٹ ہال کے رقبےکے لحاظ سے کرتے ہیں ۔ہال کا بڑا یا چھوٹا ہونا اس بات پر منحصر کرتا ہے کہ اس میں کتنے لوگوں کے آنے کی گنجائش ہے۔‘‘ ہال کی سجاوٹ صرف آپ لوگ ہی کر تے ہیں یا صارف بھی اپنی پسند کی سجاوٹ کر سکتا ہے ؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ ’’اکثر و بیشترہم ہی ہال کی سجاوٹ کرتے ہیں لیکن اگر صارفین کی خواہش ہوتی ہے کہ ہال کو ہم اپنی جانب سے سجائیں گے تو انہیں یہ اختیار حاصل ہے ۔‘‘
کیٹررس اور کھانے کا انتظام
 کسی بھی شادی کا اہم حصہ لذت کام و دہن کا ہوتا ہے۔شادی سے واپس آنے کے بعد وہاں کے کھانے کی لذت لوگوں کے ذہنوں میں بہت دیر تک رہتی ہے۔ اگر کھانا اچھا ہواتو شادی کا مجموعی تاثر بھی اچھا ہوتا ہے۔ اس لئے شادی میں بننے والا کھانا خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لوٹس کالونی میں واقع’اے ون کیٹررس‘ اپنے علاقے میں ایک خاص شناخت رکھتا ہے۔اس کیٹررس کے مالک معین الدین سے ہم نے یہ جاننےکی کوشش کی کہ ماضی اور حال کی شادیوں کے کھانوں میں کتنا فرق آیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ ’’ پہلے کی شادیوں میں ایک قسم کا کھانا بھی ہوتو قابل قبول ہوتا تھامگر آج کے لوگوں کی سوچ میں بہت تبدیلی آگئی ہے۔آج متوسط طبقے کا فرد بھی شادیوں میں مختلف النوع کھانے کا اہتمام کرتا ہے۔اگر آج کے وقت میں کوئی ایک یا دو اقسام کے کھانے رکھتا ہے تو اسے سماج کی طرف سے تنقیدوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ‘‘آج کے دور میں کون کون سی ڈشیں شادیوں میں مقبول ہیں جنہیں لوگ پسند کررہے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں انہوںنے بتایا کہ ’’اسٹارٹر میں لوگ چکن اسٹک یا چکن شیزوان اسٹے یا چکن فرائی کے ساتھ ملائی سیخ پسند کررہے ہیں۔جبکہ مین کورس میں دال فرائی ، گریوی میں گرین چکن ،مٹن قورمہ اور چکن چنگیزی لوگوں کی ترجیحات میںشامل ہیں۔‘‘مختلف اقسام کے کھانوں کی قیمت  کے بارے میں پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ ’’قیمت فی پلیٹ اور کھانے کی ڈش کی مناسبت سے متعین کی جاتی ہے۔ ہمارے یہاں کھانوں کی قیمت بہت معیاری اور مناسب ہے ساتھ ہی کھانوں کے معیار سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔
مینس پارلر اور سیلون کا رجحان
 موجودہ دور میںشادی سے قبل مَردوں کا پارلر یا سیلون جانا عام ہوچکا ہے۔سیلون والے بھی اپنے ہاں دلہے کو تیار کرنےمیں لگنے والے سارے لوازمات کا انتظام رکھتے ہیں۔موجودہ عہد کے نوجوانوں میں پارلر یا سیلون میں جاکر تیار ہونے کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔اس کے پیچھے کیا وجہ ہے اس کوجاننے کیلئے انقلاب نے مسلم اکثریتی علاقہ گوونڈی کے روڈ نمبر ۴؍ پر واقع ’’لُک چینج مینس سیلون‘ کے ساحل سے بات چیت کی ۔انہوں نے بتایا کہ’’شادی کا دن ہر انسان کیلئے بہت یاد گار ہوتا ہے۔ اس دن ہرشخص اچھا اور خوبصورت نظر آنا چاہتا ہے۔پہلے صرف خواتین ہی پارلر میں جاکر تیار ہوا کرتی تھیں مگر آج مردوں میں بھی اس کا رجحان بڑھ گیا ہے اور کئی ایسے سیلون اور پارلر کھل گئے ہیں جہاں مردوں کو دولہا بننے سے قبل ان کی ظاہری صورت کو بہتر بنایا جاتا ہے ۔‘‘آپ کے سیلون میں اس سے متعلق کیا کیا چیزیں موجود ہیں ؟ اس پر ساحل نے کہا کہ’’ عموماً لڑکے بلیچ اور فیشیل کرواتے ہیں اس لئے اسی مناسبت سے اشیا رکھی گئی ہیں ۔ہمارے یہاں بلیچ اور فیشیل کی قیمت کا آغاز ۲۵۰؍ روپے سے شروع ہوکر ۱۲۰۰؍ روپے تک ختم ہوتا ہے۔فیشیل کِٹ کے معیار کے حساب سے ان کے دام بھی رکھے گئے ہیںجن میں ۲۵۰؍۵۰۰؍،۷۵۰؍ روپے تک کے فیشیل موجود ہیں۔  چاہیں تو فیشیل الگ اور بلیچ الگ سے بھی کیا جاسکتا ہے۔کچھ سیلون یا پارلروں میں مینی کیور اور پیڈی کیور کا بھی انتظام کیا جاتا ہے۔‘‘
شادی کا لباس خاص اہمیت رکھتا ہے
 دولہے کی شخصیت کو پر کشش بنانے میں شادی کے ملبوسات کا اہم رول ہوتا ہے ۔شادی میں پہنے جانے والے ملبوسات اگر موجودہ فیشن سے مطابقت رکھتے ہوں تو ان کی اہمیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔اس لئے شادی کے کپڑوں کی خریداری کرنے میںمروجہ فیشن کا علم ہونا بہت ضروری ہے۔آج کے نوجوانوں میں شادی کی تقریب کیلئے کس قسم کے لباس کا چلن ہے ؟ اس سوال کے جواب میں ’’وگاڈ شوروم ‘‘ تھانے برانچ میں کام کرنے والے ملازم سے بات چیت کی۔وگاڈکی شوروم کی ممبئی میں کل ۶؍ شوروم ہیں۔جہاں شادی سے متعلق مختلف طرز کے ملبوسات ملتے ہیں۔ وگاڈ شوروم کے ملازم ہتیش نے بتایا کہ ’’ہمارے یہاں شیروانی، انڈو ویسٹرن،تھری پیس ،کرتا پاجامہ اور صدری جیسے مروجہ فیشن والے ملبوسات ملتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آج کل نوجوانوں میں سب سے مقبول فیشن ’انڈو ویسٹرن‘ ہے۔‘‘اس کے ساتھ ہتیش نے یہ بھی بتایا کہ ’’کئی نوجوانوں کی پہلی پسند شیروانی کے بعد کرتا پاجامہ اور صدری ہے۔اس کی وجہ بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اکثر نوجوان یہ کہتے ہیں کہ شادی میں ایسے لباس کا انتخاب کیا جائےجو شادی کے دنوں کے بعد بھی زیب تن کئے جاسکیں۔شیروانی وغیرہ چونکہ تھوڑی مختلف ہوتی ہے اور اسے روز مرہ کے ایام میں پہننا مشکل ثابت ہوسکتا ہے اس لئے لوگ کرتا پاجامہ اور صدری کا انتخاب کررہے ہیں۔
 شادی کے مختلف ایام میںنوجوان کون سے ملبوسات زیب تن کرنا پسند کرتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ہتیش نے بتایا کہ شادی یا نکاح کیلئے شیروانی اور کرتا پاجامہ صدری اور اس پر عمامہ نوجوانوں میں مقبول ہیں جبکہ ولیمہ یا ریسپشن کیلئے تھری پیس کورٹ پینٹ کا فیشن چل رہا ہے۔اس کے علاوہ شادی کے بعد کے ابتدائی دنوں میں فارمل پینٹ شرٹ کو نوجوان ترجیح دے رہے ہیں ۔‘‘شادی کے ملبوسات کے انتخاب میں ڈریسنگ سینس کتنا اہم ہے؟ اس پر ہتیش نے بتایا کہ اگر کسی شخص میں ڈریسنگ سینس نہیں ہےتو مہنگے سے مہنگا کپڑا بھی آپ کو پر کشش نہیں بنا سکتا۔چونکہ یہ دن بہت خاص ہوتا ہے اس لئے کیسی ایسے دوست یا ساتھی کو دکان پر لے جائیں جس میں یہ حس موجود ہو۔ بصورت دیگر قیمت بھی ضائع ہوگی اور اچھے ملبوسات بھی نہیں مل پائیں گے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK