Inquilab Logo

خبردار! سوشل میڈیا لڑکیوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے

Updated: June 12, 2024, 11:54 AM IST | UN Newsletter | Mumbai

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سوشل میڈیا فائدے کی چیز ہے، لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ نقصان دہ بھی ہے۔ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ نے اس ضمن میں ’’لڑکیوں کی شرائط پر ٹیکنالوجی‘‘ (Technology on Her Terms) کے عنوان سے ایک رپورٹ پیش کی ہے جس کا خلاصہ ذیل کی سطور میں ملاحظہ فرمائیں۔

The use of social media is not prohibited, but caution is necessary in its use. Photo: INN
سوشل میڈیا کا استعمال ممنوع نہیں، لیکن بہرحال اس کے استعمال میں احتیاط ضروری ہے۔ تصویر : آئی این این

سوشل میڈیا صنفی حوالے سے دقیانوسی تصورات کو تقویت دے رہا ہے جس سے لڑکیوں کی زندگی، تعلیم اور کیریئر پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور انہیں سائبر غنڈہ گردی سے لاحق خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ 
اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ ڈجیٹل ٹیکنالوجی سے سیکھنے سکھانے کے عمل کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے لیکن اس سے صارفین کی معلومات کے غلط استعمال اور تعلیم سے توجہ ہٹنے کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ 
ادارے کی جاری کردہ ایک نئی رپورٹ کے مطابق الگورتھم کے ذریعے چلائے جانے والے ڈجیٹل پلیٹ فارم صنفی حوالے سے منفی تصورات کو پھیلاتے اور خاص طور پر لڑکیوں کی ترقی کو منفی طور سے متاثر کرتے ہیں۔ 
یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل آدرے آزولے نے کہا ہے کہ ایسے پلیٹ فارم کی تیاری میں اخلاقی پہلوؤں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ سوشل میڈیا کو تعلیم اور کیریئر کے حوالے سے لڑکیوں کی خواہشات اور امکانات کو محدود کرنے کا ذریعہ نہیں ہونا چاہئے۔ 
انسٹا گرام اور ٹک ٹاک کا مسئلہ
’’لڑکیوں کی شرائط پر ٹیکنالوجی‘‘ کے عنوان سے اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ الگورتھم کے ذریعے خاص طور پر سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے تصویری مواد سے لڑکیوں کے لئے غیرصحت مند طرزعمل یا غیرحقیقی جسمانی تصورات کو قبول کرنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اس سے ان کی عزت نفس اور اپنی جسمانی شبیہ کے بارے میں سوچ کو نقصان ہوتا ہے۔ 
رپورٹ میں فیس بک کی اپنی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ۲۰؍ سال سے کم عمر کی ۳۲؍ فیصد لڑکیوں نے بتایا کہ جب وہ اپنے جسم کے بارے میں برا محسوس کرتی ہیں تو انسٹاگرام انہیں اس کی مزید بری شبیہ دکھاتا ہے۔ دوسری جانب ٹک ٹاک پر مختصر اور دلفریب ویڈیوز سے صارفین کا وقت ضائع ہوتا ہے اور ان کی سیکھنے کی عادات متاثر ہوتی ہیں۔ اس طرح متواتر توجہ کے طالب تعلیمی اور غیرنصابی اہداف کا حصول مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ 
سائبر غنڈہ گردی اور ڈیپ فیک
رپورٹ کے مطابق لڑکیوں کو آن لائن غنڈہ گردی کا سامنا لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ معاشی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) میں شامل ممالک سے متعلق دستیاب اعدادوشمار کے مطابق ۱۲؍ سے ۱۵؍ سال عمر تک کی لڑکیوں نے بتایا کہ انہیں کبھی نہ کبھی سائبر غنڈہ گردی کا سامنا ہو چکا ہے۔ یہ اطلاع دینے والے لڑکوں کی تعداد۸؍ فیصد تھی۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی جانے والی جعلی تصویروں، ویڈیوز اور جنسی خاکوں کے آن لائن اور کمرہ ہائے جماعت میں پھیلاؤ نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیاہے۔ 
 اس رپورٹ کی تیاری کے عمل میں بہت سے ممالک کی طالبات نے بتایا کہ انہیں آن لائن تصاویر یا ویڈیوز سے واسطہ پڑتا ہے جنہیں وہ دیکھنا نہیں چاہتیں۔ 
اس جائزے کے نتائج سے تعلیم بشمول میڈیا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اس سے گزشتہ نومبر میں ڈجیٹل سماج کے انتظام سے متعلق یونیسکو کی رہنمائی کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈجیٹل سماجی رابطوں کو بہتر اور باضابطہ بنانے کی ضرورت بھی سامنے آتی ہے۔ 
خواتین کی ترقی میں ’’ڈجیٹل‘‘ رکاوٹ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلنے والے منفی صنفی تصورات لڑکیوں کے لئے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کی تعلیم میں بھی رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ان شعبوں پر زیادہ تر مردوں کا اجارہ ہے جس کےباعث لڑکیاں ایسے ڈجیٹل ذرائع کی تخلیق کے مواقع سے محروم رہتی ہیں جو ان دقیانوسی تصورات کے خاتمے میں مدد دے سکتے ہیں۔ 
یونیسکو کے مطابق ۱۰؍ برس سے دنیا بھر میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے مضامین میں گریجویٹ خواتین کی شرح ۳۵؍ فیصد پر برقرار رہی۔ حالیہ رپورٹ بتاتی ہے کہ رائج صنفی تعصبات خواتین کو ان شعبہ جات میں کیریئر بنانے سے روکتے ہیں اور اس طرح ٹیکنالوجی کے شعبے کی افرادی قوت میں خواتین کا تناسب بہت کم رہ جاتا ہے۔ دنیا بھر میں سائنس، انجینئرنگ اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی سے متعلق نوکریوں میں خواتین کا تناسب ۲۵؍ فیصد سے بھی کم ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتوں کو دیکھا جائے تو ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں ان کی تعداد ۲۶؍ فیصد، انجینئرنگ میں ۱۵؍ فیصد اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں ۱۲؍ فیصد ہے۔ اسی طرح نئی ایجادات کے حقوق ملکیت کی درخواست دینے والوں میں خواتین کا تناسب صرف ۱۷؍ فیصد ہے۔ 
سائبر جرائم پریشانی، جذباتی دباؤ، اور حتیٰ کہ خودکشی کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ 
پالیسی سازی کی ضرورت
جائزے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں آنے والی ڈجیٹل تبدیلی میں مردوں کا کردار نمایاں ہے۔ اگرچہ ۶۸؍ فیصد ممالک نے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں کی ترقی کے لیے پالیسیاں بنا رکھی ہیں لیکن ان میں نصف ہی لڑکیوں اور خواتین کے لئے مددگار ہیں۔ 
یونیسکو کا کہنا ہے کہ ان پالیسیوں میں کامیابی کی نمایاں مثالوں کو اجاگر کرنا ضروری ہے جس کے لئے سوشل میڈیا سے بھی کام لیا جانا چاہئے۔ لڑکیوں کے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبے اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔ معاشروں کی ڈجیٹل تبدیلی میں خواتین کا مساوی کردار یقینی بنانے اور واقعتاً مشمولہ ٹیکنالوجی کی تیاری کے لئے ایسا کئے بغیر چارہ نہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK