Inquilab Logo

کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سے

Updated: May 14, 2024, 11:12 AM IST | Ansari Ayesha Aqsadar Ahmad | Mumbai

اب ضروری ہے کہ مائیں بچوں میں کتاب دوستی کی عادت کو پروان چڑھائیں۔ اپنی نسل کو بچپن میں ہی کتابوں سے روشناس کرائیں۔ گھر میں بھلے چھوٹا ہی سہی مگر ایک کتب خانہ ہونا ضروری ہے۔ جان لیں کہ گھر میں موجود کتابوں کی تعداد اور بچوں کی مجموعی تعلیمی قابلیت کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے۔

Set an example for children to be friends with books, study by yourself. Be a role model for children. Photo: INN
کتابوں سے بچوں کی دوستی کروانے کیلئے خود مثال قائم کریں، خود مطالعہ کریں۔ بچوں کیلئے ایک رول ماڈل بنیں۔ تصویر : آئی این این

اللہ تبارک تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لیکر حضرت محمدؐ تک کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام مبعوث فرمایا اور ہر نبی کو کتاب یا صحیفہ دیا جو اس زمانے کے اعتبار سے ’کوڈ آف لائف‘ تھے۔ آخری کتابِ ہدایت ختم رسل ہمارے نبی پاکؐ پر نازل ہوئی یہ کتاب لاثانی و لافانی ہے یہ رشد و ہدایت کا منبع ہے یہ حکمت و تدبر، تسخیر کائنات کے اسرار، نظام حیات و حکمرانی اور صراط مستقیم کے واضح اور مدلل دلائل و براہین سے مرصع ہے۔ یہ رہتی دنیا تک کے انسانیت کی فلاح و بہبود کی ضامن ہے لیکن آج یہ ہر مسلمان کے گھر ویسے نہیں پڑھی جاتی جیسا اس کا حق ہے اس کو ایسے بلند مقام پر رکھ دیا گیا ہے جہاں ہمارے روز ہاتھ نہیں پہنچتے۔ اسی طرح آپؐ کی سیرت طبیہ اور صحاحِ ستہ جو احادیث کی صورت میں موجود ہے اس کو بھی علم ِ دین حاصل کرنے والوں کے علاوہ دوسرے مسلمان شاذ و نادر ہی پڑھتے ہیں۔ ہمارے علما نے کتنی عرق ریزی سے زندگی کے تمام عنوانات پر ایک مفصل رہنمائی کرنے والی کتابیں ورثے کے طور پر چھوڑی ہیں یہ سب الماریوں کے شیشوں میں بند ہیں اور پڑھنے والوں کی منتظر رہتی ہیں۔
 افسوس کہ بچے اپنی درسی کتابوں کے علاوہ دوسرے علوم کی کتابوں سے استفادہ نہیں کرتے لہٰذا آج کا اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص بھی محدود علمی معلومات رکھتا ہے۔ آج ہم کو اپنے اسلاف کے کارنامے نہیں پتہ۔ مسلمان سائنسداں کے نام، کارناموں سے ہم نابلد ہیں۔ بہترین دوستی کتابوں سے دوستی ہے اور بہترین مشغلہ مطالعہ ہے۔ دنیا کی امامت زندگی کی سعادت آخرت کی سرخ روئی قرآن و حدیث اور دیگر دنیاوی علوم کی کتابوں کے مطالعے سے مشروط ہے کتاب ہی جینے کا طریقہ سکھاتی ہے انسان پر علم کے دروازے کھلتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ آج کا ’ریڈر‘ کل کا ’لیڈر‘ ہوتا ہے۔ افسوس ہوتا ہے اور دل یہ سوچ کے سہم جاتا ہے جب اس مشینی دور کو دیکھ کے یہ لگتا ہے یہ کتابوں کی آخری صدی ہے بقول شاعر: کاغذ کی یہ مہک، یہ نشہ روٹھنے کو ہے/ یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی۔ ہم ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جو اس دور سے تعلق رکھتے ہیں جسے کتابوں کی اصل صدی کہا جاسکتا ہے۔ مجھے ابھی بھی وہ تڑپ اور انتظار یاد ہے جو ہر ماہ کے شروع میں ہم ماہانہ کتابوں کے انتظار میں کرتے تھے۔ مرحوم والد محترم شروع میں ہی ہدیٰ، پاکیزہ آنچل، لوٹ پوٹ، موٹو پتلو، گل بوٹے، نور، امنگ، پیام تعلیم، بچوں کی دنیا وغیرہ کتابیں لاتے تھے اور ہم انہیں فرط شوق سے ایک دن میں گھول کے پی جاتے۔ اس کے علاوہ جو پیسے ملتے جمع کرتے اور کم دام میں پرانی کتابیں لاتے اور پڑھ کے واپس کر دیتے۔ کہیں مہمانی میں بھی جاتے تو یہ متلاشی نگاہیں کتابوں کو ہی تلاشتی رہتیں اور دینی، سائنسی، سماجی، سیاسی جو بھی کتاب مل جاتی وہ کسی مالِ غنیمت سے کم نہیں لگتی اور پھر جب گھر والوں سے یہ ریمارک سنتے کہ مل گئی کتاب؟ یہ تو کتابوں کی کیڑا ہے، تو جھینپ جاتے۔ اب تو یہ حال ہے کہ مجھے اب بہترین، خوشنما منظر یہ لگتا ہے جب کسی بچے کو میں غیر درسی کتاب کا مطالعہ کرتے دیکھتی ہوں۔ مجھے بے حد طمانیت محسوس ہوتی ہے اور مَیں بار بار مڑ مڑ کر دیکھتی ہی رہتی ہوں۔ کتابوں کی بے وقعتی پر مجھے گلزار صاحب کی نظم ’’کتابیں‘‘ یاد آگئی جس کا پہلا مصرع ہے ’’کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: اوڑھنی اسپیشل: گرمی کی چھٹیوں میں بچوں کو مصروف رکھنے کے کیا طریقے ہوسکتے ہیں؟

۲۱؍ ویں صدی کتابوں کی آخری صدی اسلئے ہے کہ ہمارے بچپن میں جو کتابوں کی دکانیں تھیں جہاں اندر جا کے ہمیں بہت خوشگوار احساس ہوتا تھا اور ہم ایک ایک کتابوں کو نہارتے تھے اب وہاں البیک، شوارما کی دکانیں ہیں ان کی جگہ اب شاپنگ مال نے لے لی ہے۔ اب آپ کو کتابوں کی چھوٹی سی دکان یا بانکڑہ ہی ملے گا اور جوتوں کے اے سی شو روم ملیں گے جن میں مہنگے جوتے شو کیس میں ملیں گے۔ یقیناً آپ کو اپنے لوگوں کے مذاق کا ادراک ہوجائے گا۔ ماتم کرنے کا دل چاہے گا اور یہ قول یاد آجائے گا کہ ’’جس قوم میں کتاب کسی بانکڑے اور جوتا شو کیس میں سجا ہوا ملے تو اس قوم کو جوتے کی ہی ضرورت ہے۔‘‘ (کہ اس کے سر پر مار دیا جائے)
مطالعہ محض ایک مشغلہ نہیں بلکہ ریسرچ یہ ثابت کرتی ہے کہ مطالعہ کی عادت رکھنے والے افراد میں الزائمر میں مبتلا ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ مطالعہ ذہنی تناؤ ختم کرکے فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو جلا بخشتا ہے۔ مطالعہ کرنیوالے بچوں کق آئی کیو لیول دوسرے بچوں کی بہ نسبت ۶؍ پوائنٹ زیادہ ہوتا ہے۔ ان میں اعتماد اور قائدانہ صلاحیتیں زیادہ ہوتی ہیں۔ اب ضروری ہے کہ مائیں بچوں میں کتاب دوستی کی عادت کو پروان چڑھائیں۔
اپنی نسل کو بچپن میں ہی کتابوں سے روشناس کرائیں۔ گھر میں بھلے چھوٹا ہی سہی مگر ایک کتب خانہ ہونا ضروری ہے۔ جان لیں کہ گھر میں موجود کتابوں کی تعداد اور بچوں کی مجموعی تعلیمی قابلیت کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے۔
اس مقصد کیلئے خود مثال قائم کریں، خود مطالعہ کریں۔ بچوں کیلئے ایک رول ماڈل بنیں۔
کتابوں سے کہانیاں سنائیں۔ اس سے وہ صحیح تلفظ بھی سیکھیں گے۔ روانی بھی بہتر ہوگی اور تخیل بہتر ہوگا۔ اس لئے باآواز بلند مطالعہ کریں۔
ان کے سوالات پوچھنے کی حوصلہ افزائی کریں۔ اس موضوع پر کوئی مستند، عام فہم کتاب خرید کر بچوں کو دی جائے اور ان سے کہا جائے کہ اسے باآواز بلند پڑھ کر سنائیں اور سوال کا جواب تلاش کریں۔ کتاب کا تجزیہ کرنے پر انعام دیں۔ آج کمپیوٹر پر کتابیں پی ڈی ایف کی صورت میں موجود ہیں لیکن اس کے مطالعے سے ذہن سازی نہیں ہوتی۔
تحفے میں کتابیں دیں۔ بچوں کو لائبریری لے کر جائیں۔ تصویری کہانیاں، تصویری ڈکشنری لاکر دیں۔ مطالعہ کی جگہ کو ٹی وی، کمپیوٹر، فون جیسی خلل اندازیوں سے پاک رکھیں۔
سفر کرتے وقت کتابوں کو ضرور ساتھ لے کر جائیں۔ ان کو اپنا ہم نشین ہم جلیس بنا لیں۔ غرضیکہ مطالعے کے کلچر کو فروغ دینا صحتمند معاشرے کی تکمیل، تشکیل اور ترقی کیلئے بے حد ضروری ہے اس کیلئے ایک مستقل شعوری مہم چلانے کی ضرورت ہے جس کا تقاضا ہر سوچنے سمجھنے اور درد دل رکھنے والے سے ہے۔ ضروری ہے کہ بچوں میں کتاب کی محبت جگائی جائے۔ سب سے بڑھ کر کتاب کیلئے اپنی مصروف، بھاگتی دوڑتی اسکرین کے نشے میں چور زندگیوں سے وقت نکالا جائے۔ بظاہر یہ ایک مشکل کام ہے لیکن ناممکن نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK