مسجد کے تحت سماجی مسائل سے متعلق رہنمائی اور بلاتفریق مذہب وملت خدمت خلق کی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔
EPAPER
Updated: October 22, 2026, 3:30 PM IST | Owais Siddiqui | Mira Road
مسجد کے تحت سماجی مسائل سے متعلق رہنمائی اور بلاتفریق مذہب وملت خدمت خلق کی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔
یہاں کے کنکیا علاقے میں واقع مسجد اخلاص صرف عبادت گاہ نہیں ، سماجی خلق کا مرکز بھی ہے۔ خون کا عطیہ کیمپ سے آغاز ہوا جس کے بعد ایسی سرگرمیاں انجام دی جانے لگیں ،جن سے لوگوں کو نفع پہنچتا ہے اور معاشرہ میں اسلام کی صحیح تصویر بھی پیش کی جاتی ہے تاکہ برادران ِ وطن کے ذہنوںمیںاسلام اور مسلمانوں سے متعلق غلط فہمیاں دور ہوں ، علاوہ ازیں ملت میںبھی مسجدسے متعلق روایتی سوچ ہے کہ مسجد صرف اللہ کی عبادات کیلئے ہے، حالانکہ لوگوں کے کام آنا بھی عبادت کے زمرے میں آتا ہے۔
مسجد اخلاص کے ٹرسٹ کے ذمہ داروں میں سےایک سلیم پٹیل نے انقلاب سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مسجد کے ذریعے ہیلتھ کیمپس، روزگار میلے، ملی و سماجی مسائل کی رہنمائی کیلئے مسلسل ہیلپ ڈیسک ،کاروبار سے متعلق رہنمائی ، کریئر کاؤنسلنگ ،مالی طور پر کمزور اور ضرورت مند طلبہ کیلئے نصابی کتابوں کی فراہمی اور راشن بانٹنا جاری ہے ۔ سلیم پٹیل کے بقول ۲۰۲۴ء میںسب سے پہلے خون عطیہ کیمپ کا انعقاد کیا گیا تھاجس میں قریب ۱۰۰؍ افراد نے عطیہ کیا تھا جن میں میونسپل انتظامیہ کے حکام بھی شامل تھے، اس کے بعد سے آئی چیک اپ کیمپ ، ڈائیبٹیزچیک اپ کیمپ وغیرہ جیسے مختلف ہیلتھ کیمپ منعقد کئے گئے۔ ہر کیمپ میں۸۰؍ تا ۱۰۰؍ لوگ (سبھی مذاہب کے) شریک ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:میرا بھائندر میں دینی مدارس اوران کی قیمتی خدمات
مسجد ِ اخلاص ٹرسٹ کی جانب سے ملی و سماجی مسائل پر بھی رہنمائی کیلئے حسبِ ضرورت ہیلپ ڈیسک لگائے جاتےہیں۔ حال ہی میں ایس آئی آر کے سلسلے میں مسجد سے مسلسل سےاعلان کیا گیا کہ ایس آئی آر فارمس یااس سے متعلق کسی بھی طرح کی رہنمائی مسجد کی جانب سے کی جائے گی اور اس کے مد نظرانومریشن فارمس بانٹنے سے لے کر فارمس بھرنے اور ڈرافٹ لسٹ میں نام آنے وغیرہ سے متعلق تمام چیزوں میں بی ایل اوز کا بھرپور تعاون کیاگیا۔ کئی روزگار میلےلگانے کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر وہاٹس ایپ گروپس کے ذریعے بے روزگار نوجوانوں کو مختلف کمپنیوں کے ایچ آرز سے جوڑنے کا کام کیا گیا ، جہاں ایچ آرز اپنی کمپنیوں کی ضروریات سے متعلق پوسٹس ڈالتے ہیںا ور نوجوان اس سے استفادہ کرتے ہیں ۔ ان گروپس سے اب تک ۷؍ ہزار کے قریب نوجوان جڑ چکے ہیں۔
اسی کے ساتھ کئی اور وہاٹس ایپ گروپ بھی چلائے جاتے ہیں جن میں کاروبار ی افراد کو ایک دوسرے سے جوڑا جاتا ہے تاکہ کاروبار سے متعلق مدد لی یا دی جاسکے ۔ اسکول کی درسی کتابوں کو لے کر بھی ایک گروپ چلایا جاتا ہے جہاں طلبہ کے والدین اپنے بچوں کی گزشتہ سال کی نصابی کتابوں کا عطیہ کرتے ہیں تاکہ وہ طلبہ جو معاشی طور پر کمزور یا ضرورت مند ہیں انہیں بروقت مفت کتابیں مل سکیں ۔پچھلے سال ۱۷۰؍ طلبہ نے کتابیں عطیہ کی تھیںجنہیں ضرورت مند طلبہ میں تقسیم کیاگیا ۔ علاوازیں ہر ماہ سیکڑوں ضرورت مند افراد کو راشن دیا جاتا ہے جبکہ ہیلتھ کیمپ ،روزگار میلے وغیرہ ہر دو ماہ میں منعقد کئے جاتے ہیں۔ کورونا وبا کے وقت مسجدِ اخلاص کی جانب سے تقریبا ۲۰ ؍ ہزار افراد تک راشن پہنچایاگیا تھا۔ شہر کی میئر اور مقامی ایم ایل اے نے اس کی ستائش کی تھی ۔
مسجد میںمختلف دینی خدمات بھی جاری ہیں۔ ہر سال حج ٹریننگ کیمپ منعقد کیا جاتا ہے، مختلف دینی مسائل سے متعلق رہنمائی کی جاتی ہے اور بڑی عمر کے افراد کیلئے بھی مکتب چلایا جاتا ہے۔ مسجد میں بیک وقت ۸۰۰؍ تا ۱۰۰۰؍ افراد نماز ادا کر سکتے ہیں ۔ مسجد کی چار منزلہ عمارت کا نچلا حصہ مذکورہ سرگرمیوں کیلئے مختص ہے۔ امامت اوردیگر مسجد و مکتب کے فرائض مفتی علی،مولانامشتاق اور قاری احمد صاحبان انجام دیتے ہیں۔ اس ضمن میں ٹرسٹی عبید فروٹ والا کے بقول مسجدصرف نماز کی ادائیگی کیلئے نہیں ہوتی، خدمت خلق کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ مساجد سے لوگوں کو نفع پہنچانے والے کام بھی ضروری ہیں جو ایمان کا حصہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ شہر و بیرون شہر تمام مساجد کے ذمہ داران و علماء سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مساجد کو خدمت خلق کا مرکز بنائیں تاکہ عوام میں بھی خدمت کاجذبہ پروان چڑھے اور اسلام کی مثبت تصویر برادران وطن تک پہنچ سکے۔