• Thu, 22 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

میرا بھائندر میں دینی مدارس اوران کی قیمتی خدمات

Updated: October 22, 2026, 3:18 PM IST | Saeed Ahmed Khan | mir

میرا بھائندر میں کئی دینی ادارے ہیں جہاں طلبہ علوم نبوت سے سیراب ہوکر اپنی علمی پیاس بجھا رہے ہیں۔ ان اداروں میں بڑی تعداد میں طلبہ مقیم ہیں جبکہ مقامی طلبہ یومیہ آمد ورفت کرتے ہیں۔

Darul Uloom Azizia, located near Mira Road Railway Station, was established 50 years ago. Photo: INN
میراروڈ ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع دارالعلوم عزیزیہ ۵۰؍ سال قبل قائم کیا گیا تھا۔ تصویر: آئی این این

میرا بھائندر میں کئی دینی ادارے ہیں جہاں طلبہ علوم نبوت سے سیراب ہوکر اپنی علمی پیاس بجھا رہے ہیں۔ ان اداروں میں بڑی تعداد میں طلبہ مقیم ہیں جبکہ مقامی طلبہ یومیہ آمد ورفت کرتے ہیں۔ ان کو دینی علوم کےساتھ عصری علوم سے بھی آراستہ کیا جارہا ہے ۔ اس کی ترتیب اس طرح بنائی گئی ہے کہ دینی اور عصری علوم کے حصول میں توازن برقرار رہے۔ ذیل میں ایسے ہی ۳؍اداروں کی تفصیل درج کی جارہی ہے ۔

 دار العلوم عزیزیہ

یہ ادارہ میراروڈ  میں ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع ہے۔ ۵۰؍ سال قبل ۱۹۷۶ء میں مولانا عبد العزیز بہاریؒ کے بھتیجے مولانا مظہر عالم قاسمی ؒنے اپنے معاونین اور رفقاء کے ساتھ اس مدرسہ کی داغ بیل ڈالی تھی۔ اس ادارے کے بانیوںمیں مولانا مظہر عالم کے علاوہ حاجی غلام رسول، حاجی عبد القیوم اور نذر حسین وغیرہ جیسی ممتاز  شخصیات شامل رہیں۔دار العلوم عزیزیہ کا قیام ایک موقوفہ دو منزلہ عمارت اور اس سے متصل مسجد میں ہوا ۔ ٹرسٹیانِ ادارہ نے کاشی میرا میں ۱۵؍ایکڑ پر مشتمل وسیع قطعہ اراضی خریدی ہے جس کی حدبندی ہوچکی ہے، وہاں دار العلوم عزیزیہ اور اس کے ذیلی اداروں کے ایک بڑے پروجیکٹ کا منصوبہ زیر غور ہے۔

دار العلوم عزیزیہ کے چیف ٹرسٹی حاجی محمد علی اور مہتمم مفتی عبداللہ ہیں۔یہاں۲۵۰؍طلبہ مقیم ہیںجبکہ کچھ طلبہ مقامی ہیں ، اساتذہ کی تعداد۱۷؍ ہے۔ ادارۂ ہٰذا میں ناظرہ، حفظ و قرأٍٍت ، شعبہ ٔاعدادیہ و عربی جاری ہیں۔ عربی پنجم تک تعلیم کا نظم طویل مدت سے ہے۔ اس کے بعد طلبہ دار العلوم دیوبند، مظاہر علوم سہارنپور، دار العلوم ندوۃ العلماء (لکھنؤ )وغیرہ جاکرفراغت حاصل کرتے رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے زمانے سے عربی ششم (مشکوٰۃ شریف ) اور عربی ہفتم (دورہ ٔحدیث شریف) کا بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:مدنپورہ میں انجمن خیر الاسلام کے۶؍ اسکول ہیں

اسی طرح مولانا مظہر عالم کے َدور اہتمام میں دار العلوم عزیزیہ میں کمپیوٹر کلاس کا بھی نظم کیا گیا۔منتظمین کی جانب سے طلبہ کے لئے عصری تعلیم کا متوازن نظم کیا گیا ہے ۔ وہ اس طرح کہ یہاں کے طلبہ انجمن مفید الیتٰمٰی میراروڈ (اردو میڈیم اسکول) میں داخل کئے گئے ہیں۔ ایس ایس سی سے اوپر کے منتخب طلبہ کا اکبر پیر بھائی کالج اور شہر کے دوسرے کالجوں میں داخلہ کرایا جاتا ہے۔

دارالعلوم عزیزیہ کی ان خدمات کوقدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اورعامۃ المسلمین کا غیر معمولی تعاون بھی ادارے کو حاصل ہے۔

دارالعلوم سلیمانیہ 

میراروڈ کے علاقے کوئنس پارک میں دارالعلوم سلیمانیہ کا قیام ۲۰۰۲ء میں عمل میں آیا تھا.

میرا روڈ (ضلع تھانے) کے کوئنس پارک میں واقع دارالعلوم سلیمانیہ کا قیام ۳۰؍ ستمبر ۲۰۰۲ء کوعمل میں آیا۔ ادارے  کے بانی و مہتمم مولانا نذیر احمد ندوی ہیں۔ اس وقت مدرسے میں ۱۵؍ اساتذہ وعملے کی نگرانی میں مقامی بچوں کے علاوہ دارالاقامہ میں ۱۵۰؍ طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ 

دارالعلوم سلیمانیہ میں شعبۂ ناظرہ، حفظ (چار درجات) اور شعبہ ٔعالمیت (اعدادیہ تا عربی چہارم) کے ساتھ عصری علوم بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ عربی چہارم کے بعد طلبہ دیگر تکمیل کے لئے بڑے اداروں کا رخ کرتے ہیں اوروہا ںسے سند ِ فراغت حاصل کرتے ہیں۔دارالاقامہ میں موجود طلبہ کو دینی تعلیم کے علاوہ اردو،ہندی، انگریزی اور حساب پڑھایا جاتا ہے۔ ادارے کے طلبہ بین المدارس مقابلوں میں بھی پابندی سے شرکت کرتے ہیں اور اپنی بہترین صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسناد وانعامات کے حق دار قرار پاتے ہیں۔ 

ادارۂ ہٰذا کے تعلق سے مسلمانوں کا دینی شوق اور مدارس کا تعاون قابلِ تحسین ہے۔ اس ادارے کے قیام کا بنیادی مقصد نئی نسل کی بہتر دینی تربیت اور اخلاقی اصلاح کے ساتھ انہیںدینی اور عصری علوم سے آراستہ کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:چند کارخانوں سے ابتداء مگر اب بیگ کا بڑا بازار ہے!

جامعہ اسلامیہ احمد چیریٹیبل ٹرسٹ اُتن 

  ۲۰۱۰ء میںبھائندر مغرب کے علاقے اتن میں مدرسہ جامعہ اسلامیہ احمد چیریٹیبل ٹرسٹ کا قیام عمل میں آیا تھا۔ (تصاویر: انقلاب)

مدرسہ جامعہ اسلامیہ احمد چیریٹیبل ٹرسٹ اُتن کا قیام ۲۰۱۰ء میں عمل میں آیا۔ اس وقت ادارے میں  بڑی تعداد میں طلبہ زیر تعلیم ہیں جبکہ ۷۵؍ طلبہ دارالاقامہ میں ہیں۔ یہاں ناظرہ اور حفظ کے ساتھ  عصری تعلیم کا بھی نظم کیا گیا ہے۔ طلبہ کی صحت وتندرستی کے نقطۂ نظر سے ورزش اورپی ٹی کےشعبے نیزکوکنگ اور سلائی سکھانے کے شعبےبھی قائم کئے گئے ہیں۔ 

طلبہ کی تعلیم وتربیت اور انتظامی امور کی انجام دہی کے لئے ۶؍افراد پر مشتمل عملہ اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔ مدرسے کےمہتمم حافظ نذیرالدین ہیں۔

علاقے میں دینی تعلیم کی ضرورت کی مناسبت سے مدرسے کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ مقامی مسلمان اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور حسبِ استطاعت تعاون کرتے ہیں ۔ادارے کے قیام کا بنیادی مقصد طلبہ کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کے ساتھ ان کی علمی، اخلاقی، جسمانی اور عملی تربیت پر بھی توجہ دی جاتی ہے تاکہ وہ ایک ذمہ دار شہری کے ساتھ قرآن وسنت کی تعلیم حاصل کرکے معاشرے اور قوم کے ساتھ ملک کے لئے نافع بن سکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK