ایئر کنڈیشنر (اے سی) کمرے کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے وہاں موجود ہوا سے نمی کو کم کر دیتا ہے۔ اس وجہ سے ہوا خشک ہوجاتی ہے جس کے سبب ہماری آنکھوں کی سطح پر موجود پانی (آنسو) بہت تیزی سے بھاپ بن کر اُڑ جاتے ہیں۔
کوشش کریں کہ اے سی کی ہوا براہِ راست چہرے یا آنکھوں پر نہ پڑے۔ تصویر: آئی این این
ایئر کنڈیشنر (اے سی) کمرے کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے وہاں موجود ہوا سے نمی کو کم کر دیتا ہے۔ اس وجہ سے ہوا خشک ہوجاتی ہے جس کے سبب ہماری آنکھوں کی سطح پر موجود پانی (آنسو) بہت تیزی سے بھاپ بن کر اُڑ جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے آنکھوں میں خشک پن، جلن، چبھن، لال پن اور بے چینی محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہ پریشانیاں اُن افراد میں اور بھی زیادہ ہوتی ہیں جو کمپیوٹر یا اسکرین کے سامنے دیر تک کام کرتے ہیں یا اپنا زیادہ تر وقت اے سی والے کمرے میں گزارتے ہیں۔ اس دوران چند باتوں کا خیال رکھنا چاہئے:
اے سی کی ہوا براہِ راست چہرے پر نہ پڑے:
اپنی بیٹھنے کی جگہ یا اے سی کے وینٹ کو اس طرح ایڈجسٹ کریں کہ اس کی ٹھنڈی اور خشک ہوا براہِ راست چہرے یا آنکھ پر نہ پڑے۔
اسکرین سے بریک لیں:
کام کے دوران آنکھیں مسلسل اسکرین پر نہ جمائیں بلکہ درمیان میں بریک لیں۔
بار بار پلکیں جھپکائیں:
اسکرین دیکھتے وقت ہم اکثر پلکیں جھپکانا بھول جاتے ہیں۔ اسلئے بار بار پلکیں جھپکائیں، جس سے آنکھوں کی قدرتی نمی برقرار رہے۔
مناسب مقدار میں پانی پئیں:
جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے کے لئے مناسب مقدار میں پانی پئیں۔
آئی ڈراپ کا استعمال:
اگر آنکھیں زیادہ ڈرائی ہیں تو ڈاکٹر کی صلاح سے آنکھوں میں نمی بنائے رکھنے والے ڈراپ کا استعمال کرنا مفید ثابت ہوسکتا ہے۔