ساوتری بائی پھلے سے لے کر ایک عام ماں تک، سروجنی نائیڈو سے لے کر دروپدی مرمو تک، کلپنا چاولہ سے لے کر اسکول کی معلمہ تک ، ہندوستانی خواتین کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے مختلف شعبوں میں نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے بلکہ ملک کی تعمیر و ترقی میں بھی قدم بہ قدم شامل رہی ہیں۔
ہندوستانی عورت کسی افسانے یا محض نعرے کا حصہ نہیں، بلکہ وہ ایک زندہ حقیقت ہے جو ہر دور میں قوم کی تعمیر میں مصروف رہی ہے۔ تصویر: آئی این این
۲۶؍ جنوری محض ایک قومی دن نہیں بلکہ ہندوستانی شعور، اجتماعی ذمہ داری اور جمہوری فکر کا آئینہ ہے۔ یہ وہ دن ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت صرف آئین کی دفعات، سرکاری عمارتوں یا تقاریر تک محدود نہیں بلکہ یہ روزمرہ زندگی میں کردار، دیانت، محنت اور سماجی شعور کے ذریعے زندہ رہتی ہے۔ اس جمہوریت کو عملی صورت دینے میں اگر کسی طبقے کا کردار سب سے زیادہ مستقل، خاموش اور مؤثر رہا ہے تو وہ ملک کی عورت ہے۔
ہندوستان کی عورت: قوم کی حقیقی معمار
ہندوستانی عورت کسی افسانے یا محض نعرے کا حصہ نہیں، بلکہ وہ ایک زندہ حقیقت ہے جو ہر دور میں قوم کی تعمیر میں مصروف رہی ہے۔ ہم سروجنی نائیڈو کو یاد کرتے ہیں، جو آزادی کی تحریک میں صرف ایک شاعرہ نہیں بلکہ ایک باوقار قائد، باخبر سیاستداں اور جمہوری فکر کی مضبوط آواز تھیں۔ ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ عورت اپنی فکر، زبان اور وقار کے ذریعے بھی قوم کی رہنمائی کرسکتی ہے۔ اسی طرح ساوتری بائی پھلے ہندوستانی تاریخ کا وہ روشن باب ہیں جنہوں نے یہ ثابت کیا کہ تعلیم محض علم حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی تبدیلی اور مساوات کی بنیاد ہے۔ لڑکیوں کیلئے اسکول قائم کرنا محض ایک تعلیمی قدم نہیں تھا بلکہ صدیوں پرانی سماجی زنجیروں کو توڑنے کی جرأت مندانہ کوشش تھی جس نے جمہوریت کی جڑوں کو مضبوط کیا۔ آج کی ہندوستانی عورت تعلیم کے ذریعے اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل رہی ہے۔
کلپنا چاولہ کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ عورت کی پرواز زمین کی حدوں تک محدود نہیں۔ ایک عام گھر کی بیٹی کا خلا تک پہنچنا اس بات کا اعلان تھا کہ اگر مواقع اور حوصلہ ملے تو ہندوستانی عورت کسی بھی میدان میں پیچھے نہیں۔ اسی سلسلے میں کرن بیدی کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جنہوں نے نظم و ضبط، ایمانداری اور مضبوط قیادت کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ عورت انتظامیہ، قانون اور فیصلہ سازی میں نہ صرف مردوں کے شانہ بشانہ چل سکتی ہے بلکہ کئی موقعوں پر مثال بھی قائم کر سکتی ہے۔
ہندوستانی جمہوریت کی ایک باوقار تصویر دروپدی مرمو کی صورت میں ہمارے سامنے آتی ہے۔ ایک سادہ قبائلی پس منظر سے تعلق رکھنے والی عورت کا ملک کے اعلیٰ ترین آئینی منصب تک پہنچنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہندوستان کی جمہوریت عورت کو صرف نمائندگی نہیں دیتی بلکہ قیادت اور اعتماد کا حق بھی عطا کرتی ہے۔ اسی طرح میڈھا پاٹکر جیسی سماجی کارکن خواتین یہ پیغام دیتی ہیں کہ جب عورت انصاف اور حق کے لئے کھڑی ہوتی ہے تو وہ کمزور اور محروم طبقات کی طاقتور آواز بن جاتی ہے۔ ان کی جدوجہد ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری نبھانے کا شعور بھی ہے۔
ماں کی گود: جمہوریت کی بنیاد
جمہوریت صرف بڑی شخصیات، بلند عہدوں یا آئینی منصبوں سے وجود میں نہیں آتی، بلکہ عام گھروں کی ان غیر معمولی ماؤں سے پروان چڑھتی ہے جو خاموشی سے قوم کی تعمیر کر رہی ہوتی ہیں۔ کسی کچی بستی کی ماں جو گھروں میں کام کرکے اپنی بیٹی کو اسکول بھیجتی ہے، کسی دیہی عورت کا خود مدد گروپ بنا کر دوسری خواتین کو خودکفیل بنانا، یا کسی ماں کا اپنے بیٹے کو ایمانداری، احترام اور ذمہ داری کا سبق دینا.... یہ سب جمہوریت کی مضبوط مگر خاموش بنیادیں ہیں۔ یہ وہ عورتیں ہیں جو خبروں کی سرخیاں نہیں بنتیں، مگر انہی کے ہاتھوں میں قوم کا مستقبل سنورتا ہے اور تاریخ کا رخ متعین ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں آنگن واڑی چلانے والی خواتین، اسکولوں میں بچوں کی کردار سازی کرنے والی اساتذہ، اور اسپتالوں میں مریضوں کی خدمت میں مصروف نرسیں.... یہ سب ہندوستانی سماج کی حقیقی معماران ہیں۔ ان کی خدمات بظاہر خاموش ضرور ہوتی ہیں، مگر ان کے اثرات نسلوں تک محسوس کئے جاتے ہیں۔ یہی خواتین جمہوریت کو روزانہ اپنے عمل، صبر اور خلوص سے زندہ رکھتی ہیں۔
آئین اور عورت
آج ہندوستانی عورت پنچایتوں، تعلیمی کمیٹیوں، سماجی اداروں اور فلاحی تنظیموں میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ آئین کے دیئے گئے حقوق اب صرف کتابوں تک محدود نہیں رہے بلکہ عملی زندگی میں اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔ جب ایک عورت فیصلہ سازی میں شریک ہوتی ہے تو وہ صرف اپنی ذات کی نہیں بلکہ پورے خاندان، پورے سماج اور آنے والی نسلوں کی نمائندہ بن جاتی ہے۔
یوم ِ جمہوریہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہندوستان کی اصل طاقت سرکاری عمارتوں، فائلوں یا رسمی تقاریر میں نہیں بلکہ ان عورتوں میں پوشیدہ ہے جو روزمرہ زندگی میں دیانت، محنت اور شعور کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔