• Thu, 12 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بچوں کی زبان سے نکلا ہر لفظ اُن کی تربیت کا عکاس ہوتا ہے

Updated: February 12, 2026, 1:44 PM IST | Parveen Zaidi | Mumbai

یہ تو حقیقت ہے کہ الفاظ کے بنا گفتگو چاہے تحریری ہو یا زبانی ممکن نہیں، ہمارے خیالات، افکار، ہمارے خواب سب ہی الفاظ کے محتاج ہیں۔ زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ عیب و ہنر کا غماز ہے۔ ہماری تربیت کی عکاسی کرتا ہے۔

Words like Chandni, Rakaba, and Badiya are no longer used in homes. Photo: INN
اب گھروں میں چاندنی، رکابہ، بادیہ جیسے الفاظ استعمال نہیں ہوتے۔ تصویر: آئی این این

یہ تو حقیقت ہے کہ الفاظ کے بنا گفتگو چاہے تحریری ہو یا زبانی ممکن نہیں، ہمارے خیالات، افکار، ہمارے خواب سب ہی الفاظ کے محتاج ہیں۔ زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ عیب و ہنر کا غماز ہے۔ ہماری تربیت کی عکاسی کرتا ہے۔ لفظ شخصیت کا آئینہ ہے۔ رشتہ جوڑتا بھی ہے اور توڑتا بھی ہے۔ کسی کے میٹھے بول سن کر ہم جی اٹھتے ہیں اور کسی کا ایک لفظ دل چیر دیتا ہے۔ لفظ زندگی بدل دیتے ہیں۔ لفظ دعا بھی اور بددعا بھی۔

یہ بھی پڑھئے: ناریل تیل: گھر کے کئی چھوٹے موٹے کام انجام دینے میں معاون

تہذیبی اور لسانی اعتبار سے کچھ زبانیں ایک دوسرے کی قربت حاصل کرتی ہیں تو لفظ نیا روپ لے لیتے ہیں۔ جیسے اردو اور فارسی، اردو اور ہندی ان کی قربت سے نئے الفاظ ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ بہت سے الفاظ اب زیادہ تر لوگ استعمال نہیں کرتے۔ وجہ زمانہ کی تبدیلی ہے۔ آج جدید معاشرہ ہے۔ مثلاً واش روم لفظ حمام کی جگہ استعمال کرتے ہیں اور زیادہ آسانی محسوس کرتے ہیں۔ اچھا ٹھیک ہے یہ کہنے کے بجائے صرف ’اوکے‘ کہتے ہیں۔ بہت سے الفاظ اب استعمال نہیں کرتے کیونکہ جن اشیاء کا تعلق ان سے تھا وہی نہیں رہے۔ مثلاً چاندنی، یہ لمبی چوڑی سفید چادر جو فرش پر بچھائی جاتی تھی۔ آج لوگ اس نام سے ناواقف ہیں۔ پہلے خواتین سرمہ دانی کا استعمال کرتی تھیں اب کون سرمہ لگاتا ہے یا مِسّی کا کون استعمال کرتا ہے۔ برتنوں میں بادیہ، رکابی اب بول یا پلیٹ سے جانی جاتی ہے۔ ہمارے بچے تو کفگیرکا مطلب بھی نہیں جانتے۔

یہ بھی پڑھئے: آئین اور اپنے حقوق کے متعلق خواتین کی آگاہی ضروری

آج کل موبائل نے اخبار، لغت اور کتابوں کا حق چھین لیا ہے۔ کتب خانے ویران ہیں۔ کتابیں منہ چھپائے الماریوں میں فریاد کر رہی ہیں کہ ہمارے قدر داں کہاں کھو گئے۔ مطالعہ سے نہ صرف ہماری معلومات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ہماری زبان بھی نکھرتی ہے۔ الفاظ وہ گوہر نایاب ہیں جو ہماری فکر کو جلا بخشتے ہیں ہم نہ ہی مطالعہ کرتے ہیں اور نہ ہی ادبی محفلوں سے فیض اٹھاتے ہیں۔ شائستہ الفاظ لوگ پیچھے چھوڑ آئے۔ زبان میں گھٹیا اور ناشائستہ الفاظ کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اردو زبان سے محبت کرنے والوں کو توجہ دینی چاہئے تاکہ آنے والی نسلوں تک حسین زبان کا خزانہ محفوظ رہ سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK