آئین ِ ہند کے آرٹیکل ۱۵، ۱۶؍ اور ۲۱؍ خواتین کو ایک بااختیار اور باوقار شہری بنانے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، عملی سطح پر صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بیشتر خواتین آئین کے ذریعہ دیئے حقوق کے بارے میں ناواقف ہیں۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ خواتین اپنے حقوق کے بارے میں جانیں۔
خواتین کو علم ہونا چاہئے کہ آئین نے انہیں کیا دیا ہے اور کس طرح انہیں برابری کا شہری تسلیم کیا ہے۔ تصویر: آئی این این
ہندوستانی آئین دنیا کے ترقی پسند ممالک کے آئین میں شمار ہوتا ہے جو ملک کے تمام شہریوں کو مساوی حقوق فراہم کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔ خواتین، جو طویل عرصے تک سماجی، معاشی اور قانونی عدم مساوات کا شکار رہی ہیں، آئین کے ذریعے انہیں بااختیار بنایا گیا ہے۔ بالخصوص آرٹیکل ۱۵، ۱۶؍ اور ۲۱؍ خواتین کے حقوق کے تحفظ اور فروغ میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: تعلیم ِ نسواں کیلئے جدوجہد کرنیوالی وحید جہاں بیگم، ویمنس کالج اے ایم یو کی بانی
آرٹیکل ۱۵ (۳): خواتین کیلئے خصوصی مراعات
آرٹیکل ۱۵؍ عمومی طور پر مذہب، نسل، ذات، جنس یا جائے پیدائش کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیاز کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ تاہم، اس کی شق (۳) ریاست کو اس بات کا اختیار دیتی ہے کہ وہ خواتین اور بچوں کیلئے ’خصوصی دفعات‘ یا قوانین وضع کرے۔ اسی آئینی طاقت کی بنیاد پر حکومتیں خواتین کے حق میں خصوصی اسکیمیں، گھریلو تشدد کیخلاف قوانین اور پنچایتی اداروں میں ریزرویشن دیتی ہیں۔
آرٹیکل ۱۶: سرکاری ملازمتوں میں یکساں مواقع
آرٹیکل ۱۶؍ کے تحت سرکاری دفاتر میں ملازمت یا تقرری کے معاملات میں تمام شہریوں کیلئے مواقع کی برابری کی ضمانت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: چمکدار اور صحتمند جلد کے لئے ان غذاؤں کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں
امتیاز کی ممانعت: اس آرٹیکل کی شق (۲) واضح طور پر کہتی ہے کہ کسی بھی شہری کے ساتھ صرف مذہب، نسل، ذات، جنس یا جائے پیدائش کی بنیاد پر ملازمت کے معاملے میں امتیازی سلوک نہیں کیا جائیگا۔
معاشی خود مختاری: یہ آرٹیکل خواتین کو معاشی طور پر آزاد بنانے اور مردوں کے تسلط والے پیشوں میں جگہ بنانے کا قانونی حق فراہم کرتا ہے۔ یہ یقینی بناتا ہے کہ خواتین صرف عورت ہونے کی بنیاد پر نااہل قرار نہ دی جائیں۔
آرٹیکل ۲۱: حق ِ زندگی اور شخصی آزادی
یہ آرٹیکل کہتا ہے کہ ’’کسی بھی شخص کو قانون کے ذریعے قائم کردہ طریقہ کار کے علاوہ اس کی زندگی یا ذاتی آزادی سے محروم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ خواتین کیلئے اس کی اہمیت درج ذیل ہے:
وقار کے ساتھ جینے کا حق: عدالت ِ عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ ’زندگی‘ کا مطلب صرف سانس لینا نہیں بلکہ انسانی وقار کے ساتھ جینا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مائیں امتحانات کے دوران بچوں کی رہنمائی کریں
کام کی جگہ پر تحفظ: یہ آرٹیکل خواتین کو کام کرنے کی جگہ پر تحفظ فراہم کرتا ہے۔
تولیدی حقوق اور انتخاب: خواتین کو اپنی مرضی سے شادی کرنے، زچگی کے فیصلے کرنے اور اپنی نجی زندگی کو محفوظ رکھنے کا حق بھی اسی آرٹیکل سے ملتا ہے۔
صحت اور تعلیم: صحت کی سہولیات، تعلیم، صاف ماحول، ذہنی و جسمانی سلامتی، جنسی خودمختاری، رازداری اور تشدد سے تحفظ جیسے بنیادی حقوق بھی آرٹیکل ۲۱؍ کا حصہ ہیں۔ گھریلو تشدد، جنسی ہراسانی، عصمت دری اور جبری شادی جیسے جرائم کو عدالتوں نے اسی آرٹیکل کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بچوں کو مصروف رکھنے والی چند کارآمد سرگرمیاں
حالیہ قانونی پیش رفت اور ترامیم
خواتین کو سیاسی و معاشی طور پر مزید مستحکم کرنے کیلئے حالیہ برسوں میں اہم اقدامات کئے گئے ہیں:
ناری شکتی وندن ادھینیم (۲۰۲۳ء): ۱۰۶؍ ویں آئینی ترمیم کے ذریعے لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لئے ایک تہائی (۳۳؍ فیصد) نشستیں مختص کی گئی ہیں۔
لیبر کوڈز (۲۰۲۵ء): نئے لیبر کوڈز جنس کی بنیاد پر امتیاز کو روکنے اور مساوی اجرت کو لازمی بناتے ہیں۔ یہ خواتین کیلئے نائٹ شفٹ اور کان کنی جیسے شعبوں میں کام کے دروازے کھولتے ہیں، بشرطیکہ ان کی حفاظت اور رضا مندی یقینی ہو۔
فوجداری قوانین میں تبدیلی (۲۰۲۴ء): یکم جولائی ۲۰۲۴ء سے نافذ العمل بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این سی) اور دیگر قوانین میں خواتین کے خلاف جرائم کیلئے سخت دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ’ای - ایف آئی آر‘ اور زیرو ایف آئی آر کی سہولت نے انصاف تک رسائی آسان بنا دی ہے۔
سماجی و معاشی چیلنجز
بیشک بھارتی آئین خواتین کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ تاہم، آئینی ضمانتوں کے باوجود، زمینی حقائق اب بھی ایک طویل جدوجہد کے متقاضی ہیں:
مساوی اجرت کا فقدان: غیر منظم شعبوں میں آج بھی خواتین کو مردوں کے مقابلے کم اجرت دی جاتی ہے۔
گھریلو تشدد: اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گھروں کے اندر تشدد کے واقعات میں کمی نہیں آئی، جس کی بڑی وجہ سماجی دباؤ اور قانونی آگاہی کی کمی ہے۔
سیاسی نمائندگی: پنچایتوں میں تو خواتین موجود ہیں، لیکن اکثر ’پتی‘ (شوہر) ان کے اختیارات کا استعمال کرتے ہیں، جو آئین کی روح کے خلاف ہے۔
یہ بھی پڑھئے: روزنامہ انقلاب ۸۷؍ ویں سالگرہ: ’’اوڑھنی‘‘ کیلئے لکھنے والی قارئین کے تاثرات
تجاویز: خواتین کو صحیح معنوں میں بااختیار بنانے کے لئے صرف قوانین کافی نہیں بلکہ درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:
قانونی خواندگی: اسکولوں اور کالجوں کی سطح پر خواتین کو ان کے آئینی حقوق سے آگاہ کیا جائے۔
عدالتی اصلاحات: خواتین کیخلاف جرائم کے مقدمات کیلئے ’فاسٹ ٹریک‘ عدالتوں کو مزید فعال بنایا جائے۔
سماجی بیداری: سماج کی ذہنیت میں تبدیلی لانے کے لئے سماج بیداری مہمیں چلائی جائیں۔