ہم سنتے یا پڑھتے ہیں کہ سبزیوںکو جلد پکانے کیلئے کیمیکل کا استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض دفعہ سبزیوں کے گہرے رنگ دیکھ کر ہم بھی پس و پیش میں رہتے ہیں کہ کیا اس کا رنگ قدرتی ہے یا خوش رنگ نظر آنے کیلئے کیمیکل شامل کیا گیا ہے۔ خواتین گھر کے ایک حصہ میں سبزیاں اُگاکر اس مسئلے کو حل کرسکتی ہیں۔
اگر گھر میں جگہ اور سہولت ہو تو سبزیوں کے پودے لگانے کی کوشش کریں۔ تصویر: آئی این این
اگر آپ تازہ، محفوظ اور غذائیت سے بھرپور سبزیاں کھانا اور اپنے گھر والوں کو کھلانا چاہتی ہیں تو انہیں گھر پر اگانا بہترین طریقہ ہے۔ روزمرہ کے کھانوں میں استعمال ہونے والی سبزیاں جیسے ٹماٹر، مرچ، دھنیا، پالک وغیرہ گھر کے کسی حصے میں بآسانی اگائی جاسکتی ہیں۔ اس سے نہ صرف آپ کو کیمیکل سے پاک اور تازہ سبزیاں ملیں گی بلکہ باغبانی کا تجربہ بھی خوشگوار اور سکون دینے والا ہوگا۔
پالک
یہ اونچائی میں زیادہ نہیں بڑھتی، اسلئے بڑا اور چوڑا گملا استعمال کریں۔ ۵۰؍ فیصد مٹی، ۴۰؍ فیصد گوبر کی کھاد یا ’ورمی کمپوسٹ‘ اور ۱۰؍ فیصد ریت ملا کر گملے میں بھر دیں۔ ساتھ ہی تھوڑی سی نیم کی کھلی بھی ملا سکتے ہیں۔ اس کو ۲؍ دن کیلئے رکھ دیں۔ گملے میں مٹی بھریں، پالک کے بیج کو آدھے اور ایک انچ کی گہرائی میں دبا کر ہلکی مٹی سے ڈھانک دیں۔ پانی کا صرف چھڑکاؤ کریں اور خیال رہے کہ پانی زیادہ نہ ہو، صرف مٹی گیلی رہے۔ پالک کو روزانہ ۴؍ سے ۶؍ گھنٹے دھوپ ملنی چاہئے۔ مہینے میں ایک بار ڈی اے پی کا استعمال کریں۔
ہری مرچ
۵۰؍ فیصد مٹی، ۳۰؍ فیصد کھاد اور ۲۰؍ فیصد ریت کے مرکب میں مرچ کے بیج بوئیں۔ مرچ کی زیادہ پیداوار کیلئے نامیاتی کھاد، جیسے کمپوسٹ کھاد، بون مل، گوبر کی کھاد وغیرہ کا استعمال کریں۔ پودے میں ۵۰؍ سے ۶۰؍ دنوں میں پھول اور پھل آنے لگتے ہیں۔ اسے ایسی جگہ پر رکھیں جہاں ۴؍ سے ۵؍ گھنٹے دھوپ آتی ہو۔ پودے کی چھٹنی (پروننگ) کرنا ضروری ہے۔ پودے کی اچھی نشوونما کے لئے نائٹروجن سے بھرپور کھاد کا استعمال کریں۔ ساتھ ہی زِنک کا اسپرے پودوں میں نئی شاخوں کی نشوونما اور پھلوں کی تعداد بڑھانے میں معاون ہوتا ہے۔
لوکی
۴۰؍ فیصد مٹی، ۳۰؍ فیصد ریت اور ۳۰؍ فیصد ورمی کمپوسٹ یا سڑی ہوئی گوبر کی کھاد ملائیں۔ ’گرو بیگ‘ (تھیلی، جس میں پودا اگایا جاتا ہے) میں مٹی بھر کر لوکی کے بیجوں کو ایک انچ گہرائی میں بوئیں۔ اسکے بعد اس میں پانی ڈالیں۔ لوکی کی بیل ۱۸؍ سے ۳۵؍ ڈگری درجۂ حرارت میں اچھی طرح بڑھتی ہے۔ بیج کو پودا بننے میں ۱۴؍ دن لگیں گے۔
ٹماٹر
ایسا گملا یا گرو بیگ لیں جس میں پودے کی جڑ کو مناسب جگہ مل سکے۔ مٹی تیار کرنے کیلئے ۵۰؍ فیصد مٹی، ۴۰؍ فیصد گوبر کی سڑی کھاد یا کیچوے کی کھاد اور ۱۰؍ فیصد ریت کا مرکب تیار کر گملے میں بھریں۔ پودے کی نئی چھوٹی پتیوں کو کاٹ دیں جس سے زیادہ ٹماٹر آئیں گے۔ پودے میں جب ٹماٹر آنا شروع ہو جائے تب کم مقدار میں پانی دیں۔ وقفے وقفے سے نامیاتی کھاد ڈالیں اور ٹماٹر کے پودے میں مہینے میں ۲؍ بار گوبر کھاد اور سرسوں کی کھلی کا پتلا محلول ڈال سکتے ہیں۔ بگ اور لیف مائنر کیڑوں سے بچاؤ کیلئے نیم کے تیل کا چھڑکاؤ کریں۔
بربٹی (ایک قسم کی پھلی)
۵۰؍ فیصد مٹی، ۳۰؍ گوبر کھاد، ۱۰؍ فیصد کیچوے کی کھاد اور ۱۰؍ ریت ملائیں۔ اس مٹی کو ۱۸؍ انچ کے گملے میں بھریں۔ اس میں ۶؍ سے ۸؍ بیج ایک انچ گہرائی میں جگہ جگہ ڈال کر پانی دیں۔ دوسرا طریقہ، پہلے ’گرو ٹرے‘ میں کوکو پیٹ بھر کر ۲، ۲؍ بیج ڈال دیں۔ بیج بونے کے ۸؍ دن بعد پودا نکل آئے گا۔ ان پودوں کو نکال کر مٹی سے بھرے گملے میں ۳؍ جگہ لگا دیں۔ پودے کو ۲؍ دن چھاؤں میں رکھیں، تیسرے دن دھوپ میں۔ اس میں ۴۵؍ دنوں بعد پھل آنا شروع ہو جائیں گے۔
دھنیا اور پودینہ
بازار سے پودینہ لے کر اس کی کٹنگ بنائیں۔ اس کو کھاد مٹی کے مرکب میں ایک سے ڈیڑھ انچ گہرائی میں لگا دیں۔ ۵؍ دن چھاؤں میں رکھیں، پھر دھوپ والی جگہ پر رکھ دیں۔ پودینے کے پودوں کیلئے پھلوں کے چھلکوں کی کھاد کا استعمال کریں۔ اسی طرح دھنیے کو بیج سے بو سکتے ہیں یا پھر جڑ والے دھنیے سے۔ ان میں پانی کا چھڑکاؤ کریں۔
بھنڈی
۵۰؍ فیصد مٹی میں ۲۰؍ فیصد کوکو پٹ، ۳۰؍ فیصد گوبر کی کھاد یا ورمی کمپوسٹ ملائیں۔ اب ۱۲؍ سے ۱۶؍ انچ گہرے گملے میں تیار مٹی کو آدھا بھر لیں۔ مٹی میں انگلی سے چھوٹے چھوٹے گڑھے کرکے بیج ڈال دیں۔ پودا بننے کے ۲۵؍ دن بعد اس میں پھل آنے لگیں گے۔ بھنڈی کا پودا وہاں لگائیں جہاں دھوپ آتی ہو۔ ساتھ ہی پودے میں وقفے وقفے سے گوبر کی کھاد ڈالتے رہیں۔
بینگن
بینگن اگانے کیلئے مٹی بھربھری، زرخیز اور پانی نکالنے والی ہونی چاہئے۔ اس میں ۴۰؍ فیصد باغبانی کی مٹی، ۳۰؍ فیصد گوبر کھاد، ۲۰؍ فیصد ریت اور ۱۰؍ فیصد نیم کی کھلی ملائیں۔ مٹی کو کچھ دن دھوپ میں سوکھنے دیں تاکہ یہ بیماریوں سے محفوظ رہیں۔ وقتاً فوقتاً نامیاتی کھاد ڈالیں اور نمی برقرار رکھیں۔
(بشکریہ دینک بھاسکر)