عادتیں انسان کی شخصیت کے سارے پہلوؤں کو اُجاگر کر دیتی ہیں۔ اندازِ تخاطب، اُٹھنے بیٹھنے اور لوگوں سے ملنے جلنے پر سرزد ہونے والا ہر عمل ایک طرح سے ہماری عادت کا آئینہ دار ہے۔ عادتیں اگر اچھی ہوں تو شخصیت کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ اسلئے کم عمری ہی سے بچوں میں اچھی عادتیں پروان چڑھائیں۔
اچھی عادتیں انسان کو دوسروں سے منفرد بناتی ہیں، اس لئے بچوں کو اچھی اور بُری عادتوں کے درمیان فرق سمجھائیں۔ تصویر: آئی این این
عادتوں کا انسانی زندگی پر بڑا گہرا اثر ہوتا ہے۔ یہ انسان کی زندگی میں کچھ اِس طرح سے رچ بس جاتی ہیں کہ بعض مرتبہ انسان اُن کا غلام ہو کر رہ جاتا ہے۔ عادتیں مصلحتاً بھی اپنائی جاتی ہیں اور شوقیہ بھی۔ لیکن یہاں یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ ایک بار اگر کسی قسم کی کوئی عادت لگ گئی تو پھر اُس سے پیچھا چھڑانا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بعض عادتیں تو لت بھی بن جاتی ہیں اور جونک کی طرح ہم سے چپک جاتی ہے۔ غلط عادتوں کو اگر وقت رہتے سدھار نہ لیا جائے تو یہ دائمی بیماری بن جاتی ہے۔
عادتیں اگر اچھی ہوں تو شخصیت کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ وہیں غلط طریقوں سے کئے گئے کاموں میں نقص پیدا ہو جاتا ہے اور یہی نقائص غلط عادتوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اگر بچوں کو شروع ہی سے اچھی عادتوں کی سمت راغب کیا جائے اور اُنہیں ہر کام کرنے کا صحیح ڈھنگ بتایا جائے تو اُن میں شعور کے ساتھ اخلاق بھی فروغ پاتا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ’’با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب!‘‘ اچھی عادتیں کردار کو سنوار کر مخلص، با اخلاق اور با ادب بناتی ہیں ایسے افراد پر قسمت بھی مہربان رہتی ہے۔ اچھی عادتوں کے حامل افراد سبھی کے پسندیدہ ہوتے ہیں۔ لوگ اُن سے مل کر خوش ہوتے ہیں اور دوستی کرنے نیز راہ و رسم بڑھانے میں اپنی توقیر سمجھتے ہیں۔ وہیں بُرے اطوار و سلوک کے لوگوں کی عادتیں بھی نا پسندیدہ ہوتی ہیں۔ لوگ اُن سے دامن بچا کر اور نظریں چرا کر نکل جاتے ہیں۔ اچھے بچّے وہ کہلاتے ہیں جن کی عادتیں اچھی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر بڑوں کو ادب سے سلام کرنا۔ اُن کا احترام کرنا اور اُن کا کہا ماننا اچھی عادتیں ہیں۔
بچّوں میں اچھی عادتیں ڈالنے اور اُنہیں فروغ دینے کے لئے شروع سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ چھینک آنا فطری ہے۔ یوں تو یہ عام اور معمولی بات ہے، مگر دیکھنے والوں اور اطراف کے لوگوں پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔ جیسے کہ اچانک چھینک آنے پر فوراً رومال سے اپنا منہ ڈھانپ لینا اچھی عادت ہے۔ چونکہ ہمیں اِس قسم کی حرکت کی عادت پڑ چکی ہوتی ہے اِس لئے ہمارے دماغ نے الارم دے کر بروقت ہم سے ایسا کروا لیا ہوتا ہے۔ عمل کا ردِ عمل وہی ہوگا جس کے ہم عادی ہو چکے ہوں گے۔ اِس کے برعکس یونہی چھینک کر آگے بڑھ جانا کراہت کے ساتھ فضا کو کثافتوں سے پُر کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اِس لئے ضروری ہے کہ کم سنی ہی سے بچّوں میں اچھی عادتیں ڈالی جائیں۔ اِس کے لئے ماں کے ساتھ گھر کے دیگر افراد کو بھی اِس طرف توجہ دینی ہوگی۔ چھوٹے پچے معصوم ہوتے ہیں وہ اپنے بڑوں کی بات جلد مان لیتے ہیں۔ بچّوں میں اچھی عادتوں کی شروعات کچھ اِس طرح کریں۔
کچھ اچھی عادتیں
بچّوں کو ہاتھ دھو کر بسم اللہ پڑھ کر اور سَر ڈھانک کر کھانا تناول کرنا سکھایا جائے۔ اسی طرح بیٹھ کر پانی پینا، بڑوں کو ادب سے سلام کرنا، جب دو اشخاص باتیں کریں تو درمیان میں نہ بولنا، اچھا سامع بننا، اُستاد کا ادب کرنا، غلطی پر معافی مانگنا اور تحفے تحائف، بخشش و انعام ملنے پر شکریہ کہنا، وغیرہ ایسی عادتیں ہیں جن کو اپنا کر بچّے دین و دنیا میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اچھی عادتوں کے مرتکب بچّے مہذب بچّوں میں شمار ہوتے ہیں۔
کچھ بری عادتیں
کچھ بری عادتیں ایسی ہوتی ہیں۔ جو بعض بچّوں میں نظر آتی ہیں۔ جیسے مثال کے طور پر، گھر آئے مہمانوں کے سامنے بدتمیزی سے پیش آنا مثلاً اُن کے سامنے رکھی کھانے کی پلیٹ سے بغیر اجازت کھانا، اُن کے سامنے رونا یا والدین سے کسی چیز کے لئے ضد کرنا، ایک جگہ نہ بیٹھ کر یہاں وہاں پھرنا، اُن کی یا کسی بڑے کی بات کا جواب نہ دینا اور برا برا منہ بنانا، غصہ آنے پر دوسروں پر تھوکنا، لڑنا جھگڑنا اور چیخنا چلّانا وغیرہ۔
ذرا سوچئے! ایسی حرکتیں کسے پسند آئے گی؟ ایسے بچّوں کی شبیہ ایک با اخلاق، سمجھدار اور اچھے بچّے کے طور پر نہیں ہوتی۔ خود ایسی حرکتوں کے مرتکب بچّے بعد میں خود بھی شرمندہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ اُنہیں یا تو ڈانٹ ملتی ہے یا پھر بے رُخی۔ یاد رکھیں بچّے جب اِس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں تو اُس کا کریڈیٹ کچھ حد تک اُن کے اہل ِ خانہ کو بھی دیا جاتا ہے۔ اچھے اطوار و اچھی عادتوں والے بچّوں کے والدین خوش ہو کر فخر محسوس کرتے ہیں، بچّوں کے ساتھ ساتھ اُنہیں بھی عزت ملتی ہے جبکہ بُری عادتوں والے بچّے نہ صرف خود بد تمیز کہلاتے ہیں بلکہ والدین بھی شرمندہ ہوتے ہیں۔ آپ نے سنا ہوگا ’’عادتیں اگر وقت پر نہ بدلی جائیں تو ضرورتیں بن جاتی ہیں۔‘‘ اس لئے وقت رہتے بچوں کی درست رہنمائی کریں۔ چونکہ عادتیں شخصیت کی آئینہ دار ہوتی ہیں، اِس لئے شروع ہی سے بچّوں میں اچھی عادتوں کو پروان چڑھائیں، انہیں ایک با وقار زِندگی دیں تاکہ آگے چل کر وہ سماج میں ادب و مرتبہ اور بلند مقام پائیں۔