• Thu, 08 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بچوں کی پرورش، تخلیقی صلاحیت اور ذہنی صحت کیسے محفوظ ہو؟

Updated: January 07, 2026, 2:13 PM IST | Odhani Desk | Mumbai

آسٹریلیا میں ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پابندی ایک عالمی انتباہ ہے۔ ماؤں کیلئے ضروری ہے کہ وہ اسکرین ٹائم کو محدود کرکے بچوں کی تخلیقی صلاحیت، توجہ اور جذباتی صحت کی حفاظت کریں۔ متوازن رہنمائی، حقیقی سرگرمیاں اور مضبوط جذباتی سہارا بچوں کے روشن مستقبل کی کنجی ہے۔

Mothers should educate their children about the dangers of digital devices and limit their use themselves. Picture: INN
مائیں بچوں کو ڈجیٹل ڈیوائسیز کے نقصانات سے آگاہ کریں اور خود بھی ان کا محدود استعمال کریں۔ تصویر: آئی این این
آسٹریلیا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی ہے۔ یہ فیصلہ محض قانون سازی نہیں بلکہ ایک واضح انتباہ ہے، خصوصاً ماؤں کیلئے کہ بچوں کی ذہنی نشوونما، جذباتی توازن اور تخلیقی صلاحیتیں اسکرین کے بے جا استعمال سے خاموشی سے متاثر ہو رہی ہیں۔ ایک محبت کرنے والی ہستی کے طور پر آپ سب سے بہتر جانتی ہیں کہ بچپن محض کھیل کود کا زمانہ نہیں بلکہ دماغی تعمیر کا حساس مرحلہ ہے۔ یہی وہ عمر ہے جب بچے کی توجہ، صبر، جذباتی کنٹرول اور تخلیقی سوچ کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا، اگر حد سے بڑھ جائے، تو ان بنیادوں کو کمزور کرسکتا ہے۔
ترقی پذیر ذہن اور سوشل میڈیا
ماہرین ِ اعصاب کے مطابق بچپن اور نوعمری میں دماغ تیزی سے نئے راستے بناتا ہے۔ اس دوران جو عادات بنتی ہیں، وہ طویل مدت تک اثر رکھتی ہیں۔ سوشل میڈیا کی تیز رفتار دنیا (ریلز، شارٹس، لائکس اور نوٹیفکیشن) بچے کے دماغ کو فوری تسکین کا عادی بنا دیتی ہے۔ نتیجتاً وہ صبر، گہری توجہ اور مستقل محنت سے دور ہونے لگتا ہے۔
ماں کی رہنمائی یہاں کلیدی کردار ادا کرتی ہے: بچے کو یہ سکھانا ضروری نہیں لازمی ہے کہ ہر خوشی فوری نہیں ہوتی، اور ہر کامیابی اسکرین پر نظر آنے والی تعریف سے بڑی ہوتی ہے۔
شارٹ ویڈیوز اور توجہ میں کمی
مسلسل اسکرولنگ اور چند سیکنڈ کے ویڈیوز بچے کی توجہ کو منتشر کر دیتے ہیں۔ ایک ایپ سے دوسرے ایپ پر چھلانگ لگانا دماغ کو گہرے کام، جیسے مطالعہ، لکھائی، ڈرائنگ یا صحت کیلئے ضروری کھیل کود، سے دور کرتا ہے۔ مائیں اکثر محسوس کرتی ہیں کہ زیادہ اسکرین استعمال کرنیوالے بچے دیر تک کسی ایک سرگرمی میں مشغول نہیں رہ پاتے۔
حل یہ ہے کہ اسکرین ٹائم کم کر کے حقیقی سرگرمیوں کو ترجیح دی جائے: کہانیاں سنانا، پزلز، رنگ بھرنا، موسیقی اور کھلی فضا میں کھیل۔
جذباتی اثرات: موازنہ اور خود اعتمادی
سوشل میڈیا پر ’’پرفیکٹ زندگی‘‘ اور ’’کامل جسم‘‘ کے مناظر بچوں کو موازنہ سکھاتے ہیں، شکر گزاری نہیں۔ لائکس کی کمی خود اعتمادی کو نقصان پہنچاتی ہے، اور منفی تبصرے دل توڑ سکتے ہیں۔ شناخت بنانے کے مرحلے میں یہ دباؤ خاموشی سے بے چینی، چڑچڑاپن اور تنہائی کو جنم دیتا ہے۔
ماں کا کردار یہاں ڈھال بن سکتا ہے: بچے کو یہ باور کرانا کہ اس کی قدر اس کی محنت، اخلاق اور تخلیق میں ہے، نہ کہ آن لائن نمبروں میں۔
کم عمری میں پابندی کیوں فائدہ مند ہے؟
تحقیقات بتاتی ہیں کہ اسکرین ٹائم کم کرنے سے نیند بہتر ہوتی ہے، بے چینی گھٹتی ہے اور جذباتی سکون بڑھتا ہے۔ دیر رات تک نوٹیفکیشن دماغ کو جاگتا رکھتے ہیں؛ انہیں محدود کرنا ذہنی توازن بحال کرتا ہے۔ اس کے ساتھ سائبر بلیئنگ (آن لائن دھمکانا) کا خطرہ کم ہوتا ہے اور حقیقی دوستی پروان چڑھتی ہے۔
تخلیق، اعتماد اور حقیقی زندگی
جب بچے اسکرین سے ہٹ کر دنیا کو دریافت کرتے ہیں تو تخلیقی صلاحیتیں کھلتی ہیں۔ بلاکس جوڑنا، کہانیاں گھڑنا، سوال پوچھنا، یہ سب دماغی مضبوطی کی علامتیں ہیں۔ آف لائن تجربات یادداشت، مسئلہ حل کرنے کی مہارت اور خود اعتمادی بڑھاتے ہیں۔ ایسے بچے دوسروں کی تائید، حمایت یا منظوری کیلئے آن لائن دروازے نہیں کھٹکھٹاتے، بلکہ اپنی قابلیت پر بھروسہ کرتے ہیں۔
ماہرین ِ نفسیات کی تنبیہ
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کم عمری میں بے جا اسکرین ٹائم نیند کی خرابی، بے چینی اور ڈپریشن کے خطرات بڑھا سکتا ہے۔ اسمارٹ فون کی روشنی میلاٹونن (نیند کو متاثر کرنے والا قدرتی ہارمون) کم کرتی ہے، جس سے نیند متاثر ہوتی ہے اور تعلیمی کارکردگی گھٹتی ہے۔
متوازن راستہ: پابندی نہیں، رہنمائی
اسمارٹ فونز پر مکمل پابندی ہر گھر کیلئے ممکن نہیں، مگر واضح حدود ضروری ہیں۔ مائیں اسکرین ٹائم کے اصول طے کریں، مشترکہ خاندانی اوقات رکھیں، اور خود مثال بنیں۔ ڈجیٹل خواندگی سکھائیں کہ کیا دیکھنا ہے، کیوں دیکھنا ہے، اور کب بند کرنا ہے۔ یاد رکھیں، سوشل میڈیا خود مسئلہ نہیں؛ اس کا وقت، استعمال کرنے کا دورانیہ اور طریقہ استعمال مستقبل بناتا یا بگاڑتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK