بظاہر سالگرہ ایک خوشی کا موقع معلوم ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ سوال بہت گہرا ہے کہ یہ خوشی ہمارے بچوں کو کیا سکھا رہی ہے؟
جنم دن۔ تصویر:آئی این این
بظاہر سالگرہ ایک خوشی کا موقع معلوم ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ سوال بہت گہرا ہے کہ یہ خوشی ہمارے بچوں کو کیا سکھا رہی ہے؟
کیا یہ شکر سکھا رہی ہے؟ یا مطالبہ؟ ٭کیا یہ سادگی سکھا رہی ہے؟ یا نمود و نمائش؟ ٭کیا یہ قناعت سکھا رہی ہے؟ یا مقابلہ بازی؟
یہی وہ سوالات ہیں جن پر ہر صاحبِ شعور والدین کو رک کر غور کرنا چاہئے:
سالگرہ: شکر کا دن یا نفس کی پرورش؟
زندگی کا ہر سال مکمل ہونا اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ سانسیں چل رہی ہیں، صحت باقی ہے، رزق میسر ہے، عقل قائم ہے.... یہ سب اللہ کی عطا ہے۔ یقیناً اس پر شکر لازم ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ شکر کا اصل طریقہ کیا ہے؟ کیا شکر کا مطلب موم بتیاں بجھانا، کیک کاٹنا، شور شرابہ کرنا اور تصاویر اپلوڈ کرنا ہے؟ یا شکر کا مطلب یہ ہے کہ انسان سجدے میں گر کر کہے: ’’یا اللہ! تو نے ایک اور سال عطا کیا، مجھے اپنی اطاعت میں بہتر بنا دے۔‘‘
اگر سالگرہ شکر، دعا اور احتساب کا ذریعہ بنے تو یہ ایک مثبت لمحہ ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر یہ صرف نفس، خواہشات اور نمائش کی غذا بن جائے تو یہ خوشی نہیں، تربیت کا نقصان ہے۔
اسلامی شعور یا اندھی تقلید؟
یہ حقیقت ہے کہ اسلام میں سالگرہ منانے کی کوئی باقاعدہ دینی بنیاد نہیں ملتی۔ نہ رسولؐ اللہ نے اپنی سالگرہ منائی، نہ صحابہؓ نے، نہ سلف صالحین نے۔ اس لئے اسے دین کا حصہ سمجھنا درست نہیں۔ مگر مسئلہ صرف ’جائز یا ناجائز‘ کا نہیں، بلکہ “شعور‘ کا ہے۔ ہمیں خود سے پوچھنا چاہئے، کیا ہم خوشی منا رہے ہیں یا کسی اور تہذیب کی نقل کررہے ہیں؟ افسوس یہ ہے کہ آج بہت سے مسلمان اپنے بچوں کو شعور نہیں، رسموں کا غلام بنا رہے ہیں۔
سالگرہ: خوشی کم، نمائش زیادہ
آج سالگرہ کی تقریبات میں خوشی سے زیادہ دکھاوا ہوتا ہے۔ مہنگے کیک، شاندار ہال، قیمتی تحائف، ڈیکوریشن، فوٹو شوٹس، ریلز، سوشل میڈیا پوسٹس.... یہ سب مل کر بچے کے ذہن میں ایک خطرناک تصور پیدا کرتے ہیں ’’میری اہمیت میرے جشن کی شان سے ہے۔‘‘ اور یہی سوچ بعد میں شخصیت کو کھوکھلا کردیتی ہے۔
والدین بچپن سے کیا بو رہے ہیں؟
بچپن زمین کی طرح ہوتا ہے۔ جو بویا جائے گا، وہی اگے گا۔ اگر آپ بچپن سے بچے کو سکھائیں خوشی = خرچ، محبت = تحفہ، عزت = بڑی پارٹی، خوش نصیبی = دوسروں سے بہتر ہونا.... تو آپ اس کے دل میں، دنیا پرستی، خود پسندی، حسد، مقابلہ بازی اور بے صبری کے بیج بو رہے ہیں۔ اور پھر حیرت کیسی؟ جب یہی بچے بڑے ہو کر ضدی، ناشکرے اور بے قابو ہوجائیں۔ مگر سوال یہ ہے، کیا یہ سب اچانک ہوا؟ نہیں۔ یہ برسوں کی تربیت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جسے ہر خواہش فوراً پوری کرنا سکھایا جائے، وہ صبر کہاں سے سیکھے گا؟ جسے ہر خوشی نمود سے جوڑی جائے، وہ قناعت کہاں سے سیکھے گا؟
سالگرہ کی اصل حقیقت: عمر بڑھتی نہیں، گھٹتی ہے
یہ ایک بڑی حقیقت ہے جسے ہم بھول جاتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں ’’ایک سال اور بڑھ گیا!‘‘ حالانکہ حقیقت یہ ہے ’’ایک سال اور کم ہوگیا۔‘‘ ہر سالگرہ دراصل اعلان کرتی ہے: تم موت کے ایک سال اور قریب آگئے، تمہارے اعمال کے حساب کا وقت کم ہوگیا، تمہاری مہلت گھٹ گئی، ایسے موقع پر کیک زیادہ مناسب ہے یا محاسبہ؟
معاشی بوجھ اور سماجی دباؤ
آج کتنے والدین صرف اس لئے سالگرہ پر خرچ کرتے ہیں کیونکہ ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ یہ ’’لوگ‘‘ کتنے ظالم ہیں۔ وہ آپ کو خرچ پر مجبور کرتے ہیں، مگر قرض میں آپ کے ساتھ نہیں کھڑے ہوتے۔ ہزاروں، لاکھوں روپے صرف چند گھنٹوں میں ضائع ہوجاتے ہیں۔ سوچئے، کیا یہی رقم کسی یتیم کے کام نہیں آسکتی؟ کسی غریب کی دوا نہیں بن سکتی؟ کسی بچے کی تعلیم نہیں بن سکتی؟
والدین یاد رکھیں: اولاد امانت ہے
یہ بات دل پر لکھ لیجئے، اولاد نعمت بھی ہے اور امانت بھی۔ اور امانت پر سوال ہوگا۔ اللہ پوچھے گا: تم نے اپنے بچوں کو کیا سکھایا؟ ان کے دلوں میں دین بویا یا دنیا؟ ان کو شکر سکھایا یا مطالبہ؟ سادگی سکھائی یا دکھاوا؟ یہ سوال بہت سخت ہوگا۔ اور شاید اس دن کوئی بہانہ کام نہ آئے۔
سالگرہ اگر منانی ہو تو اسے بدل دیجئے
اگر سالگرہ منانی ہی ہو تو اسے بامقصد بنائیں: دو نفل پڑھیں، صدقہ کریں، غریبوں کو کھانا کھلائیں، والدین کا شکریہ ادا کریں، ایک اچھی کتاب تحفے میں دیں، اپنی زندگی کا جائزہ لیں، اللہ سے اگلے سال کی بہتری مانگیں۔ یہی اصل خوشی ہے۔ یہی اصل تہذیب ہے۔ اولاد کو خوشی دیجئے، مگر شعور کے ساتھ مسئلہ سالگرہ نہیں، مسئلہ وہ ذہنیت ہے جو سالگرہ کے ذریعے پروان چڑھتی ہے۔ اگر یہ دن بچے کو شکر، سادگی، خدمت اور اللہ سے تعلق سکھائے تو یہ نعمت ہے۔ لیکن اگر یہی دن اسے ضد، فضول خرچی، خود پسندی، مقابلہ بازی اور دنیا کی محبت سکھائے تو یہ خوشی نہیں، خاموش تباہی ہے۔
والدین کو سمجھنا ہوگا:
بچوں کی شخصیت اچانک نہیں بنتی، چھوٹی چھوٹی عادتوں سے بنتی ہے۔ آج آپ جس رسم کو معمولی سمجھ کر اپنارہے ہیں، ممکن ہے وہی کل آپ کی اولاد کی سوچ، ترجیحات اور زندگی کا رخ طے کرے۔ اپنے بچوں کو خوشیاں ضرور دیجئے، مگر ایسی خوشیاں جو ان کے دلوں کو اللہ سے جوڑیں، دنیا کی چکاچوند سے نہیں۔ کیونکہ آخرکار اولاد کے رزق کا نہیں، تربیت کا حساب زیادہ سخت ہوگا۔n
(مضمون نگار مومن گرلز ہائی اسکول،
بھیونڈی کی ہیڈمسٹریس ہیں)