کیا کوئی ہدایت کاریا فلم ساز کبھی خواب میں بھی یہ سوچ سکتا ہے کہ اس کی فلم ناکام ہو جائے؟ یقیناً اس سوال کا جواب ’نہیں‘ہوگا۔
EPAPER
Updated: June 22, 2026, 12:02 PM IST | Agency | Mumbai
کیا کوئی ہدایت کاریا فلم ساز کبھی خواب میں بھی یہ سوچ سکتا ہے کہ اس کی فلم ناکام ہو جائے؟ یقیناً اس سوال کا جواب ’نہیں‘ہوگا۔
کیا کوئی ہدایت کاریا فلم ساز کبھی خواب میں بھی یہ سوچ سکتا ہے کہ اس کی فلم ناکام ہو جائے؟ یقیناً اس سوال کا جواب ’نہیں‘ہوگا، لیکن ۱۹۷۰ءکی دہائی میں ایک ایسی فلم بھی بنی تھی جس کے پروڈیوسر یہی چاہتے تھے کہ فلم کسی بھی صورت کامیاب نہ ہو۔ حیرت انگیز طور پر کم بجٹ میں بننے والی یہ فلم ریلیز ہوتے ہی سپر ہٹ ثابت ہوئی اور اس کی غیر متوقع کامیابی نے فلم سازوں کو حیران بلکہ کسی حد تک پریشان بھی کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے:سلمان خان ، فرحان اختر کے ساتھ تاریخی منظر پر مبنی فلم ۲؍حصوں میں بنانا چاہتے ہیں
یہ دلچسپ قصہ ۱۹۷۹ءمیںریلیز ہونے والی فلم ’نوری‘سے جڑا ہوا ہے۔فلم ’نوری‘ کا نام آتے ہی اس کا مشہور نغمہ ’آ جا رے، او میرے دلبر آ جا، دل کی پیاس بجھا رے‘ ذہن میں گونجنے لگتا ہے۔ یہ فلم ۱۱؍مئی ۱۹۷۹ءکو ریلیز ہوئی تھی۔ اس کے ہدایت کار منموہن کرشن تھے، جو اس سے قبل ایک معروف کردار اداکار کے طور پر جانے جاتے تھے۔فلم ’نوری‘ باکس آفس پر سپر ہٹ ثابت ہوئی۔ یہ ۱۹۷۹ءکی ساتویں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بنی۔ تقریباً۱ء۱۰؍کروڑ روپے کے بجٹ سے بننے والی اس فلم نے۲ء۵؍کروڑ روپے کا کاروبار کیا، جو اس زمانے کے لحاظ سے ایک بڑی کامیابی تھی۔اس کہانی کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یش چوپڑا نے یہ فلم دراصل ٹیکس بچانے کی غرض سے بنائی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:نیٹ رِی ایگزام : جب ایک برقع پوش طالبہ اپنے حق اوروقار کیلئے ڈٹ گئی
انہیں یقین تھا کہ ’نوری‘زیادہ کامیاب نہیں ہوگی۔اسی دوران وہ اپنی بڑی اور مہنگی فلم’کالا پتھر‘بھی بنا رہے تھے، جس پر ان کی پوری توجہ مرکوز تھی۔ یش چوپڑا کا خیال تھا کہ ’کالا پتھر‘ بڑی کامیابی حاصل کرے گی، جبکہ ’نوری‘ ایک معمولی فلم ثابت ہوگی۔لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔’نوری‘توقعات سے کہیں زیادہ کامیاب رہی اور نہ صرف ہندوستان بلکہ بعد میں چین میں بھی مقبول ہوئی۔ یہ فلم۱۹۸۱ءمیں چین میں ریلیز ہوئی اور وہاں بھی اسے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔