ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا ہوگا کہ اس دور میں گھر کے بچے اپنے بڑوں کے طور طریقوں کو دیکھ کر اپنی زندگی گزارتے تھے اور ان کے ہی نقش قدم پر چلتے تھے۔ اسی عمل کو موجودہ دور میں ’ہوم اسکولنگ‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ گھر میں، بچے اپنے والدین اور بڑوں سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
ہوم اسکولنگ میں بچہ کتابی علم کے ساتھ ساتھ بڑوں کے تجربہ سے بھی سیکھتا ہے۔ تصویر: آئی این این
سوشل میڈیا کے اس تیز رفتار دور میں ہر شعبے میں تبدیلی آرہی ہے۔ نئے طریقے اپنائے جا رہی ہیں۔ اور کیوں نہ اپنائیں؟ آخر بدلاؤ بھی زندگی کی ایک ضرورت ہے۔ جس نے بدلاؤ کو قبول نہیں کیا وہ پیچھے رہ گیا اور کئی چیزوں سے محروم بھی۔
مَیں ایک معلمہ ہوں۔ مَیں نے اُس وقت اپنی تعلیم شروع کی جب بچے سیاہ تختی پر لکھتے تھے اور استاد کی بولی ہوئی بات کو بار بار دوہرا کر اور رَٹ کر سیکھتے تھے۔ اس کے بعد پینسل پھر قلم تک کا سفر اسکول میں طے کیا۔ پھر کالج میں کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ پر پڑھائی کی۔ اب کے دور کا تو یہ عالم ہے کہ ہمارے بچے اسکول کا ہوم ورک، ایکٹیویٹی اور پروجیکٹ ٹیب اور آئی پیڈ پر کرتے ہیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ بات گھوم پھر کر وہیں آجاتی ہے۔ دنیا گول ہونے کی وجہ سے ہر چیز وہیں آجاتی ہے جہاں سے آغاز ہوا تھا۔ آپ کو شاید یاد ہو کہ ہمارے بزرگ جب اپنے بچپن کی باتیں بتاتے تھے تو محسوس ہوتا تھا کہ اس دور میں اسکولی تعلیم کو بہت زیادہ اہمیت حاصل نہیں تھی۔ اس دور میں گھر کے بچے اپنے بڑوں کے طور طریقوں کو دیکھ کر اپنی زندگی گزارتے تھے اور ان کے ہی نقش قدم پر چلتے تھے۔ یقین جانئے وہ پرانے دور کا طریقہ اس ماڈرن زمانے میں ہوم اسکولنگ یا اَن اسکولنگ کے نام سے مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ مگر اب بھی ہم میں سے ایسے لوگ ہیں جو ہوم اسکولنگ جیسے لفظ سے واقف نہیں ہیں اور اگر کسی نے سنا ہوگا تو یہ نہیں معلوم ہوگا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: Indo-fusion: آؤٹنگ کے لئے پرفیکٹ لُک
ہوم اسکولنگ میں ہوتا یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کو پڑھنے لکھنے کے لئے اسکول نہیں بھیجتے بلکہ وہ خود بچوں کو گھر پر ہی تعلیم دیتے ہیں، لکھنا پڑھنا سکھاتے ہیں۔ ایجوکیشن کی فیلڈ میں اس نئے کانسپٹ کو تعلیمی انقلاب ہی سمجھئے۔ گھر ہی میں والدین اپنے بچے کو نئی نئی چیزوں سے متعارف کرواتے ہیں اور اس کے متعلق معلومات بھی دیتے ہیں۔ مثلاً گھر میں بننے والے روزانہ کے پکوان سے بچوں کو متعارف کراتے ہیں اور اس کھانے میں موجود غذائیت اور صحت کے حوالے سے معلومات بھی دیتے ہیں۔ اس طریقے سے بچے جلدی اور بآسانی سیکھتے ہیں اور ایسی معلومات بچوں کے ذہن میں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح روزمرہ کے کاموں میں بچے ماں باپ سے سیکھتے ہوئے اپنی معلومات میں اضافہ کرتے ہیں۔
صرف یہی نہیں! بچوں کو گھر پر ہی لکھنا اور پڑھنا بھی سکھاتے ہیں۔ ہوم اسکولنگ کی کلاس صرف گھر کی چار دیواروں تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ بچہ گھر کے باہر نکل کر ہرنئی چیز اور نئے ماحول سے کچھ نہ کچھ سیکھتا ہے۔ سفر کے ذریعہ بھی بچوں کو تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ مثلاً اگر والدین بچے کو کسی تاریخی مقام پر سیر کرانے کیلئے لے جاتے ہیں تو بچے کو راستے کی معلومات کے ساتھ ساتھ تاریخی مقام سے متعلق ساری باتیں بتاتے ہیں۔ اس سفر سے بچے کے ذہن میں معلومات ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ والدین بچے کو تجربہ کے ذریعے بھی سکھاتےہیں مثلاً گھر میں نئے پودے لگائے جا رہے ہو تو اس کام کا طریقہ کار بچے کو بھی سکھاتے ہیں۔ اور ساتھ ہی پودے کے مختلف حصوں کے نام اور کام بھی بتاتے ہیں۔ اور یہ تجربہ دیکھ کر بچہ پودا لگانے کا طریقہ اپنے ذہن میں محفوظ کرلیتا ہے۔ اسی طرح سفر اور تجربہ بچے کے ذہن کو کافی مضبوط بناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسپغول: فائبر سپلیمنٹ کے طور پر استعمال ہوتا ہے
صرف یہی نہیں بچے بڑے ہو کر روزگار کمانے کا ہنر اپنے والدین سے یا اپنے اردگرد کے لوگوں سے سیکھتے ہیں اور دوسروں کی بہ نسبت جلد ہی معاشی طور پر خود کفیل ہوجاتے ہیں۔ اس پورے درس و تدریس کے عمل میں والدین اور گھر کا ماحول اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آپ بھی ایسے والدین ہیں جو اپنے بچے کو ہوم اسکولنگ کے طریقے سے تعلیم دینا چاہتے ہیں تو درج ذیل باتوں کا دھیان رکھیں:
روزانہ کا معمول بنائیں۔
والدین بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کی کوشش کریں۔
بچوں کو اپنے سے بھی سیکھنے کا موقع دیں۔
بچے کو اپنے ساتھ سیر و تفریح کیلئے لے جائیں۔
بچوں کو سیکھنے کا بھرپور موقع دیں۔
بچے کو صحت کی اہمیت سکھائیں اور بچے کی بھی صحت کا خیال رکھیں۔
اچھی کارکردگی پر بچے کی تعریف کریں۔
چونکہ بچے والدین سے سیکھ رہے ہیں تو والدین اپنے رویے کا خاص خیال رکھیں۔
والدین ہی سارے مضامین سکھا رہے ہیں تو بچے کی کردار سازی پر بھی توجہ دیں۔
بچے کے ہر طرح کے سوال کا جواب دینے کی کوشش کریں۔
بچے کو اپنے کام خود کرنے کی ترغیب دیں۔
اوپر دیئے گئے تمام نقاط کے ساتھ ساتھ گھر میں دینی ماحول بھی قائم کریں۔
(مضمون نگار ویورس انگلش میڈیم اسکول، بھیونڈی کی معلمہ ہیں)