Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا دوسروں کو معاف کرنا ایک مشکل کام ہے؟

Updated: July 30, 2026, 4:33 PM IST | Odhani Desk | Mumbai

موجودہ دور میں عام سی بات پر بھی لوگ غصہ کا اظہار کرتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ کوئی بات مزاج کے خلاف ہوجائے تو لوگ اکثر اپنا آپا کھو دیتے ہیں اور سامنے والے کو باتیں سنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ لیکن صورتحال برعکس ہو تو اپنی غلطی معمولی نظر آتی ہے اور سامنے والے سے معافی کی امید رکھی جاتی ہے۔

Forgiving others makes the heart lighter and relationships stronger. Photo: INN
دوسروں کو معاف کرنے سے دل ہلکا ہوجاتا ہے اور تعلقات بھی مستحکم ہوتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

عام طور پر انسان اپنی بڑی سے بڑی غلطی پر معافی چاہتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ میرا تو ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا، یہ تو سامنے والے نے ہی غلط سمجھ لیا ہے اس لئے مجھے فوراً معافی مل جانی چاہئے لیکن جب برعکس معاملہ ہو تو وہی انسان سامنے والے کی معمولی غلطی کو بھی بہت بڑی قرار دے کر معاف نہ کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے۔

مثال کے طور پر ساس الماری میں کوئی سامان تلاش کرتی ہیں مگر نہیں ملتا، بس اسی وقت بہو سامنے آجاتی ہے تو وہ اس پر برس پڑتی ہیں، تم کبھی کوئی سامان جگہ پر نہیں رکھتی، کب سے تلاش کر رہی ہوں، مل ہی نہیں رہا، تم انتہائی لاپروا ہو..... وغیرہ وغیرہ۔ ہوسکتا ہے کہ ساس محترمہ نے ہی وہ سامان کہیں رکھ دیا ہو یا گھر کے کسی اور شخص نے وہ سامان لے لیا ہو۔ لیکن یہ سب سوچنے اور سمجھنے کیلئے تحمل سے کام لینا چاہئے جو ہمارے گھروں میں کم ہی دکھائی دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’میٹھے بول میں جادو ہے‘‘ آزما کر دیکھ لیجئے!

دوسری مثال، آپ ٹرین میں کھڑی یا بیٹھی ہوں اور کوئی خاتون بھیڑ کی دھکا مکی کے سبب غلطی سے آپ سے ٹکرا جائے اور شاید شرمندہ ہو کر اس نے آپ کو معذرت طلب نظروں سے دیکھا ہو اور آپ کا سارا خون غصے کو کنٹرول کرتے کرتے چہرے پر جمع ہوگیا ہو اور جواب میں آپ نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا ہو۔ اُس خاتون سے آپ کا کوئی قریبی رشتہ نہ ہو لیکن انسانیت کا رشتہ تو بہرحال برقرار ہے، اسی رشتے کا لحاظ کرکے غصے کے بجائے ایک مسکراتی ہوئی نظر اس پر ڈال لیجئے کہ شاید وہ بھی آپ سے شرمندہ ہونے کے بجائے آپ کی ممنون ہو جائے۔

تیسری مثال، گھر میں بچے کھیل رہے ہیں اور اس دوران وقفے وقفے سے شور بلند ہو رہا ہے۔ باپ فون پر بات کرتے ہوئے گھر میں داخل ہوتا ہے۔ بات کرتے کرتے بچوں کے شور سے وہ غصے سے اُٹھتا ہے اور ایک بچے کو تھپڑ لگا دیتا ہے اور کہتا ہے کیا شور مچا رکھا ہے۔ چین سے بات بھی کرنے نہیں دیتے۔ یہ سب دیکھ کر سبھی بچے سہم جاتے ہیں اور انہیں سمجھ ہی نہیں آتا کہ ان کی غلطی کیا ہے۔ اس صورت میں باپ صبر سے کام لے کر بچوں کو کچھ دیرکے لئے خاموش رہنے یا آہستہ بات کرنے کی تلقین کرسکتا تھا مگر فوراً ردعمل ظاہر کرکے اس نے صورتحال بگاڑ دی تھی۔

اس قسم کے کئی واقعات آئے دن پیش آتے رہتے ہیں۔ صرف یہی کیا، دن بھر میں ہم نہ جانے کتنی مرتبہ اور کن کن افراد پر بے جا غصہ اتارتے ہیں، اور احساس تک نہیں کرتے کہ مقابل پر کیا گزر رہی ہے۔ ایسے مواقع بہت ہی کم میسر آتے ہیں کہ جب ہم بمشکل اپنے غصے کو قابو کرکے خاموش ہوجائیں۔ چڑچڑا پن اور غصہ آج کے معاشرے کی عام سی بات ہے۔ ذرا کوئی بات ہمارے مزاج کے خلاف ہوئی اور ہماری طبیعت پر گراں گزری، ہم یہ بھی نہیں سوچتے کہ اکثر کمزور اور بے قصور افراد کو نشانہ بناتے ہیں۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم خود تو بڑی آسانی سے اپنی بڑی سے بڑی غلطی پر معافی چاہتے ہیں لیکن کسی دوسرے کو اس کی ذرا سی غلطی پر بھی معاف کرنا نہیں چاہتے۔ جس طرح ہم خود کو معافی کا حقدار سمجھتے ہیں، ٹھیک اسی طرح دوسرے افراد بھی معاف کئے جانے کا حق رکھتے ہیں۔ کسی کی غلطی پر اُسے سزا دینے کے بجائے معاف کرکے دیکھیں کسی کی غلطی پر اُسے معاف کرکے اور صبر کرتے ہی دل میں سکون اُترنا شروع ہوجائے گا اور دل ہلکا پھلکا محسوس ہوگا۔ اس کے علاوہ معاف کرنے سے ذہنی سکون میسر آتا ہے اور باہمی تعلقات میں بہتری آتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کچن سے لے کر سوشل میڈیا تک خواتین کا بدلتا ہوا سفر

ہم اپنے اندر برداشت کا جذبہ کس طرح پیدا کرسکتے ہیں؟ انسانی صفات میں شامل ایک صفت صبر ہے جو بہت کم لوگوں میں نظر آتی ہے۔ اگر ہم اپنے اندر صبر پیدا کر لیں تو زندگی کو پُرسکون بنا سکتے ہیں۔ صبر کے بارے میں قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’بے شک اللہ صبر کرنے والے کے ساتھ ہے۔‘‘ صبر کے ذریعے انسان میں بردباری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ دوسروں کو سمجھنے کے قابل ہوتا ہے۔ صبر اور برداشت کی وجہ سے انسان میں دوسروں کو سمجھنے اور سننے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح خدا کی صفات میں ایک صفت ’درگزر‘ کرنا بھی شامل ہے۔ ’درگزر کرنا‘ اعلیٰ اخلاقی صفت ہے جو دلوں کو جوڑتی، معاشرے میں امن قائم کرتی اور انسان کو بلندی عطا کرتی ہے۔ اگر انسان صبر، برداشت اور درگزر کی صفات کو اپنا لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ برداشت ان کی زندگی کا حصہ نہ بن سکے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم صبر اور تحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں تاکہ برداشت ہماری زندگی کا جز بن جائے اور ہم زندگی کو خوشگوار بنا سکیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK