Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’میٹھے بول میں جادو ہے‘‘ آزما کر دیکھ لیجئے!

Updated: July 30, 2026, 1:24 PM IST | Firdous Anjum | Mumbai

سخت الفاظ اور تلخ کلامی ذاتی زندگی کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ معاملات بھی بگاڑتی ہیں۔ حالانکہ نرم لہجہ اور شائستہ الفاظ جادوئی اثر رکھتے ہیں۔ خواتین اپنے نرم لہجے سے گھریلو معاملات کو خوش اسلوبی سے نبھا سکتی ہیں ساتھ ہی بحیثیت ماں بچوں کی بہتر تربیت کرسکتی ہیں اور دفتری امور بھی بحسن و خوبی سنبھال سکتی ہیں۔

Smiling is a great power that adds vibrancy to a conversation. Photo: INN
مسکرانا بڑی طاقت ہے جو گفتگو کو شگفتگی عطا کرتی ہے۔ تصویر: آئی این این

گفتگو ایک فن ہے۔ دلوں کو مسخر کرنے کا ذریعہ ہے۔ نرم لہجہ اور شائستہ الفاظ انسان کی اعلیٰ تربیت، اخلاق اور اعلیٰ ظرفی کی واضح دلیل ہوتے ہیں۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ ’’زبان کا زخم تلوار کے زخم سے زیادہ گہرا ہوتا ہے!‘‘ لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ میٹھا بول وہ مرہم ہے جو برسوں پرانا زخم بھی بھر دیتا ہے۔ اُردو کی مشہور کہاوت ’’میٹھے بول میں جادو ہے‘‘ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک کامل ضابطۂ حیات ہے۔ خاص طور پر خواتین کیلئے جو خاندان کی اکائی اور معاشرہ کی معمار ہیں۔ شیریں کلامی ایسی طاقت ہے جس کے ذریعے وہ ناممکن کو ممکن بناسکتی ہیں۔

نرم گفتگو کی نفسیاتی اور معاشرتی اہمیت:

ماہر نفسیات کا ماننا ہے کہ نرم گفتگو سننے والے کے دماغ میں سکون پیدا کرتی ہے اور اس کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ خواتین کیلئے نرم گفتگو کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ وہ مختلف کرداروں میں نظر آتی ہیں۔ کبھی ماں، کبھی بیٹی، کبھی بیوی اور کبھی ایک ملازمت پیشہ خاتون۔ ان تمام کرداروں میں کامیابی کی کنجی صرف محنت نہیں بلکہ حسنِ کلام بھی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کچن سے لے کر سوشل میڈیا تک خواتین کا بدلتا ہوا سفر

گھریلو زندگی میں میٹھے بول کی تاثیر:

خواتین گھر کی ملکہ ہوتی ہیں۔ اس لئے ان کا لہجہ پورے گھر کے ماحول کا تعین کرتا ہے۔

بحیثیت بیوی: میاں بیوی کے رشتے میں نوک جھونک فطری ہے۔ اس تلخی کو اچھی گفتگو سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ ایک محبت بھرا جملہ شوہر کی دن بھر کی تھکان اتار سکتا ہے۔ جہاں بحث و تکرار سے دوریاں بڑھتی ہیں، وہاں نرمی سے کہی گئی بات مرد کے دل میں عورت کی عزت اور محبت بڑھا دیتی ہے۔

بطور ماں: بچوں کی تربیت میں ماں کی زبان کا اثر سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ ڈانٹ ڈپٹ اور سختی بچوں کو باغی بنا دیتی ہے جبکہ پیار سے سمجھائے گئے دو جملے ان کی شخصیت کو نکھارتے ہیں۔ وہیں نرمی سے کی گئی گفتگو بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرتی ہے۔

بطور بہو: سسرالی رشتوں میں اکثر غلط فہمیوں کی وجہ سے تنازعات جنم لیتے ہیں۔ یہاں میٹھی زبان، اچھے الفاظ ایک ڈھال کا کام کرتے ہیں۔ بڑوں کو عزت دینا اور چھوٹوں سے شفقت سے بات کرنا تلخیوں کو دورکرکے گھر کے ماحول کو پرسکون اور خوشگوار بناتا ہے۔

پیشہ ورانہ زندگی پر اثرات:

آج کی خاتون گھر سے باہر نکل کر مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہے۔ جیسے ڈاکٹر، ٹیچر، ادیب، انجینئر یا کسی بھی شعبہ میں ملازم۔ اس کی کامیابی کا انحصار اسکے اخلاق پر ہوتا ہے۔ ایک بااخلاق اور خوش گفتار خاتون اپنے ساتھیوں اور ماتحتوں سے بہتر کام لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کام کی جگہ پر تلخ لہجہ ماحول کو بوجھل بنا دیتا ہے جبکہ مسکراہٹ اور نرم زبانی ٹیم ورک کو فروغ دیتی ہے۔ لوگ ایسی خواتین کی عزت کرتے ہیں جو دباؤ کی صورتحال میں بھی اپنے لہجے کی مٹھاس برقرار رکھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: خاتونِ خانہ اور بدلتا معاشرہ: بے لوث خدمات کی داستان

شیریں کلامی کے دیگر فوائد:

آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ کچھ لوگ اپنی بات منوانے کے ماہر ہوتے ہیں۔ ابراہم لنکن انہی میں سے ایک تھے جو دشمنوں کو سخت و تند الفاظ سے نوازے جانے پر لوگوں کو روکتے تھے۔ یہ کوئی جادوئی چھڑی نہیں بلکہ ہماری شائستہ گفتگو اور اچھےالفاظ کا جادو ہوتا ہے۔

دلوں کو جیتنا: سخت دل انسان بھی نرم زبان کے سامنے جھک جاتا ہے۔اس کی عمدہ مثالیں ہمارے اردگرد موجود ہیں۔

اختلافات کا حل: جب دو لوگوں میں جھگڑا ہو تو ایک فریق کا خاموش رہنا یا نرمی سے جواب دینا آگ پر پانی ڈالنے کا کام کرتا ہے۔

خود اعتمادی میں اضافہ: جب آپ دوسروں سے اچھے طریقے سے بات کرتے ہیں تو بدلے میں آپ کو بھی عزت ملتی ہےجو آپ کے اندرونی اطمینان اور اعتماد کو بڑھاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مائیکروویو میں کھانا گرم کرنے کیلئے کون سا کنٹینر استعمال کرنا چاہئے؟

نرم گفتگو کے عملی طریقے:

سوچ سمجھ کر بولیں: آپ کے الفاظ کسی کی دل آزاری کا سبب نہ بنیں۔ لہٰذا ’پہلے تولو پھر منہ سے بولو‘ پر عمل کرنا چاہئے۔

لہجے میں نرمی: بات کرتے وقت اپنی آواز کو دھیما رکھیں۔ چیخ کر بات کرنے سے بات کا اثر ضائع ہوتا رہتا ہے۔

مسکراہٹ: گفتگو کے دوران ہلکی سی مسکراہٹ آپ کے الفاظ میں تاثیر پیدا کر دیتی ہے۔

شکر گزاری: دوسروں کا شکریہ ادا کرنے کی عادت اپنا لیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے لفظ بڑی جادوگری کا کام کرتے ہیں۔

خواتین معاشرہ کا وہ ستون ہیں جن پر آنے والی نسلوں کی تعمیر و تشکیل کا دار و مدار ہے۔ ایک عورت کی زبان سے نکلے ہوئے میٹھے بول محض الفاظ نہیں ہوتے بلکہ محبت، خلوص، احترام اور تہذیب کا آئینہ ہوتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ ایک میٹھا بول دلوں کو جوڑتا ہے، نفرتوں کو مٹاتا اور رشتوں کو مضبوط بناتا ہے۔ اگر ہم اپنی گفتگو میں نرمی، شائستگی اور خوش اخلاقی کو جگہ دیں تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی خوشگوار بن سکتی ہے بلکہ پورا معاشرہ محبت و اخوت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ اپنی زبان کو مٹھاس، خیر خواہی اور حسنِ اخلاق سے آراستہ کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK