Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایک ماں کی پکار.....

Updated: August 06, 2026, 3:45 PM IST | Sabiha Qadri | Mumbai

جب بچہ پیدا ہوتا ہے اس کی پہلی مسکراہٹ سے لے کر اس کے پہلے قدم تک، پہلے لفظ سے لے کر پہلی کامیابی تک، ایک ماں اپنی پوری زندگی اس کے خوابوں کی آبیاری میں گزار دیتی ہے۔

It is natural for a mother to be concerned about the country`s education system. Photo: INN
ملک کے تعلیمی نظام کے تعلق سے ایک ماں کا فکرمند ہونا فطری ہے۔ تصویر: آئی این این

مَیں ایک ماں ہوں۔

میرے لئے دُنیا کی سب سے قیمتی چیز میرے بچے کی مسکراہٹ ہے۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے اس کی پہلی مسکراہٹ سے لے کر اس کے پہلے قدم تک، پہلے لفظ سے لے کر پہلی کامیابی تک، ایک ماں اپنی پوری زندگی اس کے خوابوں کی آبیاری میں گزار دیتی ہے۔ وہ خود جاگتی ہے تاکہ اس بچہ سکون سے سو سکے، وہ خود تکلیف سہتی ہے تاکہ اس کے بچے کی راہ آسان ہو جائے۔

پھر ایک وقت آتا ہے جب وہی بچہ ٹین ایج کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے۔ یہ زندگی کا سب سے حساس، سب سے نازک اور سب سے فیصلہ کن دور ہوتا ہے۔ جسم بدل رہا ہوتا ہے، ذہن بدل رہا ہوتا ہے، جذبات بدل رہے ہوتے ہیں، اور اسی کے ساتھ مستقبل کی فکر بھی اس کے کندھوں پر آ بیٹھتی ہے۔ اس عمر میں بچے کو سب سے زیادہ ضرورت محبت، اعتماد، جذباتی سہارے اور ذہنی سکون کی ہوتی ہے، کیونکہ وہ صرف نصاب نہیں پڑھ رہا ہوتا، بلکہ خود کو سمجھنے اور سنبھالنے کی کوشش بھی کر رہا ہوتا ہے۔ مگر ہمارے نظام نے اسی نازک عمر کو سب سے بڑی آزمائش بنا دیا ہے۔ بارہویں جماعت کے امتحانات، بورڈ کا دباؤ، پھر نیٹ اور جے ای ای جیسے مقابلے.... لاکھوں بچے برسوں تک اپنی نیند، اپنی خوشیاں، اپنی خواہشیں اور اپنا بچپن قربان کر دیتے ہیں۔ ان کے والدین بھی ان کے ساتھ یہ سفر طے کرتے ہیں۔ ہر کامیابی کے پیچھے صرف ایک طالبعلم کی نہیں، ایک پورے خاندان کی قربانیاں ہوتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: کھانا ذائقہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ خوشبو دار کیسے ہو؟

مجھے امتحان کے مشکل ہونے سے کوئی اعتراض نہیں۔ ڈاکٹر بننا آسان بھی نہیں ہونا چاہئے۔ جس پیشے کے ہاتھوں میں انسانوں کی جانیں سونپی جاتی ہیں، وہاں صرف ذہانت نہیں، استقامت، محنت، حوصلہ اور کردار بھی ضروری ہیں۔ لیکن ایک سوال ضرور ہے.... کیا ایک اچھا ڈاکٹر بنانے کیلئے پہلے ایک بچے کو ذہنی طور پر توڑ دینا ضروری ہے؟ ہم کہتے ہیں کہ آنے والے ڈاکٹر مضبوط ہونے چاہئیں۔ یقیناً ہونے چاہئیں۔ مگر مضبوطی اعتماد سے پیدا ہوتی ہے، مسلسل خوف، بے یقینی اور ذہنی دباؤ سے نہیں۔ اگر راستہ ہی مایوسی، اضطراب اور غیر یقینی سے بھر دیا جائے تو کل یہی بچے دوسروں کی زندگیوں میں امید کیسے بانٹیں گے؟

ایک ماں ہونے کے ناطے مجھے سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب میں سنتی ہوں کہ کوئی طالبعلم شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوگیا، کوئی امید کھو بیٹھا، یا کسی نے اپنی زندگی سے مایوسی محسوس کی۔ ایک امتحان کبھی بھی ایک بچے کی زندگی سے بڑا نہیں ہو سکتا۔ اور گزشتہ دنوں.... جنتر منتر کی تصاویر اور ویڈیوز نے دل کو چیر کر رکھ دیا۔

وہ بچے، جنہیں ہم والدین ایک انگلی تک نہیں لگاتے... جنہیں آج کے اسکولوں میں بھی جسمانی سزا دینا ناقابلِ قبول سمجھا جاتا ہے... وہی بچے اپنے حق، اپنی محنت اور ایک شفاف نظام کا مطالبہ کر رہے تھے، اور ان پر لاٹھیاں برس رہی تھیں۔ ایک بچی، جو پہلے ہی امتحانی بحران کے باعث شدید ذہنی صدمے سے گزر چکی تھی، احتجاج میں زخمی ہوگئی۔

ایک باپ، جو اپنے بیٹے کو کھو چکا تھا، انصاف کی امید لے کر آیا، مگر اس کے حصے میں بھی درد ہی آیا۔

یہ مناظر صرف ٹیلی ویژن یا موبائل اسکرین پر چلنے والی خبریں نہیں ہیں.... یہ ہر ماں کے دل پر لگنے والے زخم ہیں۔ آج میرا دل ایک اور سوال کرتا ہے۔ کیا ہمارے بچے صرف اعداد و شمار ہیں؟ یا وہ اس ملک کا مستقبل بھی ہیں؟  میں چاہتی ہوں کہ طلبہ کی آواز کو سنا جائے، ان کے تحفظات کو سنجیدگی سے لیا جائے، اور ایسا امتحانی نظام بنایا جائے جس میں کسی بچے کو اپنی محنت سے زیادہ نظام کی بے ترتیبی سے نہ لڑنا پڑے۔

یہ بھی پڑھئے: کیا دوسروں کو معاف کرنا ایک مشکل کام ہے؟

آخر میں، میں صرف ایک ماں کی حیثیت سے اتنا کہنا چاہتی ہوں... خدارا! ہمارے بچوں کا امتحان ضرور لیجئے، مگر ان کے صبر، ان کے اعصاب اور ان کے خوابوں کا امتحان مت لیجئے۔

قومیں صرف ڈاکٹر، انجینئر اور سائنسدان پیدا کرکے عظیم نہیں بنتیں... قومیں تب عظیم بنتی ہیں جب وہ اپنے بچوں کے خوابوں، ان کی عزت اور ان کی امیدوں کی حفاظت کرنا سیکھ لیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK