آج کے دور میں ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی وسیع پیمانے پر ہورہا ہے اور بچے پچھلے وقتوں کی بہ نسبت زیادہ وقت اسکرین کے سامنے گزار رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: March 19, 2024, 1:39 PM IST | Nikhat Anjum Nazimuddin | Mumbai
آج کے دور میں ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی وسیع پیمانے پر ہورہا ہے اور بچے پچھلے وقتوں کی بہ نسبت زیادہ وقت اسکرین کے سامنے گزار رہے ہیں۔
آج کے دور میں ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی وسیع پیمانے پر ہورہا ہے اور بچے پچھلے وقتوں کی بہ نسبت زیادہ وقت اسکرین کے سامنے گزار رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ٹیکنالوجی تعلیمی اور تفریحی مواقع فراہم کر تی ہے لیکن اسکرین کا زیادہ استعمال بچوں کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت پر برے اثرات مرتب کرتا ہے۔ والدین، خاص طور پر ماؤں کیلئے ضروری ہے کہ وہ بچوں میں صحتمندانہ عادات کو پروان چڑھائیں۔ بچوں میں اسکرین ٹائمنگ کو کم کرنے کیلئے کچھ مفید مشورے اور تجاویز مندرجہ ذیل ہیں:
(۱) واضح حدود مقرر کریں
بچوں کے اسکرین ٹائم کے استعمال کے بارے میں واضح اصول بنائیں۔ اور ان کا پابندی کے ساتھ استعمال اور اہتمام کریں۔ اصولوں کی پیروی کریں۔ روزانہ یا ہفتہ وار اسکرین ٹائمنگ کے استعمال کا حساب رکھیں اور ان حدود کو اپنے بچوں کو بھی بتائیں اور سمجھائیں۔
(۲) اپنی مثال کے ذریعے بچوں کو سکھائیں
بچے عموماً سرپرستوں اور افراد خانہ کے عمل سے سیکھتے ہیں۔ ان کی پیروی کرتے ہیں۔ ہم اپنے الیکٹرانک ڈیوائسیز کو کتنا وقت دیتے ہیں؟ ہمیں اس بات کا بھرپور خیال رکھنا چاہئے۔ اور صحتمند اسکرین ٹائمنگ کی عادات کو اپنانا چاہئے۔ ہمیں اپنے گھر میں ’’اسکرین فری‘‘ اوقات مخصوص کرنا چاہئے۔ ایسے اوقات جس میں تمام لوگ مل کر ساتھ بیٹھیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ اپنی باتیں، خیالات اور واقعات کو سانجھا کریں۔ اس آپسی رشتے مستحکم ہوں گے۔
(۳) بچوں کیلئے مختلف سرگرمیاں فراہم کریں
بچوں کیلئے جلد نتائج دینے والی اور فائدہ مند سرگرمیوں کے مختلف وسائل فراہم کریں۔ ایسی سرگرمیاں جو آف لائن کی جا سکتی ہیں۔ جن کو انجام دینے میں بچوں کو الیکٹرانک ڈیوائسیز کا استعمال نہ کرنا پڑے۔ باہر کھیلنے کی بھرپور ترغیب دیں، تخلیقی اور ماہرانہ سرگرمیاں جیسے کہ تصویر بنانا، کرافٹنگ، کتاب پڑھنا، بورڈ کے کھیل کھیلنا، یا کھیلوں اور جسمانی سرگرمیوں میں شرکت کرنا۔ یہ سرگرمیاں بچوں کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں بہت مددگار ثابت ہوگی۔
(۴) سوشل میڈیا کے بجائے سوشل لائف
آج کل رشتے سوشل میڈیا پر زیادہ نبھائے جارہے ہیں اور حقیقی رشتوں سے بڑے اور بچے سبھی دور ہوتے چلے جارہے ہیں۔ ایسے میں ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو حقیقی رشتوں سے متعارف کروائیں۔ ان سے میل جول بڑھائیں۔ بچوں کو رشتوں کی اہمیت سمجھائیں۔ اپنائیت کا احساس دلائیں۔ خاندانی اور دوستانہ تعلقات کو معنی خیز بنائیں۔ خاندان میں ہونے والی تقریبات میں شریک ہونے کی اپنے بچوں کو ترغیب دی جائے۔ بچوں کیساتھ وقت گزاریں۔ ان تجاویز کے اختیار کرنے سے بچوں کا اسکرین ٹائم بھی بہت کم ہوجائیگا اور زندگی کی خوشگوار حقیقتوں اور رشتوں سے لطف اندوز ہوپائینگے۔
(۵) ’’ٹیک فری‘‘ زون بنائیں
اپنے گھر میں کچھ حصے مخصوص کریں، جیسے کہ بیڈروم یا ڈائنگ ہال، جہاں اسکرینز کا استعمال نہ ہو۔ اس سے بچے اپنے کھانے پینے کے اوقات میں صرف کھانے پینے پر ہی توجہ دیں گے۔ ان کی نیند بھی بھرپور ہوگی۔ صحت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔ ان صحتمندانہ معمولات کی وجہ سے وہ اپنے سبھی کام وقت پر کر پائیں گے۔
(۶) دلچسپ متبادل فراہم کریں
اسکرین سے توجہ ہٹانے کے لئے ہم اپنے بچوں کو متعدد دلچسپ متبادل فراہم کرسکتے ہیں۔ مثلاً تعلیمی کھلونے، پزلز، دستکاری، ضائع اشیاء سے کارآمد اشیاء تیار کرنے والی چیزیں، مسئلہ حل کی صلاحیت، خیالاتی تجاویز کو مدد فراہم کرنے والی باتیں، کامکس، اور دیگر غیر نصابی سرگرمیاں جن میں بچوں کی دلچسپی کا سارا سامان موجود ہو۔ اپنے بچے کی دلچسپی اور استعداد کو سمجھ کر آپ اسے ان ساری سرگرمیوں میں مشغول رکھ سکتے ہیں۔
(۷) معیاری مواد کا انتخاب
اسکرین پر بے شمار چیزیں دیکھنے اور پڑھنے کے لئے موجود ہیں۔ جن میں کچھ بچوں کے اذہان پر مثبت تو کچھ بہت منفی اثر چھوڑ سکتی ہیں۔ اس لئے ہمارے بچے اسکرین پر کیا دیکھ رہے ہیں؟ اور اس سے کیا حاصل کررہے ہیں؟ اس کے بارے میں ہمیشہ فکرمند رہنا چاہئے اور یہ یقینی بنانا چاہئے کہ دیکھا جانے والا مواد بچوں کی عمر کے مطابق ہو۔ سوشل میڈیا اور آن لائن سرگرمیوں کے اصول مقرر کریں کہ کون سی قسم کا مواد اور سرگرمیاں قابل قبول ہیں اور کون سی نہیں۔ تحقیقاتی سوچ اور میڈیا لٹریسی کی صلاحیتوں کی تربیت دیں۔
(۸) جسمانی سرگرمیاں انجام دینے کی ترغیب
روزانہ بچوں کو ورزش اور جسمانی سرگرمیاں انجام دینے کی ترغیب دیں۔ اسکرین ٹائم کو محدود کریں اور باہر کھیلے جانے والے کھیل جو حرکت اور جسمانی صحت میں اضافہ کرتے ہیں ایسے کھیلوں میں شرکت کرنے کی بھرپور ترغیب دیں۔
(۹) ماحول اور حالات سے مطابقت کرنا سکھائیں
زمانہ ترقی کر رہا ہے اس لئے ہرانسان کو ٹیکنالوجی سے خود کو جوڑنا ہوگا۔ آن لائن متعدد ایپلی کیشنز فائدہ مند اور فعال بھی ہیں۔ ان کا استعمال کرکے ہمارے بچے بہت سی نئی اور مشکل چیزوں اور تصورات سے استفادہ کرسکتے ہیں لیکن کوشش کریں کہ اسکرین ٹائم اور آف لائن سرگرمیوں کے درمیان ایک توازن بنایا جائے۔
(۱۰) نگرانی بھی ضروری ہے
اپنے بچوں کی روزانہ کی اسکرین ٹائمنگ اور عادتوں کا بار بار مشاہدہ کریں اور ضرورت کے مطابق اس میں رد و بدل کریں۔ ان کے اسکرین ٹائم کے اثرات کا جائزہ لیں، جیسے کہ بچوں کے رویے، مزاج، اور عمومی صحت پر اثرات۔ اگر ان باتوں میں فرق محسوس ہو تو ا کے مطابق تبدیلیاں کریں۔ اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کریں۔ ان سے نرمی سے پیش آئیں۔ انہیں زیادہ اسکرین ٹائمنگ کے نقصانات سے آگاہ کریں۔ اسکرین ٹائمنگ کی حدود کا تعین کریں۔
بچوں کیلئے اسکرین ٹائم کو کم کرنا ایک سرگرم و بہتر زندگی کی جانب رہنمائی کرنے والا عمل ہے۔ جو بچوں کے ترقیاتی، جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ واضح حدود قائم کرنا، مختلف سرگرمیاں فراہم کرنا، حقیقی رشتوں کو بڑھانا، اور صحتمندانہ عادتوں کو فروغ دینا سرپرستوں اور نگراں کی ذمہ داری ہے۔ اپنے بچوں اور افراد خانہ کیلئے متوازن زندگی کا انتخاب کریں۔