Inquilab Logo Happiest Places to Work

نفسیاتی مسائل میں اُلجھ کر اپنوں سے علاحدہ رہنا عام ہو چکا ہے

Updated: May 19, 2026, 3:36 PM IST | Saba Naaz Mohammad Ansari | Mumbai

اپنے بچوں کو دوسروں کو معاف کرنا اور معافی مانگنا سکھائیں کیونکہ یہ حضورؐ کی سنت ہے۔ اچھے کاموں پر اپنے بچوں کی تعریف کریں۔ اچھی گفتگو بھی نفسیاتی مسائل سے نکلنے کا اہم ذریعہ ہے۔

Comparing one child to another also puts psychological pressure on them. Photo: INN
ایک بچے کا دوسرے بچے سے موازنہ کرنا بھی اس پر نفسیاتی دباؤ ڈالتا ہے۔ تصویر: آئی این این

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ موجودہ دور سائنس، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی برتری کا دور ہے ۔ اس تبدیلی نے جہاں علوم و فنون کی شاخوں کو متاثر کیا ہے وہیں انسانی سوچ و فکر اور روزمرہ کی زندگیوں پر بھی کافی اثر ڈالاہے اور انسانی نفسیات میں بھی کافی تبدیلیاں لائی ہیں جس کی وجہ سے بچوں اور نو عمروں میں نفسیاتی مسائل بڑھتے ہی جا رہے ہیں جیسے:

احساس کمتری : یہ جذبہ بہت تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے، ایک تو حسد کی وجہ سے اور دوسرے دوسروں سے برتری کی کوشش میں اپنے ساتھیوں کے عیش دیکھ کر احساس کمتری کا شکار ہونا ۔ ذہین اور ہوشیار بچوں کے رزلٹ دیکھ کر اپنے آپ کو کمتر سمجھنا، ایسے لوگوں میں کسی کا سامنا کرنے کی جرأت نہیں ہوتی، محفل میں دل گھبراتا ہے، لوگوں سے نفرت ہو جاتی ہے اور کبھی کبھی یہ موت کی وجہ بھی بن جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نفسیاتی مسائل کی شناخت اہم اور ان کا بروقت حل ضروری

 قوت ارادی کی کمی اوروالدین کا دباؤ: کچھ والدین اپنے بچوں پر ان کی صلاحیت سے زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں ۔ ان سے بےجا امیدیں باندھنا ، خاطر خواہ رزلٹ نہ آنے پر تنقید کرنا ، اپنے بچوں کا دو سروں سے موازنہ کرنا یہ باتیں بھی نفسیاتی مسائل کو بڑھاو ا دیتی ہیں کیونکہ اس سے بچوں اور نو عمروں میں قوت ارادی کی کمی پیدا ہوتی ہے ۔ اُنھیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے ۔

ڈپریشن : بے جا خواہشات کا پورا نہ ہونا بھی نفسیاتی دباؤ کو بڑھاوا دیتا ہے۔ نوجوان بچے جو ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں، وہ ڈپریشن کا شکار ہیں ۔نا امیدی ، خالی پن کا احساس اور بے بسی ڈپریشن کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ ڈپریشن سے خیالات ، جذبات اور طرز عمل متاثر ہوتا ہے ۔ اس کا شمار سنگین ذہنی عارضہ میں ہوتا ہے۔ حد سے زیادہ ڈپریشن انسان کے اندر سے جینے کا حوصلہ چھین لیتا ہےخود اعتمادی ختم ہو جاتی ہے۔

زیادہ غصہ آنا اور تحمل کی کمی: آج کی نسل جسمانی طور پر لاغرو ذہنی طور پر منتشر ہے جن کی تربیت میں سوشل میڈیا کا زیادہ حصہ ہوتا ہے اور گھر کے بڑے بزرگوں کا کم ۔ ہر وقت موبائل فون، انسٹا اور فیس بُک سے جڑے رہنا نفسیاتی مسائل کی جڑ بن چکا ہے ۔ آنکھوں میں کمزوری جسم میں طاقت کی کمی رشتوں میں برداشت کی عدم موجودگی ، چھوٹا سا اختلاف ہوتو فوراً بلاک ، اَن فالو اور رشتہ ختم !انھیں سب کچھ فوری چاہئے ۔ان کا صبر و تحمل صفر ہے۔

تنہائی پسندی ، خود کو خواہ مخواہ تکلیف دنیا ، نیند اور بھو ک میں کمی : نفسیاتی مسائل میں الجھ کر لوگوں سے دور ہونا، محفلوں اور خاندان سے علاحدہ رہنا بالکل عام ہو چکا ہے۔ اور یہی تنہائی ذہنی اذیت کا سبب بنتی ہے جو اپنے آپ کو تکلیف دینے سے شروع ہوتی ہے اور مختلف برائیوں میں مبتلا کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟

مایوسی، خوف ،و ہم: گھنٹوں ویڈیو گیم کھیلنا یہ بھی ذہنی دباؤ اور نفسیاتی الجھن کا سبب ہے ۔رفتہ رفتہ ایسے بچے مایوسی اور وہم کا شکار ہو جاتے ہیں اور مختلف قسم کے خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں جیسےغربت کا خوف، منزل تک نہ پہنچنے کا خوف، محبت میں ناکامی کا خوف ، آزادی کے چھن جانے کا خوف بے روز گاری کا خوف وغیرہ ۔

 خود پسندی، نکتہ چینی ، دوسروں پر تنقید، گپ بازی

نفسیاتی دباؤ کا شکار لوگ اکثر خودپسند ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی کمیوں کو چھپانے کیلئے غرور کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں ۔ اپنی ذہنی تسکین کیلئے دوسروں پر تنقید  اور نکتہ چینی کرنا ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ جھوٹ بول کر وہ اپنی بے جا خواہشات کو پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

حل کیا ہے؟: مذکورہ مسائل آج کی نسل میں عام ہیں۔  آج ضرورت ہے ہماری نسل کو اِن مسائل سے نجات دلانے کی اور اِن مسائل کا بہترین حل تلاش کرنے کی۔آئیے، اس کا حل اسلام کی روشنی میں تلاش کرتے ہیں۔

تاجدار مدینہ ﷺ نے جو تعلیمات بتائی ہیں ان پر عمل کر کے دنیا نفسیاتی مسائل سے نکل سکتی ہے۔ اسلئے ہمیں واپس مذہب کی طرف چلنا ہوگا ۔ اسلام میں مایوسی کفر ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔‘‘  (الزمر: ۵۳) ۔ آپؐ نے فرمایا : ’’جو آدمی تھوڑی روزی پر راضی ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے تھوڑے عمل پر راضی ہو جاتا ہے۔‘‘(بیہقی )  نبیؐ کا ارشاد ہے: ’’سیدھے سادے رہو، میانہ روی اختیار کرو اورہشاش بشاش ہو۔‘‘ (مشکوٰۃ)۔اسی روشنی میں آیئے کچھ حل تلاش کریں۔

*دماغ کو فریش رکھیں۔ *اپنا مقابلہ دوسروں سے نہ کریں ۔ *کامیاب لوگوں کی عادتیں اپنائیں ۔ *اپنا یقیں محکم رکھیں ۔ *اپنا مقصد طے کریں اور اس کے لئے جہد مسلسل کریں۔ *قناعت پسندی اپنائیں با ہمت اور باکردار بنیں۔ *با قاعدگی اختیار کریں، کامیابی پر یقین رکھیں ۔ *مشکلات کی توقع رکھیئے۔ حقیقت کو سامنے رکھئے۔

لائف اسٹائل میں تبدیلی ضروری ہے، دوستوں میں بیٹھیں، جلدی سوئیں،جلدی اٹھیں ، نماز کی پا بندی کریں ، قرآن پڑھیں یہ سب باتیں بہت حد تک نفسیاتی دباؤ سے چھٹکارا دلاسکتی ہیں۔ خود اعتماد رہیں  اور ہر حال میں پُر امیدر ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: تربیت جتنی اچھی ہوگی، طلبہ کی شخصیت اتنا نکھرے گی

والدین واساتذہ کی ذمہ داریاں: نفسیاتی مسائل کا شکار بچوں کو والدین کی جانب سے خصوصی توجہ اور سہارے کی ضرورت ہے۔ بچے کی تذلیل نہ کرتے ہوئے ان کی عزت نفس کا احترام کریں، کبھی غلط عادت کا طعنہ نہ دیں، اپنے بچوں کو خود بھی وقت دیں اور ان کی ذہنی ، جسمانی صلاحیت سے زیادہ ان سے توقعات نہ رکھیں۔ اپنے بچوں کو دوسروں کو معاف کرنا اور معافی مانگنا سکھائیں کیونکہ یہ حضورؐ کی سنت ہے ۔ اچھے کاموں پر اپنے بچوں کی تعریف کریں۔ انہیں سینے سے لگائیں، ان کے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلیں اچھی گفتگو خود بھی کریں اور بچوں کو بھی سکھائیں اچھی گفتگو بھی نفسیاتی مسائل سے نکلنےکا اہم ذریعہ ہے ۔والدین کے ساتھ اساتذہ کی بھی بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے نفسیائی مسائل کے شکار بچوںکو زندگی کی طرف واپس لائیں ان میں خوش اخلاقی کا جذبہ پروان چڑھائیں، زندہ دلی سے زندگی جینے کا حوصلہ پیدا کریں۔ انہیں بتائیں کہ’’ اس دنیا میں کوئی اگر آپ کو کامیاب کر سکتا ہے تو وہ خود آپ ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK