والدین، خاص طور پر ماں کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ بچے کے ہاتھ میں کتاب دینے سے پہلے اس کے دل میں کتاب کی جگہ بنانا ضروری ہے۔ اگر گھر میں ماں باپ کتاب کو اہمیت دیں گے تو بچوں میں بھی کتابوں کا احترام پیدا ہوگا، اگر گھر میں کتاب کیلئے جگہ ہوگی تو بچے کے ذہن میں بھی علم کیلئے جگہ پیدا ہوگی۔
بچوں کی کتابوں سے دوستی کروانے کیلئے انہیں کہانیاں پڑھ کر سنائیں۔ تصویر: آئی این این
موجودہ دور کو اگر ٹیکنالوجی کا دور کہا جائے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ موبائل فون، ٹیبلٹ، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، ویڈیو گیمز اور سوشل میڈیا نے ہماری زندگی کو پہلے سے کہیں زیادہ تیز، آسان اور رنگین بنا دیا ہے۔ چند لمحوں میں دنیا بھر کی معلومات ہماری انگلیوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ لیکن اسی سہولت کے ساتھ ایک ایسا مسئلہ بھی ہمارے سامنے کھڑا ہوگیا ہے جسے نظر انداز کرنا آنے والی نسلوں کیلئے نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے، اور وہ مسئلہ ہے بچوں کا کتابوں سے دور ہوتے جانا۔
یہ بھی پڑھئے: نوعمر بیٹیوں کی تربیت میں اِن باتوں کو ملحوظ رکھیں
ایک وقت تھا جب گھر میں کتابوں کی الماری ہونا خوشحالی سے زیادہ علمی ذوق کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ بچے کہانیوں کی کتابیں لے کر بیٹھتے، رسالوں کے صفحات پلٹتے، والدین سے کہانیاں سنتے اور کتابوں کی دُنیا میں گھنٹوں کھوئے رہتے تھے۔ آج صورتحال کچھ مختلف ہے۔ بچے کتاب کے چند صفحات پڑھنے سے پہلے ہی موبائل کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں کیونکہ اسکرین پر موجود رنگ، آواز، حرکت اور فوری تفریح ان کے لئے زیادہ پرکشش محسوس ہوتی ہے۔ لیکن ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ موبائل بچے کو مصروف رکھ سکتا ہے، جبکہ کتاب بچے کو تعمیر کرتی ہے۔ موبائل اسے معلومات دے سکتا ہے، مگر کتاب اسے سوچنے کا ہنر سکھاتی ہے۔ موبائل اسے دنیا دکھا سکتا ہے، مگر کتاب اس کے اندر ایک نئی دنیا آباد کرسکتی ہے۔ اسی لئے موجودہ دور میں بچوں کو کتابوں سے جوڑنا صرف ایک تعلیمی ضرورت نہیں بلکہ ایک معاشرتی ذمہ داری بھی ہے:
کتاب صرف کاغذ کے چند صفحات نہیں:
کتاب کو اگر ہم صرف امتحان پاس کرنے کا ذریعہ سمجھیں گے تو بچے کبھی اس سے حقیقی محبت نہیں کرسکیں گے۔ کتاب دراصل ایک خاموش استاد، ایک مخلص دوست اور ایک ایسا سفر ہے جس میں بچہ اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے دنیا کے مختلف زمانوں، تہذیبوں، قوموں اور خیالات سے ملاقات کرسکتا ہے۔ ایک اچھی کہانی بچے کے اندر ہمدردی پیدا کرسکتی ہے، ایک سائنسی کتاب اس کے ذہن میں سوال پیدا کرسکتی ہے، تاریخ کی کتاب اسے ماضی سے جوڑ سکتی ہے، سوانح عمری اسے جدوجہد کا سبق دے سکتی ہے اور ادب کی کتاب اس کے احساسات کو الفاظ عطا کرسکتی ہے۔ اس لئے بچوں کو کتابوں سے دوستی کرانے کا پہلا قدم یہ ہے کہ ہم خود کتاب کی قدر کرنا سیکھیں اور بچے کو یہ احساس دلائیں کہ کتاب پڑھنا صرف پڑھائی نہیں بلکہ زندگی کو سمجھنے کا ایک خوبصورت طریقہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: برائٹ لیمن یلو: آؤٹنگ کے لئے بہترین انتخاب
سب سے پہلی درسگاہ گھر ہے:
بچے کی شخصیت کی بنیاد اسکول سے پہلے گھر میں پڑتی ہے۔ وہ جو کچھ دیکھتا ہے، اکثر وہی سیکھتا ہے۔ اگر والدین بچے کو ہر وقت موبائل ہاتھ میں دے کر خود بھی موبائل میں مصروف رہیں اور پھر بچے سے کہیں کہ ’’تم کتاب پڑھو‘‘ تو یہ نصیحت زیادہ اثر نہیں کرے گی۔ بچے کو کتاب سے محبت سکھانے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ ماں اور باپ خود کتابوں کے شوقین ہوں۔ اگر بچہ اپنی ماں کو فرصت کے وقت کتاب پڑھتے دیکھے گا، اگر وہ اپنے والد کو اخبار، کتاب یا کسی مفید مضمون کا مطالعہ کرتے دیکھے گا، اگر گھر میں کبھی کتاب کے کسی کردار یا واقعے پر گفتگو ہوگی تو بچے کے ذہن میں کتاب ایک قدرتی اور خوبصورت چیز بن جائے گی۔
والدین کو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ ’’جاؤ کتاب پڑھو‘‘ بلکہ کبھی خود بچے کے پاس بیٹھ کر کہنا چاہئے: ’’آؤ، آج ہم دونوں مل کر ایک کہانی پڑھتے ہیں۔‘‘ یہ ایک چھوٹا سا جملہ بچے کے لئے کتاب کو فرض سے محبت میں تبدیل کرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تکیہ خریدتے وقت دھیان رہے کہ اس سے گردن کو آرام دہ سہارا ملے
گھر میں بُک ریک کیوں ضروری ہے؟
بچوں کو کتابوں سے جوڑنے کیلئے گھر میں ایک بُک ریک یا کتابوں کی چھوٹی سی الماری ضرور ہونی چاہئے۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ بہت مہنگی یا بڑی ہو۔ ایک سادہ سا ریک بھی کافی ہے، لیکن اس میں کتابیں ایسی جگہ رکھی جائیں جہاں بچہ انہیں آسانی سے دیکھ اور خود اٹھا سکے۔ اگر کتابیں بند الماری کے اندر، اونچی جگہ یا ایسی جگہ رکھی ہوں جہاں بچے کی پہنچ نہ ہو تو وہ کتاب بچے کی زندگی کا حصہ کیسے بنے گی؟ گھر کا ایک چھوٹا سا کونا صرف کتابوں کیلئے مخصوص کیا جاسکتا ہے۔ وہاں بچوں کی کہانیاں، تصویری کتابیں، معلوماتی کتابیں، سائنسی کتابیں، اخلاقی کہانیاں اور عمر کے مطابق دوسری دلچسپ کتابیں رکھی جائیں۔
موجودہ دور میں بچوں کو کتابوں سے جوڑنا یقیناً ایک چیلنج ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ اس کیلئے ہمیں بچوں سے صرف یہ کہنا چھوڑنا ہوگا کہ ’’کتاب پڑھو‘‘ اور خود ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں کتاب نظر بھی آئے، پڑھی بھی جائے اور پسند بھی کی جائے۔ آئیے اپنے گھروں میں کتابوں کیلئے ایک چھوٹی سی جگہ بنائیں، اپنے وقت میں مطالعے کیلئے چند لمحے نکالیں، بچوں کے ساتھ بیٹھ کر صفحات پلٹیں اور انہیں یہ احساس دیں کہ کتاب کوئی مشکل سبق نہیں، بلکہ ایک ایسا دوست ہے جو ہر عمر میں ہمارے ساتھ چلتا ہے۔ کیونکہ جس گھر میں کتابیں صرف رکھی نہیں جاتیں بلکہ پڑھی جاتی ہیں، وہاں نسلیں صرف بڑی نہیں ہوتیں، وہ سمجھ دار، با شعور اور صاحبِ فکر بھی بنتی ہیں۔