ہر خاتون کو چاہئے کہ وہ ان باتوں کو دل پر نہ لے جن کا مقصد صرف آپ کو نیچا دکھانا ہے۔ آپ کی خاموشی، بردباری اور محنت ہی آپ کا اصل جواب ہے۔ جتنا وہ آپ کو گرانا چاہتے ہیں، اتنا ہی آپ اپنی سوچ، تعلیم، کام، اور عزت سے اوپر اٹھیں۔ صرف اور صرف اپنے کام پر توجہ دیں، ایک دن یہی کام آپ کو بلندی تک پہنچائے گا۔
اگر کوئی آپ پر تنقید کرتا ہے تو اس پر فوراً ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے اپنے کام پر توجہ دینا چاہئے۔ تصویر: آئی این این
زندگی کے سفر میں خواتین کو اکثر مختلف قسم کی توہین، تحقیر اور تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی ان کے لباس پر تنقید، کبھی ان کی قابلیت پر سوال، اور کبھی محض عورت ہونے کی بنا پر ان کی کردار کشی۔ لیکن تاریخ اور موجودہ دور کی بے شمار خواتین نے ثابت کیا ہے کہ توہین کا جواب زبان سے نہیں، بلکہ خاموشی اور مسلسل کامیابیوں سے دیا جاتا ہے۔ یہ مضمون خاص طور پر خواتین کے لئے ایک رہنمائی ہے کہ وہ کس طرح توہین کرنے والوں کو اپنی بلند حوصلگی، خاموشی اور عظیم کامیابیوں سے حیران کرسکتی ہیں۔
اقتباس
’’خاموشی بعض اوقات سب سے بلند صدا ہوتی ہے۔‘‘ ایلزبیتھ بارٹلیٹ
توہین کا نفسیاتی پہلو
توہین دراصل ایک نفسیاتی حربہ ہوتا ہے۔ توہین کرنے والا یہ چاہتا ہے کہ آپ مشتعل ہو جائیں، جذباتی رد عمل ظاہر کریں، اور وہ آپ کے اس رد عمل کا تماشا بنا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین نفسیات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جذباتی پختگی خاموش رہنے میں ہے، نہ کہ فوراً جواب دینے میں۔
’’تمہاری خاموشی تمہاری طاقت ہے، اس سے زیادہ دل دہلا دینے والی آواز اور کوئی نہیں۔‘‘ نامعلوم
قرآنی حوالہ
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: (ترجمہ) اور رحمان کے (سچے) بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں، اور جب جاہل لوگ ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں: سلام ہو۔ (الفرقان: ۶۳) یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جاہلوں کی بات کا جواب خاموشی یا نرمی سے دینا ہی عزت کا راستہ ہے۔
احادیث کی روشنی میں
نبی کریمﷺ نے فرمایا: (ترجمہ) جس نے خاموشی اختیار کی، وہ نجات پا گیا۔ (ترمذی، حدیث: ۲۵۰۱)
دنیاوی مثالیں
کامیاب خواتین جنہوں نے خاموشی اور حوصلے سے جواب دیا:
کلپنا چاؤلہ: ہندوستان کی پہلی خاتون خلا باز، جنہیں کئی بار ان کے خوابوں کے لئے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر انہوں نے کسی کو جواب دینے کے بجائے خلا کی بلندیوں سے دنیا کو جواب دیا۔
میری کوم: ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والی اس باکسر کو ’عورت ہو کر باکسنگ؟‘ جیسے جملے سننے پڑے۔ لیکن اس نے میڈلز سے جواب دیا، باتوں سے نہیں۔
کرن بیدی: ہندوستان کی پہلی خاتون آئی پی ایس افسر، جنہیں ان کے سخت فیصلوں پر توہین آمیز تبصرے سہنے پڑے، مگر انہوں نے قانون اور خدمت کے ذریعے تاریخ رقم کی۔
نرگس دت: اداکاری اور بعد ازاں راجیہ سبھا کی رکن، ایک باوقار مسلم خاتون جنہوں نے فلمی دنیا میں عزت کمائی اور سماجی خدمات انجام دیں۔
ڈاکٹر تسنیم فاطمہ نقوی: ایک ممتاز مسلمان ماہر تعلیم، جنہوں نے تمام تعصبات کے باوجود اردو ادب میں انمٹ نقوش چھوڑے، ان کی خاموش مزاحمت ان کی علمی خدمات سے جھلکتی ہے۔
رابعہ بشریٰ: حیدرآباد کی مشہور خاتون عالمہ، جنہوں نے اسلامی تعلیمات کو جدید خواتین تک پہنچایا اور ہر طعن و تشنیع کا جواب اپنے علم و فہم سے دیا۔
ادبی اقتباسات
ز ’’جو لوگ آپ کی توہین کرتے ہیں، وہ آپ کی توجہ چاہتے ہیں، انہیں یہ توجہ مت دیجئے، بلکہ اپنی بلندیوں سے ان کی سوچ کا جواب دیجئے۔‘‘ ڈاکٹر عائشہ سید
ز ’’توہین کا جواب اگر الفاظ سے دیا جائے تو جھگڑا بڑھتا ہے، اگر خاموشی سے دیا جائے تو عزت بڑھتی ہے۔‘‘ خلیل جبران
خواتین کے لئے پیغام
ہر خاتون کو چاہئے کہ وہ ان باتوں کو دل پر نہ لے جن کا مقصد صرف آپ کو نیچا دکھانا ہے۔ آپ کی خاموشی، بردباری اور محنت ہی آپ کا اصل جواب ہے۔ جتنا وہ آپ کو گرانا چاہتے ہیں، اتنا ہی آپ اپنی سوچ، تعلیم، کام، اور عزت سے اوپر اٹھیں۔ صرف اور صرف اپنے کام پر توجہ دیں، ایک دن یہی کام آپ کو بلندی تک پہنچائے گا۔
توہین کا جواب دینا آسان ہے، مگر اس کا اثر وقتی ہوتا ہے۔ جبکہ خاموشی اور مسلسل کامیابی کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔ خواتین کو چاہئے کہ وہ اپنی توانائی بے کار کی توجہ اور رد عمل میں نہ صرف کریں، بلکہ اسے اپنی کامیابیوں میں صرف کریں۔ کیونکہ جب آپ کامیاب ہوتی ہیں، تو خود بخود دنیا آپ کو سنجیدگی سے لینا شروع کر دیتی ہے۔ اور یہی توہین کا سب سے باوقار، بامعنی، اور دیرپا جواب ہے۔
اللہ تعالیٰ ہر خاتون کو عزت، حوصلہ، حکمت، اور استقامت عطا فرمائے تاکہ وہ ہر طرح کی تحقیر کا جواب علم، صبر، اور خاموشی کے ذریعے دے کر دنیا میں مقام حاصل کر سکے (آمین)۔n