Inquilab Logo Happiest Places to Work

چین: LineShine دنیا کا تیز ترین سپر کمپیوٹر بن گیا، امریکہ پہلی پوزیشن سے محروم

Updated: June 25, 2026, 5:05 PM IST | Beijing

چین کے شینزین میں قائم LineShine سپر کمپیوٹر نے دنیا کے طاقتور ترین سپر کمپیوٹرز کی TOP500 درجہ بندی میں امریکی El Capitan کو پیچھے چھوڑ کر پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ ۲۰۱۷ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی چینی سپر کمپیوٹر نے عالمی فہرست میں سرفہرست مقام حاصل کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق سپر کمپیوٹرز مصنوعی ذہانت، موسمیاتی پیش گوئی، ادویات کی تحقیق اور دیگر پیچیدہ سائنسی منصوبوں میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

چین کے شہر شینزین میں قائم LineShine سپر کمپیوٹر دنیا کا سب سے طاقتور سپر کمپیوٹر بن گیا ہے۔ منگل کو جاری ہونے والی TOP500 کی تازہ عالمی درجہ بندی میں اس نے امریکی سپر کمپیوٹر El Capitan کو پیچھے چھوڑ کر پہلی پوزیشن حاصل کر لی۔ یہ ۲۰۱۷ء کے بعد پہلا موقع ہے کہ کسی چینی سپر کمپیوٹر نے دنیا کی اس باوقار فہرست میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے، جسے اکثر کسی ملک کی تکنیکی اور سائنسی صلاحیت کا اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ پہلی پوزیشن چین نے حاصل کی، تاہم دنیا کے ٹاپ ۱۰؍  سپر کمپیوٹرز میں چار یورپی سپر کمپیوٹرز بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: حکومت ہوائی جہاز ایندھن کے دام پر سے سرچارج ہٹانے کیلئے ایئر لائنز سے بات کرے گی

سپر کمپیوٹرز ایسے انتہائی طاقتور کمپیوٹر ہوتے ہیں جو پیچیدہ سائنسی حسابات انتہائی تیزی سے انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا استعمال ادویات کی دریافت، موسمیاتی اور موسم کی پیش گوئی، بلیک ہولز کی ماڈلنگ، سائنسی تحقیق اور بڑے پیمانے پر ڈیٹا کے تجزیے میں کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سپر کمپیوٹرز کا ایک اہم استعمال مصنوعی ذہانت (AI) کے جدید ماڈلز کی تیاری اور تربیت بھی ہے۔
TOP500 منصوبے سے وابستہ سائنس دانوں کے مطابق چین کے نیشنل سپر کمپیوٹنگ سینٹر میں نصب LineShine نے 2.198 Exaflops کی رفتار حاصل کی، یعنی یہ ایک سیکنڈ میں ۲؍ کوئنٹلین (2 Quintillion) سے زیادہ حسابات انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکہ کا El Capitan، جو کیلیفورنیا میں واقع Lawrence Livermore National Laboratory میں نصب ہے، اب دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ اس کے بعد ٹینیسی اور الینوائے کی قومی لیبارٹریوں میں موجود دو دیگر امریکی سپر کمپیوٹرز کا نمبر آتا ہے۔
یہ پانچوں دنیا کے واحد عوامی طور پر تصدیق شدہ Exascale سپر کمپیوٹرز ہیں۔ اگرچہ Exascale کا درجہ انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ بنیادی طور پر اس رفتار کی پیمائش ہے کہ کوئی سپر کمپیوٹر ایک سیکنڈ میں کتنے آپریشن انجام دے سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اڈانی گروپ اب نیوکلیائی توانائی کے شعبہ میں بھی قدم رکھے گا

LineShine کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ دیگر جدید سپر کمپیوٹرز کے برعکس مکمل طور پر روایتی سی پی یو پر چلتا ہے، جبکہ آج کل زیادہ تر اعلیٰ کارکردگی والے کمپیوٹر جی پی یو (گرافکس پروسیسنگ یونٹس) استعمال کرتے ہیں، جو خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے لیے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔ ٹاپ ۵۰۰؍ کے مطابق LineShine کو چلانے کے لیے تقریباً ۲ء۴۲؍  میگاواٹ بجلی درکار ہوتی ہے۔
دریں اثنا، چین کے وزیر اعظم لی کیانگ نے بدھ کو ملک کی تیز رفتار تکنیکی ترقی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ چین کی پیش رفت دنیا کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ایک موقع ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین کی ہائی ٹیک صنعتوں کی ترقی کی بنیادی وجہ صرف ریاستی سبسڈی نہیں ہے، جبکہ مغربی ممالک مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت، الیکٹرک گاڑیوں اور دیگر جدید صنعتوں میں چین کی سرکاری معاونت اسے غیر منصفانہ مسابقتی برتری فراہم کرتی ہے۔
لی کیانگ نے یہ ریمارکس ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس ’’سمر ڈیووس‘‘ کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے دیے، جو اس ہفتے چین کے ساحلی شہر ڈالیان میں منعقد ہو رہا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ چین کی تکنیکی ترقی کے حوالے سے دنیا میں خدشات بڑھ رہے ہیں اور بعض حلقے اسے ’’China Shock 2.0‘‘ قرار دے رہے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک چین کی ہائی ٹیک ترقی ترقی یافتہ معیشتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہی ہے۔ تاہم لی کیانگ نے کہا کہ اسے ’’China Opportunity 2.0‘‘ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’عالمی ترقی کے نقطۂ نظر سے ‘China Opportunity 2.0’ کا مطلب جدید ٹیکنالوجیز تک وسیع تر رسائی اور ان کے فوائد کی زیادہ منصفانہ تقسیم ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: میٹا نے ۲۹۹؍ ڈالر کے اے آئی اسمارٹ گلاسیز متعارف کروائے

ٹاپ ۵۰۰؍ کی تازہ فہرست کے مطابق ٹاپ 10 میں مشینوں والے دیگر ممالک میں اٹلی، سوئٹزرلینڈ اور جاپان بھی شامل ہیں، جبکہ ٹاپ ۲۰؍ میں اسپین، فن لینڈ، نیدرلینڈز اور برطانیہ کے سپر کمپیوٹرز بھی موجود ہیں۔ دوسری جانب گزشتہ سال یورپی یونین نے تقریباً ۲۰؍ ارب یورو کی لاگت سے AI Gigafactories قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، جن میں سپر کمپیوٹرز کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی اگلی نسل کے ماڈلز تیار کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کا مقصد سپر کمپیوٹنگ مراکز، جامعات اور کاروباری اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK