Inquilab Logo Happiest Places to Work

بچوں کا بہت زیادہ موبائل فون دیکھنا، ذمہ دار کون؟

Updated: August 26, 2025, 2:02 PM IST | Sana Waqar | Mumbai

ہمارے یہاں بچوں کو بہلانے کیلئے، مصروف رکھنے کیلئے، رونا بند کرنے کیلئے یا کھانا کھلانے کیلئے اسمارٹ فون دیا جاتا ہے۔ اور اگر بچہ فون کی ضد کرے تو اس رویہ کو بھی معمولی سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ مسئلہ ہم سب کی توجہ چاہتا ہے۔ خاص طور پر ماؤں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ آلہ بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کیلئے نقصاندہ ہے۔

Don`t make the mistake of giving children mobile phones at an early age. Photo: INN
بچوں کو کم عمری میں موبائل فون دینے کی غلطی نہ کریں۔ تصویر: آئی این این

ایک سرپرست کی حیثیت سے آپ اپنے بچے کے پہلے اور ایسے استاد ہیں جن کا نعم البدل کوئی نہیں۔ بچے گھر میں رہتے ہوئے اتنا سیکھ لیتے ہیں جتنا اسکول میں بھی نہیں۔ اس عمر میں بچے کس طرح پرورش پاتے ہیں، اس کا اثر ان کی پوری زندگی پر پڑتا ہے۔ جس لمحے آپ کا بچہ پیداہوتا ہے اسی لمحہ آپ اس کے استاد بن جاتے ہیں۔ والدین بچے کے سب سے زیادہ بااثر اور پہلے رہبر بن جاتے ہیں اور ماں کا کردار زیادہ اہم ہوتا ہے۔
 آج کل کے گھرانوں میں نہ والد کی چلتی ہے اور نہ والدہ کی۔ چلتی ہے تو صرف ان آلات ہی کی چلتی ہے (آلات سے مراد گجٹ، اسمارٹ فون، کمپیوٹر، ٹیبلٹ اور اس قبیل کے آلات ہیں۔) ایک چیز جو شوق کی طرح شروع ہوئی تھی، اب ایک عادت بن چکی ہے۔
اسمارٹ فون استعمال کرنے کے نقصانات
 اسمارٹ فون کا ضرورت سے زیادہ استعمال توجہ کے دورانیے ، زبان کی نشوونما اور سماجی، جذباتی مہارتوں کو متاثر کرکے بچے کی علمی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
 یہ نیند میں خلل کا باعث بھی بن سکتا ہے جو علمی افعال کو مزید خراب کرتا ہے۔
 یہ تنقیدی سوچ مسئلہ حل کرنے اور تخلیقی صلاحیتوں کی نشوونما میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
 ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم، خاص طور پر بارہ سال کی عمر سے پہلے، تقریر میں تاخیر اور دیگر علمی عدم توازن کا باعث بن سکتا ہے۔
فون پر کاموں کے درمیان مسلسل سوئچ کرنے سے دماغ کی ورکنگ میموری میں خلل پڑتا ہے، جس سے توجہ مرکوز کرنا اور نئی چیزیں سیکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔
 زبان کے حصول اور سماجی ترقی کو متاثر کرتا ہے، بچے نئے الفاظ اور بات چیت کی مہارت سیکھنے میں دشواری محسوس کرسکتے ہیں۔
 نیند میں خلل اور علمی خرابی، اسکرین سے خارج ہونے والی نیلی روشنی ’’میلاٹونن‘‘ کی پیداوار کو روک سکتی ہے جس سے نیند کے مسائل جیسے کہ نیند آنے میں دشواری اور باربار بیدار ہونا، بچے اپنے آلات پر حد سے زیادہ انحصار کرسکتے ہیں جو ان کی آزادانہ طور پر سیکھنے اور دریافت کرنے کی صلاحیت میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
 یہ آلات ان کو الگ دنیا بنا کر دیتے ہیں۔ بچے اکیلے رہنا پسند کرتے ہیں۔ انہیں لوگوں کی صحبت پسند نہیں آتی۔ اگرچہ کہ وہ آن لائن لوگوں کے ساتھ میل ملاپ بڑھاتے ہیں مگر حقیقی دنیا کے لوگوں کے ساتھ گھلنے ملنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ بچے قدرتی ماحول سے دور ہوجاتے ہیں۔ بچوں میں جارحانہ رویہ نمو پاتا ہے۔
 جسمانی کھیل اور سرگرمیوں سے دور ہونے کی وجہ سے بچوں میں موٹاپا بڑھ رہا ہے۔
 ’’ریسرچر‘‘ سے ثابت ہوا ہے کہ موبائل ، آئی پیڈ ، لیپ ٹاپ کا بے جا استعمال دماغ کی  Neurotransmitt  متاثر ہوتے ہیں جیسے عام نشہ آور اشیاء دماغ پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ نیوروٹرانسمیٹر یعنی (عصبی پیغام رساں ) یہ ایک کیمیائی مادہ ہے جو دماغ کے خلیوں (Neurons) میں بنتا ہے اور ایک خلیے سے دوسرے خلیے میں عصبی پیغامات منتقل کرنے کا کام کرتا ہے۔ 
اس سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
  بچے آلات کے نشے میں مبتلا ہے اور آپ کو یہ مسئلہ جلد سے جلد حل کرنا لازم ہے۔ اس مسئلہ کو حل کس طرح کیا جائے؟ جانئے چند مؤثر طریقے:
 سب سے پہلے والدین کو چاہئے کہ وہ رول ماڈل بنیں اور موبائل کا بے جا استعمال کم کریں۔
 بچوں کو مختلف ان ڈور گیمز لاکر دیں اور ان کے ساتھ مل کر کھیلیں۔
 گھر میں نظم و ضبط کے اصول بنائیں، جیسا کہ ٹی وی، اسمارٹ فون کے استعمال کرنے کا وقت طے کیا جائے، تمام فیملی اس پر عمل کرے۔
 بچوں کو مختلف قسم کی جسمانی مصروفیات میں مشغول رکھیں۔
 بچوں کی موبائل کی سرگرمیوں کو نہایت باریکی سے دیکھنا چاہئے کیونکہ کئی ایپس ایسے ہوتے ہیں جو بچوں کے لئے کافی نقصاندہ ہوتے ہیں۔
 بچوں کو یہ بات سکھائیں کہ ان آلات کا استعمال اپنی شخصیات نکھارنے کیلئے کریں۔
 والدین بچوں کو عمر کے ابتدائی دور میں دینی معلومات کی جانب زیادہ راغب کریں۔
 بچپن سے کتابیں پڑھنے کا ذوق پیدا کریں۔
 سیر و تفریح کے لئے لے کر جائیں۔
 آوٹ ڈور ایکٹیوٹی زیادہ کروائیں۔
 بچوں کو وقت دیں، روزانہ ان کی باتیں سنیں۔
 ٹیکنالوجی کے ذیلی اثرات یا نقصانات ایک نہایت اہم چیز ہے جو والدین، خاص طور ماؤں کو سمجھ لینی چاہئے۔ والدین اپنے بچوں کی شخصیت کو نکھارتے جائیں تاکہ وہ سماج میں مثبت تبدیلیاں لاسکیں اور ذمہ دار شہری بن کر رہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK