عورت ہی وہ روشن چراغ ہے جو خاموشی سے جلتا رہتا ہے۔ مگر اس کی لوَ سے نسلوں کے راستے منور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ وہ کبھی ماں بن کر گود میں علم اور اخلاق کی بنیاد رکھتی ہے، کبھی بیٹی بن کر گھر میں خوشیاں لاتی ہے، کبھی بہن بن کر حوصلہ دیتی ہے اور کبھی بیوی بن کر پوری زندگی کا سہارا بن جاتی ہے۔
آج کی عورت گھریلو ذمے داریوں کے ساتھ ساتھ معاشی میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ تصویر: آئی این این
عورت قدرت کا وہ حسین اور بابرکت عطیہ ہے، جس کی ذات سے روشنی، محبت اور ہدایت سمٹ آتی ہے۔ وہ محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک مکمل عہد ہے جو وقت کی دھول میں بھی اپنی روشنی برقرار رکھتا ہے۔ عورت ہی وہ روشن چراغ ہے جو خاموشی سے جلتا رہتا ہے۔ مگر اس کی لوَ سے نسلوں کے راستے منور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ وہ کبھی ماں بن کر گود میں علم اور اخلاق کی بنیاد رکھتی ہے، کبھی بیٹی بن کر گھر میں خوشیاں لاتی ہے، کبھی بہن بن کر حوصلہ دیتی ہے اور کبھی بیوی بن کر پوری زندگی کا سہارا بن جاتی ہے۔
عورت صرف ایک فرد یا خاندان کا حصہ نہیں ہوتی بلکہ وہ پورے معاشرے کی بنیادی اینٹ اور اُسے تراشنے والی معمار ہوتی ہے۔ معاشرہ دراصل افراد کے مجموعہ کا نام ہے اور اِن افراد کی ذہنی، اخلاقی اور روحانی پرورش میں عورت کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے۔ ایک مضبوط، متوازن اور ترقی یافتہ معاشرہ ہمیشہ عورت کے مقام اور کردار کو تسلیم کرتا ہے۔ عورت کے دم ہی سے گھر میں رونق ہوتی ہے۔ اس کے سلیقے سے گھر مسکن بنتا ہے۔
عورت پہلی درسگاہ
بچے کی پہلی شناخت ماں کی گود سے ہوتی ہے۔ ماں کی بولی (زبان)، اس کا اخلاق، اس کی تربیت اور اس کا مزاج بچے کی شخصیت کی بنیاد بنتے ہیں۔ نیک اور باکردار ماں قوم کا مستقبل روشن کرتی ہے۔ ایک صابر، شاکر اور باعزت ماں ایسے ہی بچے کو جنم دیتی ہے جو آگے چل کر معاشرے کے مفید اور ذمے دار شہری بنتے ہیں۔
تعلیم یافتہ عورت، ترقی یافتہ معاشرہ
تعلیم عورت کی پہچان، اُس کی طاقت اور اُس کا ہتھیار ہے۔ پڑھی لکھی عورت سماج کو شعور، تہذیب، تربیت اور وقار دیتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کو مضبوط کردار اور بہترین مستقبل دیتی ہے۔ معاشرے کی ترقی میں عورت کی تعلیم بنیادی ستون کا درجہ رکھتی ہے۔
عورت کی
فہم و فراست: خاندان کی بنیاد
عورت میں صبر، برداشت اور معاملہ فہمی قدرتی طور پر موجود رہتی ہے۔ وہ مشکل وقت میں خاندان کو سہارا دیتی ہے اور رشتوں کو جوڑ کر رکھتی ہے۔ اُس کی دانشمندی گھر کو امن، محبت، خوشی اور سکون کا گہوارہ بناتی ہے۔
عورت بطور امن ساز
عورت کی ترقی، اندازِ گفتگو اور رویہ، میٹھی زبان خاندان میں امن کی فضا قائم کرتا ہے۔ وہ اختلافات اور ناسازگار ماحول کو اپنے اخلاق اور بہترین تربیت سے رشتے مضبوط کرتی ہے اور سب کے دلوں میں ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔ معاشرے میں امن کا اولین ذریعہ عورت کی تربیت اور مضبوط کردار ہے۔
تہذیب اور اقدار کی امین
زبان، ثقافت، روایات اور اخلاق سب عورت کے ذریعے نسلوں میں منتقل ہوتے ہیں۔ ادب، شائستگی، احترام ِ بزرگ اور انسانی قدریں ماں کی آغوش ہی سے پروان چڑھتی ہیں۔ اگر عورت میں مضبوط اقدار اور قدر و منزلت کا جذبہ موجود ہو تو پورا معاشرہ مہذب نظر آتا ہے۔
معاشرتی ترقی میں عورت کا کردار
آج کی عورت گھریلو ذمے داریوں کے ساتھ معاشی میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ ملازمت پیشہ خواتین بھی نہ صرف خاندان کو سہارا دیتی ہیں بلکہ ملکی معیشت میں بھی بخوبی کردار ادا کرتی ہیں۔ جب عورت معاشی اور سماجی طور پر مضبوط ہوتی ہے تو وہ اپنی اولاد کو بھی خوداعتمادی اور خودداری کے ساتھ جینے کا ہنر سکھاتی ہے۔
عورت کی محبت، ایثار اور قربانی
عورت محبت کا وہ سمندر ہے جو رشتوں کو جوڑ کر رکھتا ہے، ماں کی محبت، بہن کا پیار، بیٹی کی معصومیت اور بیوی کی وفا داری یہ سب معاشرے میں سکون، امن اور طمانیت پیدا کرتے ہیں۔ عورت کی قربانی معاشرتی محبت کی اساس ہے۔
عورت بطور رہنما
عورت اپنی دور اندیشی اور حساسیت کی وجہ سے ایک بہترین لیڈر ثابت ہوتی ہے وہ مسائل کو جذبات اور حکمت سے حل کرتی ہے۔ اُس کی قیادت انسان دوستی، انصاف اور حساسیت کا حسین امتزاج ہوتی ہے۔
روحانی و اخلاقی تربیت کا محور
عورت گھر کی روحانی اور اخلاقی بنیادوں کو مضبوط کرتی ہے۔ وہ بچوں کے دلوں میں اللہ کا خوف، سچائی، محنت اور انسانیت کا بیج بوتی ہے۔ اسی تربیت سے ایک امن پسند معاشرہ جنم لیتا ہے۔
عورت ایک فرد نہیں بلکہ وہ نسلوں کی معمار ہے وہ گھر کی بنیاد بھی ہے اور سماج کی روح بھی۔ اگر معاشرہ عورت کو عزت، تحفظ تعلیم اور مواقع دے تو وہ آنے والی نسلوں کا مستقبل روشن کرسکتی ہے۔ ایک بہترین معاشرے کی اصل بنیاد اور معمار حقیقت میں عورت ہی ہوتی ہے۔ اس لئے عورت کا تعلیم یافتہ ہونا بھی ضروری ہے۔