Inquilab Logo Happiest Places to Work

پولینڈ اور یوکرین کی ’’اعزازات‘‘ کی جنگ شدت اختیار کرگئی

Updated: June 22, 2026, 9:23 AM IST | Kyiv

پولینڈ اور یوکرین کے مابین جاری ’’اعزازات‘‘ کی جنگ شدت اختیار کرگئی، پولینڈ کے صدر کے اپنے یوکرینی ہم منصب کو ملک کے اعلیٰ ترین ریاستی اعزاز سے محروم کرنے کے بعد، موجودہ اور سابق یوکرینی عہدیدار اپنے اپنے اعزازات واپس کر رہے ہیں۔

Ukrainian President Volodymyr Zelensky. Photo: INN
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی۔ تصویر: آئی این این

موجودہ اور سابق یوکرینی عہدیداران پولینڈ کی طرف سے دیے گئے اعزازات واپس کرنے جا رہے ہیں جبکہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی کو پولینڈکے اعلیٰ ترین ریاستی اعزاز سے محروم کر دیا گیا ہے۔ کیف اور وارسا کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب زیلینسکی نے دوسری جنگ عظیم کے متنازع یوکرینی باغی فوج (UPA) کے نام پر ایک فوجی یونٹ کا نام رکھا۔اس اقدام کے جواب میں، پولینڈ کے انتہائی دائیں بازو کے صدر، کارول ناوروکی نے اعلان کیا کہ وہ زیلینسکی کو آرڈر آف دی وائٹ ایگل (عقاب سفید کا اعزاز) سے محروم کر رہے ہیں۔جس کےبعد سنیچر کو زیلینسکی نے کہا کہ انہوں نے یہ اعزاز پولینڈ واپس بھیج دیا ہے، اور سوشل میڈیا پر ایک تصویر پوسٹ کی جس میں اسے پیک کیا جا رہا تھا تاکہ بھیجا جا سکے۔انہوں نے لکھا، ’’ہم یقین رکھتے تھے کہ۲۰۲۳ء میں دیا گیا’’ آرڈر آف دی وائٹ ایگل‘‘ یوکرینی عوام اور ہماری فوج کے لیے تھا،یوکرین اپنی حمایت اور تعاون پر پولش عوام کا شکرگزار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: برطانوی وزیراعظم پیر کو استعفیٰ کا اعلان کر سکتے ہیں: رپورٹ

بعد ازاں ناوروکی نے اصرار کیا کہ یہ فیصلہ یوکرینی عوام کے خلاف نہیں ہے اور پولینڈ یوکرین کی حمایت جاری رکھے گا۔اس کے باوجود، یوکرین میں بہت سے لوگوں نے ناوروکی کے اس اقدام کو حملہ قرار دیا۔یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیحا نے سب سے پہلے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ ،’’کمانڈر کراس ود اسٹار آف دی آرڈر آف میرٹ آف دی ری پبلک آف پولینڈ ‘‘(پولینڈ کی ریپبلک کے اعزاز کا صلیب و ستارہ) واپس کریں گے، جو انہیں۲۰۲۲ء میں ملا تھا۔یوکرینی صدارتی دفتر کے سربراہ کریلو بودانوف اور یوکرین کے پولینڈ میں سفیر واسیل بودنار نے بھی اپنے ’’آفیسر کراسز آف دی آرڈر آف میرٹ ‘‘واپس کر دیے۔ اس کے علاوہ آزاد یوکرین کے دوسرے، تیسرے اور پانچویں صدور لیونید کوچما ، وکٹر یوشچینکو اور پیٹرو پوروشینکونے بھی اعلان کیا کہ وہ اپنے’’ آرڈر آف دی وائٹ ایگل ،‘‘کے اعزازات ترک کر رہے ہیں۔جبکہ پوروشینکو نے واضح کیا کہ انہوں نے پولش صدر کے اقدام کے ردعمل میں یہ فیصلہ کیا ہے، لیکن یہ کسی بھی طرح پولش عوام کے خلاف نہیں ہے۔ یوشچینکو نے بھی زور دیا کہ وہ زیلینسکی اور یوکرینی فوج کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ ناوروکی کے فیصلے کو ’’غیر ذمہ دارانہ‘‘قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: لبنان مذاکرات کا مرکزی موضوع ہوگا: سویٹزرلینڈ میں مذاکرات سے قبل تہران کا بیان

واضح رہے کہ ۲۷؍ مئی کو، ولادیمیر زیلینسکی نے ایک فرمان پر دستخط کیے جس میں یوکرین کی اسپیشل آپریشنز فورسیزکے آزاد اسپیشل آپریشن سینٹر نارتھ کا نام ’’ہیروز آف دی یو پی اے‘‘  رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ ’’قومی فوج کی تاریخی روایات کو بحال کرنے اور یوکرین کی علاقائی سالمیت اور آزادی کے دفاع میں تفویض کردہ مشن کی مثالی انجام دہی کے پیش نظرکیا ہے۔‘‘ دراصل یوکرینی باغی فوج، یا یو پی اے ایک یوکرینی گوریلا فورس تھی جو اکتوبر۱۹۴۲ء میں شمال مغربی یوکرین کے علاقے وولہینیا میں قائم ہوئی تھی۔ یہ آرگنائزیشن آف یوکرینین نیشنلسٹس (OUN-B) کا فوجی ونگ تھی، جو اسٹیپن باندرا کی قیادت میں ایک انتہائی قوم پرست تحریک تھی۔جرمن فوج اور سوویت افواج دونوں کے خلاف لڑتے ہوئے، اس تنظیم نے وولہینیا میں پولش آبادی کے قتل عام کیے تھے۔ چناچہ زیلینسکی کے فیصلہ پولینڈ میں خاصا برا اثر ہوا، اور ناوروکی نے کہا کہ انہیں اس اقدام سے شدید افسوس ہوا۔انہوں نے جمعہ کو کہا کہ ’’اس طرح آپ قوموں کے درمیان تعلقات نہیں بناتے،‘‘اور مزید کہا کہ یو پی اے کی ستائش روسی پروپیگنڈا کو غلط معلومات پھیلانے کے لیے بہت زیادہ آکسیجن فراہم کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’بریکنگ بیڈ ‘‘کے اداکار جیان کارلو ایسپوزیٹو کا قبول اسلام ،نماز کا ویڈیو وائرل

پولش صدر نے سنیچر کو اپنے مؤقف میں وزن پیدا کرتے ہوئے زیلینسکی سے آرڈر آف دی وائٹ ایگل واپس لینےکا فیصلہ کیا اور کہا کہ ان کے اقدامات حد سے تجاوز کر گئے تھے۔ تاہم کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ تعلقات کے اس بگاڑ سے صرف روس کو فائدہ ہوگا۔یاد رہے کہ پولینڈ فروری۲۰۲۲ء میں روس کے مکمل حملے کے آغاز سے ہی یوکرین کا ایک اہم اتحادی رہا ہے، جس نے سیکڑوں ہزاروں مہاجرین کو پناہ دی اور کیف کے لیے مغربی امداد کے لاجسٹک مرکز کے طور پر کام کیا۔پولش وزیر خارجہ رادوسلاو سیکورسکی نے کہا کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ تاریخی تناظر میں، پولش-یوکرینی تنازع سے صرف روس ہی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔سیکورسکی نے اخبار اونیت کے کالم نگار ویتولڈ یوراش کا ایک تبصرہ شیئر کیا، جس میں کہا گیا کہ ولادیمیر زیلینسکی کو آرڈر آف دی وائٹ ایگل سے محروم کر کے ناوروکی نے یقیناً اخلاقی فتح تو حاصل کی لیکن انہیں ایک شکست بھی ہوئی  اور اس کے ساتھ، پولینڈ کو بھی مجموعی طور پر نقصان اٹھانا پڑا۔پولش وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک، جن کی حکومت ناوروکی کے ساتھ متصادم ہے، نے زیلینسکی کے فیصلے پر تنقید کی، نہوں نے دونوں قوموں سے اپیل کی کہ وہ اپنی یکجہتی نہ کھوئیں اور’’تاریخ کو ہمارا مستقبل برباد نہ کرنے دیں۔‘‘اپنی طرف سے، یوکرینی وزیر خارجہ آندری سیبیحا، جنہوں نے اس سے قبل پولش صدر کے فیصلے کو ’’ایک اسٹریٹجک غلطی... جس سے صرف روس کو فائدہ ہوگا‘‘قرار دیا تھا، نے ان پولس کا شکریہ ادا کیا جو یوکرین کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کی حمایت نہیں کرتے۔انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا، ’’میں ہر اس پولش شخص کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے یوکرین کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کے خلاف واضح موقف اختیار کیا۔ ہم اسی نقطہ نظر کے پختہ حامی ہیں،ہم دانشمند قومیں ہیں، جو ہمیشہ مشکل صورتحال سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کے قابل ہیں۔ ہم ایک مشکل تاریخ، ایک مشترکہ مستقبل، اور اپنے دیرینہ دشمن ماسکو کے خطرے سے جڑے ہوئے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایران کا اشارہ: غزہ وسیع تر علاقائی امن کوششوں کا حصہ بن سکتا ہے

دوسری جانب روسی عہدیداران جنہوں نے بار بار دوسری جنگ عظیم کا حوالہ یہ کہہ کر اپنے حملے کا جواز پیش کیا ہے کہ یہ یوکرین میں ’’نیونازیوں‘‘کے خلاف جنگ ہے ،نے ناوروکی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔روس کے سابق صدر اور موجودہ سکیورٹی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدیویدیف نے کہا: ’’پولش صدر نے بالآخر (زیلینسکی) کو آرڈر آف دی وائٹ ایگل سے محروم کر دیا ہے۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK